عنوان: ابتدائی تعلیم یا ابتدائی کاروبار؟
کالم نگار: پروفیسر عبدالنافع
“بچوں کے لیے اصل درسگاہ گھر کی محبت اور اقدار ہیں، اسکول اس سفر کا سہارا ہو سکتے ہیں، متبادل نہیں۔”
پاکستان میں پچھلے دو دہائیوں کے دوران ایک نمایاں میلان ابھر کر سامنے آیا ہے کہ والدین اپنے بچوں کو محض تین سال کی عمر میں ہی مونٹیسوری یا پری اسکول میں داخل کروا رہے ہیں۔ کبھی یہ عمر گھر کے صحن، نانی دادی کی کہانیوں، کھیل اور خاندانی اقدار کو جذب کرنے کے لیے مخصوص سمجھی جاتی تھی، مگر اب یہی عمر اسکول کے بستے اور کلاس روم کی کرسیوں میں گزاری جانے لگی ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا اتنی کم عمری میں بچوں کو اسکول بھیجنا واقعی مفید ہے یا اصل چیز معیارِ تعلیم ہے؟ اور کیا پری اسکولز واقعی بچوں کی نشوونما میں مددگار ہیں یا صرف زرِ منفعت کے غلبے میں ڈھل چکے ہیں؟
اعداد و شمار اس بحث کو مزید واضح کرتے ہیں۔ 2023–24 کے سرکاری اعداد کے مطابق پاکستان میں پری پرائمری سطح پر تقریباً 9.6 ملین بچے داخل ہیں، جن میں شہری علاقوں کے بچے زیادہ اور دیہی علاقوں کے بچے نسبتاً کم ہیں۔ دیہی علاقوں میں اب بھی بڑی تعداد میں بچے کسی بھی پری اسکول یا تعلیمی ادارے میں داخل نہیں ہوتے۔ کچھ رپورٹس کے مطابق دیہات میں تین سے پانچ سال کے تقریباً 57 فیصد بچے تعلیم سے باہر ہیں۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ ایک طرف بڑے شہروں میں والدین بچوں کو ابتدائی تعلیم دلوانے کے لیے مضطرب ہیں اور دوسری طرف دور دراز علاقوں میں ابھی تک یہ سہولت پہنچی ہی نہیں۔
پاکستان میں مونٹیسوری نظام کا آغاز آزادی کے فوراً بعد ہوا جب 1949 میں کراچی میں پاکستان مونٹیسوری ایسوسی ایشن قائم ہوئی۔ اس کے بعد بڑے شہروں میں آہستہ آہستہ یہ میلان پھیلا مگر تیزی سے فروغ نوے اور دو ہزار کی دہائی کے بعد ہوا جب نجی اسکولوں نے پری اسکول کو کاروباری ماڈل کے طور پر اپنانا شروع کیا۔ آج صورتحال یہ ہے کہ شہروں میں والدین سمجھتے ہیں کہ اگر بچے کو تین سال کی عمر میں سکول نہ بھیجا تو وہ تعلیمی دوڑ میں پیچھے رہ جائے گا۔
عالمی تناظر میں دیکھا جائے تو پاکستان میں میلان زیادہ جلدی اپنایا گیا ہے۔ او ای سی ڈی کے ممالک میں عمومی طور پر چار یا پانچ سال کی عمر میں باقاعدہ پری اسکولنگ شروع ہوتی ہے۔ بنگلہ دیش اور بھارت میں بھی چار سال سے کم عمر کے بچوں کی بڑی تعداد ابھی بھی گھروں میں رہتی ہے، جبکہ وہاں کی حکومتیں زیادہ تر پانچ سال کے بعد داخلے پر زور دیتی ہیں۔ اس کے برعکس پاکستان کے شہری طبقے میں جلدی آغاز کو ’’برتری‘‘ سمجھا جانے لگا ہے۔
تحقیقی نتائج دلچسپ ہیں۔ سندھ کے دیہی علاقوں میں ’’لیپس‘‘ نامی پروگرام کے تحت تین سے پانچ سال کے بچوں کو کمیونٹی بیسڈ پری اسکولز میں داخل کیا گیا۔ ان بچوں کی تیاری اور صلاحیتوں کا جائزہ لینے پر معلوم ہوا کہ وہ بچے جو ان اسکولوں میں گئے، سماجی رویوں، ابتدائی ریاضی و زبان، اور موٹر اسکلز میں نمایاں بہتر تھے بہ نسبت ان بچوں کے جو گھر پر رہے۔ سائنسی طور پر ان کے نتائج میں تقریباً 0.30 پوائنٹس کا فرق آیا جو تعلیمی تحقیق میں ایک مضبوط اثر سمجھا جاتا ہے۔ اس سے یہ نتیجہ نکلا کہ جب پری اسکول معیار کے مطابق ہو تو تین سال کی عمر میں آغاز واقعی فائدہ مند ہو سکتا ہے۔
