0

افسانہ/پھوڑے/انیلہ افضال ایڈووکیٹ

وہ تڑپ رہا تھا، چیخ رہا تھا، رو رہا تھا۔ وہ دونوں ہاتھ جوڑے ڈاکٹر سے التجائیں کر رہا تھا۔ پلیز ڈاکٹر، اللہ کے بعد آپ کا ہی آسرا ہے۔ کچھ کریں ڈاکٹر صاحب! مجھے بچا لیں

افسانہ/پھوڑے/انیلہ افضال ایڈووکیٹ
آہ! آہ! میں مرنا نہیں چاہتا۔ ڈاکٹر! ڈاکٹر! پلیز مجھے بچا لو۔ میں ابھی جینا چاہتا ہوں۔ وہ تڑپ رہا تھا، چیخ رہا تھا، رو رہا تھا۔ وہ دونوں ہاتھ جوڑے ڈاکٹر سے التجائیں کر رہا تھا۔ پلیز ڈاکٹر، اللہ کے بعد آپ کا ہی آسرا ہے۔ کچھ کریں ڈاکٹر صاحب! مجھے بچا لیں۔ اس کے جسم سے جگہ جگہ سے خون رس رہا تھا۔ پورا وجود زخموں سے چور تھا۔ ڈاکٹرز اپنی سر توڑ کوشش کر رہے تھے کہ اور کچھ نہیں تو اس کے زخموں سے خون کے اخراج کو ہی روک دیں مگر یہ بھی نہیں ہو رہا تھا۔ اس کے جسم سے خون مسلسل رس رہا تھا۔ نہیں نہیں! اس کا کوئی ایکسیڈنٹ نہیں ہوا تھا۔ وہ تو ایک عجیب و غریب بیماری میں مبتلا تھا۔ جس کا کوئی علاج ڈاکٹروں کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا۔
اچھا خاصا خوش شکل اور ہینڈسم تھا۔ نہ جانے کس کی نظر لگ گئی تھی۔ اسے یوں تڑپتے دیکھ کر کلیجہ منہ کو آتا تھا۔ سچ کہوں تو پہچانا ہی نہ جاتا تھا۔ کہاں وہ گورا چٹا، چوڑا چگلا ،اور کہاں ایسی حالت! دیکھا ہی نہیں جا رہا تھا۔ اس کا سارا وجود پھوڑوں سے بھرا ہوا تھا۔ پیپ سے بھرے ہوئے پھوڑے، رستے ہوئے پھوڑے، پھٹتے ہوئے پھوڑے؛ اور اس کے سا تھ ساتھ تڑپتا ہوا وہ، چیختا ہوا وہ،سسکتا ہو وہ۔ ہائے! کیسا دکھ تھا، کیسی تکلیف تھی؛ جو بانٹی ہی نہ جا سکتی تھی۔ اسے یہ دکھ اکیلے ہی سہنا تھا۔ اپنی ہی جان پر جھیلنا تھا۔ حالانکہ اس سارے قصے میں اس کا تو کوئی قصور ہی نہیں تھا۔ وہ تو وکٹم تھا۔ اس کے ساتھ تو ظلم ہوا تھا۔ اس کی اس حالت کے ذمہ دار تو دوسرے تھے؛ وہی دوسرے، جو دراصل اس کے اپنے تھے۔ اور اب وہی اپنے، اس سے دور ہو گئے تھے، اس سے گھن کھاتے تھے۔ اس کی دلجوئی کرنا تو دور وہ اسے دیکھنا بھی نہیں چاہتے تھے۔ وہ کسی کو نہیں بتاتے تھے کہ وہ ان کا اپنا ہے کیونکہ اس کے گندے اور بدبودار جسم کی وجہ سے انہیں گھن آتی تھی۔ وہ کیوں اسے اپنا بتا کر اوروں کی نظروں میں اپنا مقام گرا دیتے۔ اگر وہ کسی کو بتا بھی دیتے تو لوگ ان سے بھی دور بھاگتے تھے کہ کہیں اس کی بیماری کے جراثیم ان اپنوں کے ذریعے سے ان کے وجود میں منتقل نہ ہو جائیں۔
اف! وہ کتنا بے بس تھا۔ وہ اپنا سر بار بار اسپتال کے بیڈ پر پٹخ رہا تھا۔ اس کا بس نہ چلتا تھا کہ ان سارے زخموں کو،ان سارے پھوڑوں کو اپنے وجود سے نوچ کر پھینک دے۔
ہااااا اللہ! وہ چیخا! ایک پھوڑا ٹھک کی آواز کے ساتھ پھٹ گیا تھا۔ نرس نے جلدی سے ڈاکٹر کو بلایا۔
