
ماں محبت کا درس دیتی ہے،
عنوان: *” ایک طالب علم کا پیغام وطن کے نام”*
از قلم: *حسیبہ انور*
وطن صرف زمین کا ٹکڑا نہیں ہوتا ۔بلکہ یہ ہماری شناخت۔ ہمارا مان۔ اور ہمارے خوابوں کا مرکز ہوتا ہے۔ وطن ایک ایسی نعمت ہے جسکا نعم البدل ممکن نہیں۔ وطن ماں کی طرح ہوتا ہے۔ جو اپنے بچوں کو تحفظ دیتا ہے ۔ ہم پاکستانی طلبہ خوش نصیب ہیں کہ ہمیں ایک آزاد ملک ملا ۔ جسکی بنیاد۔ قربانی۔ ایثار اور جہدوجہد پر رکھی گئ۔ ایک طالب علم صرف کتابوں میں الجھا ہوا فرد نہیں ؛ بلکہ وہ مستقبل کا معمار ہوتا ہے ۔
میرا پیغام اپنے وطن پاکستان کے لیے ہے ۔ محبت۔ خلوص۔ قربانی کا پیغام ۔
*اے میرے وطن!*
تو میرے رب کی عطاء کردہ نعمت ہے ۔ مجھے تیرا شکر ادا کرنا چاہیئے ۔ اور شکر کا طریقہ یہی ہے کہ میں علم حاصل کروں ۔عمل کروں۔ اور تجھے ترقی کی راہ پر گامزن کروں ۔
قرآن پاک کا پہلا پیغام ہمیں یہی بتاتا ہے کہ ترقی کی بنیاد علم ہے۔
*اقرَاء باسم ربک الذی خلق*
(پڑھو اپنے رب کے نام سے جو نے پیدا کیا ۔)
میں بطورِ طالب علم کے وعدہ کرتی ہوں کہ میں تعلیم کو صرف دنیاوی فائدے کے لیے نہیں بلکہ وطن کی خدمت کے لیے حاصل کروں گی ۔ ایک طالب علم کا سب سے بڑا ہتھیار تعلیم ہے ۔ میرا وعدہ ہے وطن سے کہ میں اپنی تعلیم ۔ اخلاق ۔ اور کردار سے اسے فخر کا نام دوں گی۔
*اے میرے پیارے وطن!*
میں تجھے مایوس نہیں کروں گی۔
میں تیرے لیے پڑھوں گی۔ محنت کروں گی ۔ حق سچ پر کھڑی رہوں گئ۔ اور ہر اس سازش کے خلاف آواز اٹھاوں گی جو تجھے کمزور کرنا چاہتے ہیں ۔
میرا خواب ہے ایک ایسا پاکستان بنے جہاں ہر بچہ تعلیم یافتہ ہو ۔ ہر خاتون محفوظ ہو۔ ہر نوجوان کو روز گار ملے ۔ اور ہو شہری کو انصاف کیسے ہو۔ یہ خواب صرف تب پورا ہوگا جب ہم مطالبہ نہیں بلکہ عملی اقدامات کریں گے۔
*قائدِ اعظم محمد علی جناح کے تین الفاظ —*
*اتحاد ۔ یقین۔ قربانی*
ہر طالبِ علم کا نصب العین ہونا چاہیے ۔
میرا پیغام ہے کہ ہم تمام پاکستانی چاہئے کسی بھی زبان ٬ قوم یا فرقے سے ہوں،
ایک پرچم تلے متحد رہیں ۔ میں نفرت کو نہیں بلکہ محبت کو فروغ دوں گی۔
میں کسی کی ذات ، زبان، یا مسلک پر نہیں بلکہ عزت دوں گی کیونکہ ایک متحد قوم ہی مضبوط وطن کی بنیاد ہوتی ہے۔
آج وطن کو کئی مسائل کا سامنا ہے۔ مہنگائی ، بے روز گاری ، بدامنی، تعلیم کی کمی ، بیرونی سازشیں، اور کرپشن جیسے مسائل کا شکار ہے۔
لیکن میں مایوس نہیں ۔ میں ، اور مجھ جیسے لاکھوں طالب علم ، تیری امید ہیں ،
ہم تیرے اندھیرے ماضی کو روشن مستقبل میں بدل سکتے ہیں ۔ اور متحد ہوکر ، تعلیم اور شعور کے ساتھ مقابلہ کریں۔
*اے میرے پیارے وطن!*
اسلام ہمیں سکھاتا ہے کہ علم، دیانت ، اخلاص اور اتحاد سے قومیں بنتی ہیں۔
*قرآن پاک کہتا ہے!*
ان اللہ لا یغیر ما بقوم حتیٰ یغیروا ما بانفسھم :
(بشک اللہ پاک اس قوم کی حالت نہیں بدلتے جب تک وہ خود اپنی حالت نہیں بدلتے)
*اے میرے وطن! یہی میرا پیغام ہے ۔*
میں خود کو بدلوں گئ ۔ اپنی سوچ کو سنواروں گی، تاکہ تو سنور جاۓ۔
میں ترقی واریت، نفرت، اور تعصب کو رد کرکے محبت، بھائ چارے کو فروغ دوں گی ۔ میں صرف ڈگری نہیں بلکہ کردار کی طالبہ بنوں گئ۔
*اے میرے وطن!*
تیری حفاظت، کے لئے جئیں گے اور تجھے ترقی یافتہ ، خوشحال اور پر امن ملک بنانے کے لیے دن رات محنت کریں گے ۔ ھم وہ نسل ہیں جو تجھے مایوس نہیں کریں گے ۔ تونے مجھے شناخت دی، آزادی دی، پرچم دیا ، اب میری باری ہے ۔ میں ایسی طالبہ بنوں گی ، جو تجھے دنیا میں فخر سے بلند کرے ۔ تیری مٹی کو محبت سے سنوارے اور ہر قربانی کے لیے تیار رہوں گئ ۔
*پاکستان ذندہ باد*