لیکن سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان کے تمام پری اسکول اسی معیار پر پورے اترتے ہیں؟ بدقسمتی سے حقیقت اس کے برعکس ہے۔ فیصل آباد میں سرکاری پری اسکولز پر ہونے والی ایک تحقیق نے بتایا کہ تربیت یافتہ اساتذہ کی کمی، ناکافی سہولیات اور کمزور نصاب کے باعث نتائج محدود ہیں۔ اسی طرح پنجاب میں نجی اور سرکاری پری اسکولز کے تقابلی جائزے سے پتا چلا کہ کلاس روم کے سائز، اساتذہ اور بچوں کے تناسب، اور تدریسی مواد میں بہت زیادہ فرق ہے۔
ان حقائق کے پیش نظر یہ کہنا درست ہے کہ اصل چیز ’’عمر‘‘ نہیں بلکہ ’’معیار‘‘ ہے۔ اگر تین سال کا بچہ ایسے پری اسکول میں جائے جہاں محض اے بی سی یا گنتی رٹائی جاتی ہو اور کھیل، کہانی اور جذباتی تربیت کو نظر انداز کر دیا جائے تو اس کا فائدہ کم اور نقصان زیادہ ہے۔ بچے دباؤ کا شکار ہو سکتے ہیں، ان کی تخلیقی صلاحیتیں متاثر ہو سکتی ہیں اور وہ خاندانی اقدار و محبت سے دور ہو سکتے ہیں۔ دوسری طرف اگر پری اسکول میں تربیت یافتہ اساتذہ، کھیل پر مبنی نصاب، صحت مند ماحول، اور والدین کے ساتھ تعاون شامل ہو تو یہ بچے کے لیے بہترین آغاز بن سکتا ہے۔
ایک اور اہم تشویش تجارتی پہلو ہے۔ پاکستان کے بیشتر نجی پری اسکولز اب کاروباری مراکز کی شکل اختیار کر گئے ہیں۔ فیسیں بہت زیادہ ہیں، نصاب کا معیار یکساں نہیں اور والدین کے ذہنوں میں یہ وہم بٹھایا جاتا ہے کہ اگر بچہ مہنگے پری اسکول میں نہیں گیا تو وہ آگے پیچھے رہ جائے گا۔ اس سوچ نے والدین کو مالی بوجھ تلے دبا دیا ہے اور بچوں کی تعلیم کو نفع کمانے کا ذریعہ بنا دیا ہے۔
دیہی علاقوں کا حال اس سے مختلف ہے۔ وہاں زیادہ تر بچے پری اسکول تک رسائی نہیں رکھتے، لیکن وہ گھر میں دادی نانی یا خاندان کے دوسرے افراد کے زیر سایہ پرورش پاتے ہیں۔ ان کے اندر خاندانی اقدار، کہانیاں، زبان و ثقافت بہتر طور پر منتقل ہوتی ہیں۔ تاہم سماجی رویوں اور تعلیمی تیاری میں وہ شہری بچوں سے پیچھے رہ جاتے ہیں۔ اس تضاد کو کم کرنے کے لیے حکومت اور این جی اوز کو کمیونٹی بیسڈ پری اسکولز اور مقامی خواتین کی تربیت پر زور دینا ہوگا تاکہ دیہی بچے بھی سماجی اور تعلیمی طور پر تیار ہو سکیں۔
اس ساری بحث کا نتیجہ کلام یہ ہے کہ تین سال کی عمر میں پری اسکول میں داخلہ بذات خود نہ نقصان دہ ہے نہ مفید۔ اصل کسوٹی یہ ہے کہ اسکول کا معیار کیا ہے، نصاب کس حد تک بچے کی عمر اور نفسیات کے مطابق ہے، اور والدین گھر پر بچے کو کتنی محبت، وقت اور اخلاقی رہنمائی فراہم کر رہے ہیں۔ بچے کو کھیلنے، سیکھنے اور خاندان کے ساتھ جڑنے کے مواقع اگر برابر فراہم کیے جائیں تو پری اسکول گھریلو تربیت کا متبادل نہیں بلکہ ایک تکمیلی سہارا بن سکتا ہے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت کم از کم معیارات مقرر کرے، اساتذہ کو تربیت دے، تجارتی دباؤ کو قابو میں لائے اور دیہی علاقوں میں سستی اور معیاری سہولتیں فراہم کرے۔ والدین کو بھی یہ سمجھنا ہوگا کہ تین سالہ بچے کے لیے محبت، کہانی، کھیل اور اقدار سب سے بڑی تعلیم ہیں۔ حروف، اعداد اور شکلیں سیکھنا اہم ضرور ہے لیکن یہ وقت سے پہلے دباؤ ڈالنے کے بجائے فطری انداز میں آنا چاہیے۔ اگر ہم یہ توازن قائم کر لیں تو پاکستان کے بچے صرف تعلیم یافتہ ہی نہیں بلکہ خوش اخلاق، تخلیقی اور اپنی تہذیب سے جڑے ہوئے بھی پروان چڑھ سکتے ہیں۔
ابتدائی تعلیم یا ابتدائی کاروبار؟/تحریر/پروفیسر عبدالنافع