اوہ مائی گاڈ! یہ پھوڑے تو اب ناسور بننے لگے ہیں۔ آئی ایم سوری مسٹر! آپ کا کیس تو اور زیادہ پیچیدہ ہو گیا ہے۔ مجھے افسوس ہے کہ شاید ہم آپ کے لیے کچھ نہیں کر سکیں گے۔
نن نہیں ڈاکٹر! ایسا نہ کہیں. آپ بڑے سے بڑے ڈاکٹر کو بلا لیں میں ان کی فیس ادا کر سکتا ہوں۔ میں مہنگے سے مہنگا علاج بھی افورڈ کر سکتا ہوں۔
ٹھیک ہے، میں گورننگ باڈی کے سامنے آپ کا کیس رکھوں گا۔ ڈاکٹر کے لہجے میں ہمدردی تھی۔
گورننگ باڈی کی میٹنگ میں ڈاکٹر نے اس کا کیس رکھا اور اس کے علاج کے لیے بیرون ملک سے معالج بلانے پر زور دیا۔ آغاز میں تو اس کی بات کو کوئی خاص اہمیت نہ دی گئی لیکن جب اس نے بتایا کہ مریض ڈاکٹروں کی فیس اور دیگر اخراجات کا بوجھ خود اٹھانے کے لیے تیار ہے اور اس کے ساتھ ساتھ اسپتال کو بھی ایک مخصوص رقم کمشن کی صورت میں حاصل ہو جائے گی اور مریض کی حالت بہتر ہونے کی صورت میں اسپتال کو نیک نامی بونس کے طور پر ملے گی تو گویا سب کی رال ہی ٹپک پڑی۔ مریض کے لیے بیرون ملک سے ڈاکٹر بلوانے کی اجازت دے دی گئی۔
اس نے بھاری رقم خرچ کر کے دنیا کے بہترین ڈاکٹروں کو بلوا لیا تھا۔ علاج بھی شروع کر دیا گیا۔ غیر ملکی معالجین نے بہترین طبی امداد فراہم کرکے اس کی تکلیف میں کچھ کمی تو کر دی تھی مگر ان کی رائے میں بھی اس کا مرض لا علاج تھا۔ دوائیں اسے وقتی طور پر تو سکون فراہم کر سکتی تھیں مگر مستقل طور پر اس کا صحت یاب ہو جانا ممکن نہ تھا۔ ان کے مطابق اس کی بیماری اس کے وجود میں اس طرح سرایت کر گئی تھی گویا اس کے وجود کا حصہ ہی ہو۔ اس کے پھوڑے اس کے وجود میں جڑیں بنا چکے تھے۔ اب اس کا وجود ان کا مستقل مسکن بن چکا تھا۔
اس کے لیے یہ وقتی راحت بھی ایک بڑے موقعے سے کم نہ تھی۔ اس نے اس موقعے سے بھر پور فائدہ اٹھانے کی ٹھان لی تھی۔ اس نے سوچ لیا تھا کہ وہ ایک ایک اپنے کے پاس جائے گا اور اس سے درخواست کرے گا کہ وہ اپنا دیا ہوا زخم واپس لے لے یا کم از کم اس کے لیے ایک اینٹی ڈوٹ ہی دے دے۔

اسپتال سے نکلتے ہی وہ سیدھا سرمایہ داروں اور صنعت کاروں کی تنظیموں کے عہدیداران کے پاس پہنچا۔ انہیں ساری صورت حال سے آگاہ کیا، بلکہ قمیص کے بٹن کھول کر انہیں اپنا وجود بھی دکھایا۔ چچ چچ چچ چچ! سب نے ہمدردی کا اظہار کیا، مگر اپنے دیئے ہوئے زخم واپس لینے سے صاف انکار کر دیا۔ یہ بات بزنس کے اصولوں کے منافی تھی۔ ایک بار جو سودا ہو گیا سو ہو گیا۔ اب نفع ہو یا نقصان! اسے جھیلنا ہی تھا۔ آخر جب فائدہ ہوتا ہے تب بھی تو وہ لطف لیتا رہا ہے، تو اب تکلیف ہو رہی ہے تو چیخ کیوں رہا ہے۔
مگر میرے دوست! ہم فائدے اور نقصان میں برابر کے شریک ہیں، وہ مصالحانہ انداز میں بولا!
