نوجوان کہاں سے کہاں پہنچ گئے؟
کووِڈ-19 نے ہمارے تعلیمی اداروں کے دروازے تو بند کیے ہی تھے، مگر اصل المیہ یہ ہوا کہ اس نے پوری نسل کی ترجیحات بدل ڈالیں۔ جہاں کلاس روم سنسان تھے، وہیں ٹک ٹاک اور یوٹیوب کی اسکرینیں جگمگا رہی تھیں۔ کتابوں پر گرد جمی اور “ویوز” نے علم کی جگہ لے لی۔
پاکستان پہلے ہی 2 کروڑ 20 لاکھ بچوں کو اسکولوں سے محروم دیکھ رہا تھا۔ وبا نے یہ زخم اور گہرا کر دیا۔ شہروں میں زوم کلاسز چلتی رہیں، مگر دیہات کے بچے انٹرنیٹ، بجلی اور سہولتوں کے بغیر ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے رہے۔
اسی خلا کو سوشل میڈیا نے پر کیا۔ یوٹیوب، ٹک ٹاک اور انسٹاگرام نے ہر گھر میں راستہ بنایا۔ لیکن یہ تعلیم کا دروازہ نہ کھول سکے، بلکہ تفریح اور سطحی شہرت کی اندھی گلیوں تک لے گئے۔
نوجوانوں نے “کلاس روم” کے بجائے “کیمرا” کو اپنا لیا۔ کم معیار ویڈیوز، ڈانس اور مذاق نیا نصاب بن گئے۔ والدین نے بھی غربت کے ہاتھوں ہار مان کر بچوں کو سوشل میڈیا کی دوڑ میں دھکیل دیا۔ تھوڑی سی کمائی نے علم کو غیر اہم کر دیا۔
نتیجہ؟ ایک پوری نسل توجہ کھو بیٹھی۔ کچھ نوجوان فری لانسنگ اور ہنر کی طرف بڑھے، لیکن اکثریت سطحی تفریح میں گم ہوگئی۔ شہری اور دیہی فرق یہاں بھی نمایاں رہا: شہروں میں سیکھنے کے مواقع، دیہات میں محض وقت گزاری۔
یہ حقیقت کڑوی ضرور ہے مگر نظرانداز نہیں کی جا سکتی: کووِڈ نے ہمیں دو دنیاوں میں بانٹ دیا ہے—خالی کلاس رومز اور بھری ہوئی اسکرینیں۔
سوال یہ ہے: کیا ہم اس توانائی کو علم، ہنر اور تخلیق کی طرف موڑ پائیں گے؟ یا آنے والی نسل محض اسکرینوں کی چمک میں کھو جائے گی؟