عامرشہزادعلوی
رکن اسلامک رائٹر موومنٹ پاکستان
قراردادِ لاہور مسلمانوں کے لیے ایک علیحدہ وطن کی اساس ثابت ہوئی،جس کا محور “دو قومی نظریہ” تھا صرف 7 سال کی مسلسل جدوجہداورپیہم کوشش سےپاکستان وجود میں آ گیا۔ یہ جدوجہد دراصل بہ ظاہرایک سیاسی،حقیقت میں آئینی، اور عوامی جذباتی تحریک تھی۔
جس طرح آج کل اسمبلی میں کسی قانون کوقبول عام دلواناہو یاپاس کرناہویاکسی غیرقانونی غیر مذہبی شق کوناکام بناناہوتواس پر اسمبلی میں بحث ہوتی ہے،دوسروں کی عدم مخالفت یا اکثریت کے اتفاق سےاس قراداد کو تسلیم کرلیا جاتاہے اسی طرح حکومت برطانیہ کےسامنے کسی مسئلے کاحل پیش کرنےکے لئے جو اپلیکیشن دی جاتی تھی اسےپہلےمتفقہ طورپرللھاجاتاتھا قرارداد کہاجاتاتھا۔
قراردادِ لاہور سےلےکر قیامِ پاکستان تک کاسیاسی سفر برصغیر کے مسلمانوں کی پولٹیکل جدوجہد کی ایک تاریخ ساز داستان ہے۔ یہ مرحلہ 1940 سے 1947 پرمحیط ہے ،جس میں مسلمانوں نے ایک الگ وطن کے حصول کےلیے اپنی کوششوں کو تیز کردیا اور آخر کارپاکستان کے قیام میں کامیاب ہوئے۔
1. قراردادِ لاہور (23 مارچ 1940)
بہ مقام:منٹو پارک، لاہور (جسےموجودہ اقبال پارک کہاجاتاہے)
منظور کی گئی آل انڈیا مسلم لیگ کے سالانہ اجلاس میں
شیرِ بنگال مولوی اے کے فضل الحق نےپیش کی تھی
* **بنیادی نکات:**
* تمام مسلمانوں کو ایک ممتاز قوم تسلیم کیا گیا۔
* اس قرارداد میں یہ مطالبہ کیا گیا کہ ہندوستان کے شمال مغربی اور مشرقی علاقوں کو خودمختار ریاستیں بنایا جائےجومسلم اکثریت رکھتےہیں۔
* بعد میں یہی قرارداد “قراردادِ پاکستان” کے نام سے مشہور ہوئی
2. قرارداد کے بعد سیاسی ترقی :
مسلم لیگ کی مقبولیت میں بےپناہ اضافہ ہوا اور یہ مسلمانوں کی واحدسیایسی نمائندہ جماعت بن کرنمایاں ہوئی۔
1940 سے 1946 تک مسلمانوں کی سیاسی پارٹی مسلم لیگ نے “پاکستان” کے مطالبے کو عوامی تحریک میں بدل دیا۔
3. 1945-46 کے انتخابات
مسلم لیگ نے آل انڈیا سطح پر مسلم نشستیں بھاری اکثریت سے حاصل کرلیں۔
یہ انتخابات اس بات کا واضح ثبوت تھے کہ مسلمانان ہند “دو قومی نظریہ” اور پاکستان کے مطالبے پر متحدومتفق ہو چکے تھے۔
4. کیبنٹ مشن پلان (1946)
انگریزوں کی طرف سےمسلمانوں کوکمزورکرنےکےلئے ہندوستان کے مستقبل کا ایک مجوزہ خاکہ اور تقسیم کا ایک فرضی نقشہ تھا۔ مسلم لیگ نے شروع میں لاعلمی کی وجہ سے اس کی تائید کی، لیکن کانگریس کی ہٹ دھرمی کے باعث یہ منصوبہ ناکام ہو گیاتھا۔(شہاب نامہ)
5. ڈائریکٹ ایکشن ڈے (16 اگست 1946)کو
مسلم لیگ نے “یومِ اقدام” منایا تاکہ پاکستان کے مطالبے پر زور دیا جا سکے۔جوں جوں قیام پاکستان کازمانہ قریب آتاگیاتوں توں ہندو مسلم فسادات میں شدت آنا شروع ہو گئی ۔دراصل ہندوستان کی کانگرس کےہندو کبھی نہیں چاہتے تھے کہ مسلمان الگ خطےکےمطالبےمیں کامیاب ہوں اور نہ یہ چاہتے تھے کہ کسی طرح کسی بڑے کلیدی عہدے تک رسائی پاسکیں،جب گفت وشنید میں انھیں منہ کی کھاناپڑی تو انھوں نے سختی شدت اورفسادکی راہ سےمسلمانوں کومنتشرکرنےاورتحریک پاکستان کو کچلنے کی مہم تیزترکردی۔ایک بار مولانا وحید الدین خان صاحب جو انڈیا کے بہت بڑے لکھاری ہیں اور الرسالہ تحریک بانی ہیں اور ارل سالہ ماہنامہ جو شمارہ نکلتا ہے اس کے ایڈیٹر بھی تھے وہ اپنے ایک مضمون میں لکھتے ہیں کہ میں کسی ہوٹل میں ٹھہرا ہوا تھا اور اتنے میں بندے ماترم کا ترانہ لگا اور میں نوافل کے لیے کھڑا تھا لیکن میں اس شوہر کی وجہ سے وہ نوافل ادا نہ کر سکا،،اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مسلمانوں کو وہاں مذہبی ازادی نہیں تھی اور یہ بات بعد کے حالات میں بالکل ثابت کر دی کہ پاکستان کا وجود جیسا تیسا بھی ہے عملی طور پر مسلمان جیسے بھی ہیں ایک الگ وطن ان کی امتیازی شان رکھتا ہے۔
6. اعلان تقسیم اور پاکستان کاقیام مسلمانوں سیاستدانوں اور دانشوروں کی ان تھک محنت کاثمراورلگاتارمحنت و کوشش کا نتیجہ آگیا (14 اگست 1947)حکومت برطانیہ نے 3 جون 1947 کا منصوبہ پیش کیا، جس کے تحت ہندوستان کو دو آزاد ریاستوں — بھارت اور پاکستان — میں تقسیم کردیا گیا۔
14 اگست 1947 کو پاکستان ایک آزاد اسلامی ریاست کے طور پر دنیا کے نقشے پر ابھرا،جس کےپہلےگورنر جنرل محمد علی جناح اورپہلا دارالحکومت کراچی قرارپایاتھا۔
0