ہاں تو؟؟؟ جواب آیا۔
تو کیا! یا تو میری تکلیف بانٹو یا پھر اپنی کرپشن کے دئیے ہوئے زخم اٹھاؤ میرے وجود سے، وہ شدت غم سے کرسی سے اٹھ کھڑا ہوا۔
ہمیں آپ سے بہت ہمدردی ہے مسٹر! مگر یہ زخم، یہ اول فول، جو تم کہہ رہے ہو اس سے ہمارا کوئی واسطہ نہیں۔ آپ جا سکتے ہیں پلیز! آج ہماری غیر ملکی ڈیلیگیشن کے ساتھ اہم میٹنگ ہے جو کہ آپ سے زیادہ اہم ہے ہمارے لیے!
ٹھک کی آواز سے اس کے وجود کا مندمل ہوتا ایک پھوڑا پھٹ گیا تھا اور اس میں درد کی ٹیمیں اٹھنے لگی تھیں۔ وہ اس درد کو برداشت کرتا ہوا وہاں سے نکل آیا تھا۔
اس نے سوچ لیا تھا کہ وہ ان سب اتنی آسانی سے نہیں چھوڑے گا۔ وہاں سے وہ سیدھا اپنے وکیل کے دفتر پہنچا۔ وکیل اسے دیکھ کر بھونچکا رہ گیا!
آپ! آپ! آئی مین، آپ؟ وکیل نے جلدی سے خود کو سنبھالا۔ آئیے آئیے سر! آپ کو یوں دیکھ کر کافی خوش گوار سی حیرت ہو رہی ہے۔ بڑی خوشی کی بات ہے کہ آپ ٹھیک ہو گئے ہیں۔ میں نے پڑھا تھا، اخبار میں کہ کچھ غیر ملکی ماہرین کی امداد سے آپ کو کافی حد تک ٹھیک کر لیا گیا۔ میں خود بھی آپ سے ملنا چاہتا تھا لیکن سوچ رہا تھا کہ آپ مزید بہتر ہو جائیں تو آپ سے ملاقات کروں۔ اچھا ہوا جو آپ خود ہی آ گئے۔ میں آپ کی کیا مدد کر سکتا ہوں؟ وکیل نے استفسار کیا۔

میں ان سب کو انصاف کے کٹہرے میں لاؤں گا۔ کسی کو بھی نہیں چھوڑوں گا۔ نمک حرام کہیں کے!
بالکل سر بالکل! چھوڑنا بھی نہیں چاہیئے۔ قانون آپ کے ساتھ ہے۔وکیل نے اسے امید دلائی! ویسے سر! کس کو نہیں چھوڑنا؟
ان سب کو، سرمایہ داروں کو، صنعت کاروں کو، تاجروں کو، سب کے سب میرا خون چوستے رہے ہیں اور اب مجھے ان کی مدد درکار ہے تو آنکھیں پھیر لی ہیں سب نے۔
آں ں ں ں ں ں! وکیل نے ایک لمبی آں کی۔ جی سر! بالکل سر! لیکن ایک بات پھر سوچ لیں سر ، ان کے ہاتھ بہت لمبے ہیں، ان کی پہنچ دور تک ہے۔ وہ کچھ بھی کر سکتے ہیں، آپ کو کوئی بھی نقصان پہنچا سکتے ہیں، اور خدا نخواستہ آپ کو اسپتال میں مروا بھی سکتے ہیں۔
ٹھک! ٹھک! ٹھک! ایک ساتھ کئی پھوڑے پھٹ گئے تھے۔ تکلیف کی شدت سے وہ دوہرا ہو گیا تھا۔ آپ کیس تیار کریں وکیل صاحب! وہ اپنے آپ کو سنبھالتا ہوا بولا! وکیل نے کندھے اچکائے, اوکے سر!
