
جشنِ آزادی اور تحریک آزادی پاکستان میں علماء دیوبند کا کردار
از قلم: ابوبکر صدیق کوہاٹی
ماہِ اگست کی ابتدا ہوچکی ہے اور 14 اگست دن بہ دن قریب ہوتا جا رہا ہے۔ یہ وہ دن ہے جس میں اللہ رب العزت نے ہمیں پاکستان جیسی عظیم نعمت سے نوازا تھا۔ اور اس دن رمضان المبارک کا مبارک مہینہ اپنے رحمتوں اور برکتوں کے ساتھ اپنے نور کا جلوہ بکھیر رہا تھا، ظاہر ہے جس ملک کےلیے اتنی قربانیاں دی گئیں، لوگ ذبح ہوئے، کٹتے رہے، لٹتے رہے، جس کےلیے علماءِ کرام نے اپنا خون پسینہ ایک کرکے محنت و مشقت کی اور تن من دھن کی بازی لگا دی، اس پر مالکِ ارض و سما کا جتنا شکریہ ادا کیا جائے کم ہے۔
مگر آج ہم نے پاکستان کا کیا حال بنا دیا ہے؟ پھر بھی اللہ تعالی کا فضل ہے کہ اس قدر سازشوں، شرارتوں اور حماقتوں کے باوجود پاکستان آج بھی محفوظ ہے، مگر صرف تنقید کرنے اور عیب گننے سے بات نہیں بنے گی، صرف ماتم کرنے اور شکوؤں کی فہرست بنانے سے بھی کام نہیں چلے گا، بلکہ اصل سوچنے کی بات یہ ہے کہ ہم میں سے ہر ایک نے اب تک کیا کیا ہے اور آئندہ ہم نے کیا کرنا ہے؟
یہ بات درست ہے کہ ہم پر انگریز کے غلاموں کی حکومت چلی آرہی ہے۔
یہ بات درست ہے کہ پاکستان کی کسی بھی حکومت نے بھی اسلام کے ساتھ وفاداری نہیں کی۔
یہ بات درست ہے کہ پاکستان دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے محافظ اور نمائندہ ملک نہیں بن سکا۔
یہ بات درست ہے کہ پاکستان مسلمانوں کے خلاف کافروں کے کام آرہا ہے۔
یہ بات درست ہے کہ پاکستان کے حکمران اپنی ذات اور اپنی اقتدار کی پجاری ہیں۔
یہ بات درست ہے کہ پاکستان میں بے حیائی کو سرکاری طور پر فروغ دیا جا رہا ہے۔
یہ بات درست ہے کہ پاکستان کا سیاسی نظام ذلت اور ابتری کا شکار ہے۔
یہ بات درست ہے کہ پاکستان میں مہنگائی نے غریبوں کی کمر توڑ رکھی ہے۔
یہ بات بھی درست ہے کہ پاکستان کے بچے اور شہری چند نوٹوں کے عوض دنیا بھر میں فروخت ہو رہے ہیں۔
یہ سب کچھ درست، اور بھی بہت کچھ درست ہے، مگر سوال یہ ہے کہ میں بھی تو ایک پاکستانی ہوں۔ میں نے اب تک کیا کیا ہے؟ اور مجھے آئندہ کیا کرنا ہے؟
آئیے اس سال 14 اگست کو ”خود احتسابی“ کا جشن مناتے ہیں۔
ہاں! ہم اپنا احتساب کرتے ہیں، صرف اپنا، وہ بھی گھر یا بازار میں نہیں، کسی مسجد میں جا کر، پاک کپڑے پہن کر، باوضو ہو کر، دو رکعت ادا کرکے، محبت والے چار سجدے کرکے، ہم خود سے پوچھیں کہ ہم نے اب تک آزادی کا کیا فائدہ اٹھایا ہے؟
اور ہم آئندہ کیا کرنے کا عزم رکھتے ہیں؟
*تحریک پاکستان میں علماء دیوبند کا کردار*
یہ حقیقت کسی سے پوشیدہ نہیں کہ پاکستان اسلام کے نام پر معرضِ وجود میں آیا۔ پاکستان کا مطلب تھا ”لا الہ الا اللہ“ کا نعرہ بلند کرتے ہوئے آزاد ہونا، اور بانی پاکستان اور دیگر زعماء ملت کے بیانات اس امر کے گواہ ہیں کہ اس مملکت کی بنیاد اور ہندوستان کی تقسیم کا مقصد نفاذِ اسلام ہی تھا۔
