دنیا کے ہر ملک کا قومی ترانہ صرف الفاظ اور موسیقی کا امتزاج نہیں، بلکہ اس کی قومی شناخت، اجتماعی شعور اور حب الوطنی کا جیتا جاگتا استعارہ ہوتا ہے۔ جب قومی ترانے کی دھن فضاؤں میں گونجتی ہے تو احتراماً سر جھک جاتے ہیں، دلوں میں وطن کی محبت موجزن ہو جاتی ہے اور قومی یکجہتی کا احساس تازہ ہو اٹھتا ہے۔
قدیم زمانے میں لشکروں کے حوصلے بلند رکھنے کے لیے ڈھول، نقارے اور بگل بجائے جاتے تھے۔ وقت کے ساتھ یہی جنگی دھنیں شاعری سے آشنا ہو کر قومی ترانوں کی شکل اختیار کر گئیں۔ برطانیہ کا قومی ترانہ دنیا کا پہلا باضابطہ قومی ترانہ سمجھا جاتا ہے، جو اٹھارویں صدی کے وسط میں مقبول ہوا۔ نیدرلینڈ اور فرانس کے قومی ترانے بھی قدیم ترین ترانوں میں شمار ہوتے ہیں۔ خصوصاً انقلابِ فرانس کے دوران فرانسیسی ترانے نے عوام میں ایسا ولولہ پیدا کیا کہ اس کی بازگشت پورے یورپ میں سنائی دی۔
انیسویں اور بیسیویں صدی میں جب نوآبادیاتی نظام کا خاتمہ ہوا اور نئی آزاد ریاستیں وجود میں آئیں تو ہر ملک نے اپنی قومی شناخت کے اظہار کے لیے قومی ترانہ اختیار کیا۔ اولمپکس، بین الاقوامی کانفرنسوں اور سفارتی تقریبات نے بھی قومی ترانے کی اہمیت کو مزید مستحکم کر دیا۔
قیامِ پاکستان کے بعد یہ امید کی جا رہی تھی کہ جلد ہی قومی ترانہ بھی مرتب ہو جائے گا، مگر اس سفر کو تقریباً سات برس درکار ہوئے۔ اسی دوران یہ دعویٰ بھی گردش کرتا رہا کہ قائداعظم محمد علی جناح نے پہلا قومی ترانہ جگن ناتھ آزاد سے لکھوایا تھا، تاہم اس دعوے کے حق میں کوئی مستند سرکاری یا تاریخی ثبوت موجود نہیں۔
حکومتِ پاکستان نے قومی ترانے کی تیاری کے لیے ایک خصوصی کمیٹی قائم کی۔ 1949ء میں نامور موسیقار احمد جی چھاگلہ نے اس کی دھن ترتیب دی۔ اس دھن کا وقار اور شان ایسی تھی کہ 1950ء میں شاہِ ایران کے دورۂ پاکستان کے موقع پر اسے پہلی مرتبہ بغیر الفاظ کے پیش کیا گیا۔ بعدازاں ملک بھر کے ممتاز شعرا کو اسی دھن پر ترانہ لکھنے کی دعوت دی گئی۔ متعدد تخلیقات میں سے 1952ء میں ابوالاثر حفیظ جالندھری کا کلام منتخب ہوا۔ انہوں نے دھن کے زیر و بم سے مکمل ہم آہنگی رکھتے ہوئے ایسے الفاظ تخلیق کیے جو فصاحت، بلاغت اور معنوی گہرائی کا حسین امتزاج ہیں۔ بالآخر 4 اگست 1954ء کو اسے پاکستان کا سرکاری قومی ترانہ قرار دے دیا گیا۔
اکثر یہ سوال بھی اٹھایا جاتا ہے کہ قومی ترانے میں صرف ایک لفظ “کا” اردو کا ہے، جبکہ باقی الفاظ فارسی الاصل ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اردو مختلف زبانوں کے حسین امتزاج سے وجود میں آنے والی زبان ہے اور یہ تمام الفاظ صدیوں سے اس کے ذخیرۂ الفاظ کا حصہ ہیں، اس لیے اس بحث کی لسانی اہمیت تو ہو سکتی ہے، قومی نہیں۔
صرف تین بندوں اور پندرہ مصرعوں پر مشتمل پاکستان کا قومی ترانہ اختصار کے باوجود اتحاد، ایمان، عزم اور قومی وقار کا بھرپور ترجمان ہے۔ احمد جی چھاگلہ کی لازوال دھن اور ابوالاثر حفیظ جالندھری کے پُراثر الفاظ نے ایک ایسا شاہکار تخلیق کیا جو نسل در نسل پاکستانیوں کے جذبات کی ترجمانی کرتا رہے گا۔ جب سبز ہلالی پرچم سربلند ہوتا ہے اور قومی ترانے کی دل نشیں دھن فضا میں بکھرتی ہے تو ہر پاکستانی کا سر فخر سے بلند ہو جاتا ہے۔ یہی کسی قومی ترانے کی حقیقی عظمت اور اس کے تخلیق کاروں کے لیے بہترین خراجِ تحسین ہے۔