آرڈر آرڈر آرڈر! جی جناب! تو آپ اپنے تمام ثبوت اور گواہ پیش کریں تاکہ ملزمان پر فرد جرم عائد کی جا سکے۔
تمام دستاویزات عدالت کو مہیا کر دی گئی ہیں، وکیل نے مودبانہ انداز میں کہا۔
لیکن یہ سب ناکافی اور نا مکمل دستاویزات ہیں، ان کی بنیاد پر ملک کے معززین کو مجرم نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔ عدالت آپ کو دستاویزات مکمل کرنے کے لیے مزید ایک ماہ کی مہلت دیتی ہے اور ملزمان کی درخواست ضمانت منظور کرتی ہے۔ ایک ماہ کے اندر اندر تمام دستاویزات مکمل کریں ورنہ آپ کا کیس خارج کر دیا جائے گا۔ اس صورت میں اگر یہ معززین چاہیں تو آپ پر ان کی شہرت کو نقصان پہنچانے کی پاداش میں ہرجانے کا دعویٰ بھی کر سکتے ہیں۔
یس سر! وکیل نے کہا۔
اس کی نظر اپنے مجرموں پر پڑی، ان کے چہروں پر فاتحانہ مسکراہٹ کھیل رہی تھی۔ انصاف کو خرید لیا گیا تھا۔ اس کے مکمل دستاویزات کو ناکافی قرار دے دیا گیا تھا۔ ٹھک ٹھک ٹھک! ایک ساتھ نہ جانے کتنے پھوڑے پھٹ گئے تھے۔ وہ درد کے شدت سے عدالت کے فرش پر ہی گر گیا تھا، مگر پھر ہمت کر کے اٹھا اور احاطہ عدالت سے باہر نکل آیا۔
اس کا رخ شہر کی جانب تھا۔ کچھ ہی دور اس کی نظر ایک اکیڈمی ہر پڑی۔ تین ماہ میں تیاری، فرسٹ ڈویژن کی گارنٹی، ملک کے مایہ ناز پروفیسروں کی زیر نگرانی امتحانات کی تیاری کریں۔
ہونہہ! اس نے سوچا، اگر یہی مایہ ناز پروفیسر درسگاہوں میں اپنا فرض پورا کریں تو والدین ان اکیڈمیوں کی بھاری فیسوں کے بوجھ سے بچ سکتے ہیں۔
ٹھک! آہ ہ ہ ہ! اس نے پیٹ پر ہاتھ رکھا۔ سامنے سے آتی گاڑی سے ٹکرا گیا۔
اندھے ہو؟ مرنے کے لیے میری ہی گاڑی ملی تھی؟ نہ جانے کیا کہاں سے آجاتے ہیں، دھرتی کا بوجھ بڑھانے۔ گاڑی والا جانے کیا کیا بکتا ہوا، یہ جا وہ جا۔
وہ ابھی ٹھیک سے کھڑا بھی نہ ہو پایا تھا کہ ٹریفک پولیس والے نے آ دبوچا، چل تھانے! شہر کی ٹریفک کی روانی میں خلل ڈالا ہے تو نے!
ارے بھائی، مجھے تو وہ گاڑی وال ٹھوک کر نکل گیا۔ وہ بولا!
وہ نکل گیا اور تو پکڑا گیا، چل تھانے، یا پھررررر، یہیں فیصلہ کر لے، نکال ایک ہزار!!!
اییییییجک ہزااااااررر! کس بات کے ایک ہزار؟ اس نے احتجاج کیا۔
ابے گھونچو! تھانے جائے گا، حوالات میں رہے گا، ضمانت کے لیے وکیل کرے گا، اسے کم سے کم بھی پانچ روپے دے گا، البتہ اخبار میں فوٹو فری میں چھپ جائے گا۔ بول کیا کہتا ہے, ایک ہزار یا پانچ ہزار؟ ہاں؟ پولیس والے نے بھنویں اچکائیں۔
ٹھک! اس کے پھوڑے سے آواز آئی۔ کیا بری حالت ہو گئی ہے، اس نے سوچا! یکا یک حلق میں کانٹے چبھنے لگے۔ قریبی دکان سے پانی کی بوتل لی، پچاس روپے، دکاندار نے بوتل پکڑاتے ہی کہا!
پانی کی بوتل لے رہا ہوں بھائی! کیا شربت بیچ رہے یو؟
جتنی گرمی ہے نا شہزادیو! شربت کی کیا اوقات ہے اس پانی کی ٹھندی بوتل کے سامنے۔
یار پیاسے کو پانی پلانا تو ثواب کا کام ہے!