اس لیے حضرات علماء کرام رحمہم اللہ نے اس تحریک میں بھرپور حصہ لیا، اور عوام نے ان اہلِ علم پر بھرپور اعتماد کیا۔ لوگوں نے پاکستان کےلیے بے شمار قربانیاں دیں، اور بالآخر پاکستان کو کامیابی سے ہم کنار کیا، اس طرح ایک عظیم الشان مملکت معرضِ وجود میں آئی۔
اگرچہ تحریک پاکستان میں مختلف علماء اور سیاسی جماعتوں کی قربانیاں شامل ہیں، مگر یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ سب سے نمایاں کردار و خدمات علماء دیوبند کے ہی رہی رہے۔
علماء دیوبند کا وہ طبقہ جو پاکستان کے حق میں تھا، اس میں حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ، مفتی محمد شفیع صاحب، علامہ شبیر احمد عثمانی صاحب اور علامہ ظفر احمد عثمانی صاحب رحمہم اللہ جیسے بزرگ شامل تھے، انہوں نے تحریک پاکستان میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور جمیعت علمائے اسلام کے پلیٹ فارم سے مسلم لیگ کی بھر پور حمایت کی، جس سے انکار ممکن نہیں۔
حضرت تھانوی صاحب رحمہ اللہ نے صرف پاکستان کے قیام کےلیے نظریاتی خاکہ پیش کرنے تک محدود نہ رہے بلکہ اس کےلیے عملی جدوجہد بھی اسی زمانے میں شروع کردی تھی۔ سب سے پہلے آپ نے ہندوستان میں اسلامی قوانین کے نفاذ کی مہم چلائی۔ یہ تمام امور آپ کو ”سیرتِ اشرف“ کے باب ”آئینی سرگرمیاں“ میں ملیں گے۔
کانگرس کے خلاف اور مسلم لیگ کی حمایت میں بھی جماعت علماء میں سے دربار اشرفیہ نے سب سے پہلے اعلان جاری کیا۔ جس کی تفصیل آپ ”سیرتِ اشرف“ کے باب ”سیاسی کشمکش“ میں پڑھ سکتے ہیں۔
سب سے پہلے حضرت حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانویؒ نے مسلم لیگ کی تطہیر اور قائد اعظم میں تدین پیدا کرنے کی کوشش کی، جس کی تفصیل آپ کو ”تدین قائد اعظم“ کے باب میں ملے گی۔
یہ چند علماء کے نام ہیں جنہیں صفحہ قرطاس کی زینت بنایا گیا، ورنہ علماء دیوبند کے ساتھ ساتھ دیگر مختلف مکاتب فکر کے دیگر علماء کرام کی قربانیاں اتنی ہیں کہ ان سب کو جمع اور تحریر کرنے میں بہت وقت درکار ہوگا، جو فی الحال میسر نہیں۔
ان چند سطروں کا مقصد تحریک پاکستان میں علماء کرام کی خدمات اور جشن آزادی کے صحیح مفہوم کی طرف ایک مختصر جھلک اور اشارہ دینا تھا، جس پر مفصل کلام کرنے کی گنجائش اور ضرورت دونوں موجود ہے۔
یہ چند نکات تھے جنہیں زبان کہہ سکی اور قلم لکھ سکا۔
رب لم یزل سے دعا ہے کہ ہمیں اس وطن عزیز کو استحقاق، ترقی اور خوشحالی عطاء فرمائیں، اور اسے صحیح معنوں میں دارِ اسلام بنائیں، اور ہم سب کو اپنی اور اپنے اہل و عیال کی اصلاح کی فکر بھی عنایت فرمائیں۔ آمین ثم آمین۔