صحیح کہا شہزادیو! پانی پلانا واقعی ثواب کا کام ہے، منرل واٹر پلانے کا ذکر کہیں نہیں آیا۔ اب چوائس تو جناب کی ہے کہ منرل واٹر پینا ہے یا پانی؟ دکاندار کے لہجے میں بلا کا طنز تھا۔
اب منرل واٹر پینا ہے تو پچاس روپے عنایت فرما دیں؛ اور اگر پانی پینا ہے تو وہ سامنے والی مسجد کے دروازے کے ساتھ ہی کولر لگا ہے، وہ بھی ٹھنڈے پانی کا، غالبا کسی نے مسجد کے دروازے پرثواب کے لیے ہی لگوایا ہے۔ وہاں سے پانی پی لیں اور لگوانے والے کو ثواب دارین پہنچائیں۔ ہی ہی ہی! وہ استہزائیہ انداز میں ہنسا۔
اس نے چپ چاپ پچاس روپے دکان دار کے حوالے کیے اور مسجد کی جانب چل پڑا۔
مسجد کے دروازے پر ٹھنڈے پانی کا کولر تھا جو واقعی کسی نے اپنے مرحوم والدین کے ایصال ثواب کے لئے لگوایا تھا۔ اس پر جلی حروف میں ” برائے ایصال ثواب“ لکھا تھا۔ مگر کولر کے ساتھ زنجیر سے بندھا ہوا گلاس اس کے سینے کے پھوڑے کو چیر گیا۔ وہ خود کو سنبھالتاہوا مسجد میں داخل ہوا۔
کدھر جناب؟ کون ہیں آپ؟ یہاں کہاں گھسے چلے آرہے ہیں؟ مسجد کے خادم نے ایک ہی سانس میں کئی سوال کر ڈالے۔
مسافر ہوں، مسلمان ہوں، زخمی ہوں، اللہ کی پناہ میں آیا ہوں۔
وہ سب تو ٹھیک ہے مگر کس مسلک کے ہو؟ سنی، شعیہ، وہابی، بریلوی، دیوبندی، حنبلی، مالکی یا شافعی؟
اس نے آنکھوں میں حیرت کے کئی باب لیے خادم کی طرف دیکھا۔
ہم غیر مسلک والوں کو اپنی مسجد میں نہیں آنے دیتے۔
لیکن مسجد تو اللہ کا گھر ہے، اللہ تو سب کا ہے، وہ بیچارگی سے بولا۔
ہاں جی بالکل! اللہ سب کا ہے, تو میری جان، مکے جاؤ نا! وہاں سب کو جانے کی اجازت ہے لیکن یہاں نہیں۔ چلو نکلو یہاں ہماری مسجد سے۔
اسی لمحے اسے امام صاحب آتے دکھائی دئیے وہ تیزی سے ان کی جانب بڑھا، خادم ارے ارے کرتا ہوا اس کے پیچھے لپکا! ارے میاں رکو، ہٹو، کہاں گھسے چلے آرہے ہو۔ میرا لباس ناپاک کرنے کا ارادہ کیا؟ امام صاحب نے اس کے کٹے پھٹے وجود کو دیکھ کر جبا سھنبالا۔
اس نے خادم کی ساری جہالت امام صاحب کے گوش گزار کر دی اور شکائتی لہجے میں بولا، اب کیا اللہ کے گھر میں بھی تضادات ہوں گے؟۔
دیکھو میاں! یہ تمہارے کرنے کی بحث نہیں، یہ علماء کا کام ہے، انہی تک رہنے دو۔ یہ فقہی مسائل ہیں تمہاری سمجھ میں نہیں آئیں گے۔ غیر مسلک کے لوگوں کے آنے سے مسجد ناپاک ہو جاتی ہے۔ اب نکلو یہاں سے، نماز کا وقت ہوا چاہتا ہے یہ نہ ہو کہ نمازی تمہیں مزید ادھیڑ دیں۔ امام صاحب جبا سنبھالتے ہوئے اندر کی جانب مڑ گئے اور خادم نے اسےمسجد کے دروازے کی طرف دھکیل دیا۔ اسے تو اللہ کے گھر(مسجد) میں بھی پناہ نہیں ملی تھی۔
ٹھک ٹھک! ٹھاہ ٹھاہ! چٹخ پٹخ! اس کے پھوڑے بری طرح سے پھٹ رہے تھے۔ ان میں سے گندا اور بدبودار مواد بہنے لگا تھا۔ وہ اسپتال کی جانب بھاگا۔ ڈاکٹروں نے اس کا چیک اپ کیا اور تاسف سے کہنے لگے، سوری مسٹر! آپ کبھی ٹھیک نہیں ہو سکتے۔ آپ کے پھوڑے اب نا سور بن چکے ہیں۔ ہم آپ کے لیے کچھ بھی نہیں کر سکتے۔ جب تک آپ کی زندگی ہے آپ کو انہی ناسوروں کے ساتھ کاٹنا ہو گی۔
نن نہیں ڈاکٹر! پلیز مجھے بچا لو، میں مرنا نہیں چاہتا، میں جینا چاہتا ہوں، کوئی تو علاج ہو گا ان ناسوروں کا۔
ہمیں افسوس ہے مسٹر! مگر علاج زخم کا ہوتا ہے ناسور کا نہیں۔ ڈاکٹر سر جھکائے کمرے سے نکل رہا تھا۔ اور وہ تڑپ رہا تھا، چیخ رہا تھا، اف! وہ کڑیل جوان! دیکھا نہیں جا رہا تھا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں