0

تعمیر وطن اور ہماری ذمہ داری/تحریر/روحی امجد جدہ

افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر
ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارہ

ایک وطن وہاں رہنے والے تمام افراد کا مشترکہ گھر ہوتا ہے جس طرح ہم اپنے گھر کو صاف اور محفوظ اور خوبصورت رکھنے کے لیے اپنا کردار ادا کرتے ہیں، اسی طرح اپنے وطن کو ترقی دینے، اس کی تعمیر اور اسے سنوارنے کے لیے ،ہر شہری پر کچھ ذمہ داریاں بھی عائد ہوتی ہیں ۔
وطن کی ترقی کا دارومدار ، اس کے شہریوں کے کردار وعلم پہ ہوتا ہے۔ایک باشعور فرد اپنی ذمہ داریوں کو بحسن و خوبی ادا کر کے وطن سے اپنی محبت کا ثبوت دیتا ہے۔

ایک اچھا پاکستانی ہونے کے ناطے سے ،ہماری سب سے پہلی ذمہ داری یہ ہے کہ ہم اپنے وطن کے ایک اچھے شہری بنیں۔ قانون کی پاسداری کرنا، ایمانداری سے اپنے فرائض کو سرانجام دینا، بنا کسی رنگ و نسل کی تفریق کے، ملک کے تمام شہریوں کا ادب و احترام کرنا ہم پر لازم ہے ۔

ہماری دوسری اہم ذمہ داری تعلیم حاصل کرنا ہے۔ کیونکہ تعلیم ہی وہ ہتھیار ہے ،جس کی مدد سے ہم اپنے ملک سے غربت ،جہالت اور ظلم کا خاتمہ کر سکتے ہیں۔ ہمارا کام یہ ہے کہ دل لگا کر پڑھیں ،ہنر سیکھیں، اور اپنے علم کو اگے دوسروں تک پہنچائیں۔ تاکہ ہم سب مل کر ایک باشعور قوم بن سکیں ۔

ہماری تیسری ذمہ داری ماحول کا تحفظ کرنا ہے ۔درخت لگانا ،اپنے محلے اور علاقے کی، صاف صفائی کا خیال رکھنا ،پانی اور بجلی ضائع نہ کرنا۔ ملک کے وسائل کو احتیاط سے خود بھی استعمال کرنا اور دوسروں کو اس کی ترغیب دینا بھی ہمارا ہی کام ہے۔ سرسبز پاکستان ہی ایک روشن پاکستان کی نشانی ہے ۔

ہماری چوتھی ذمہ داری اپنے اخلاقی رویے کو بہتر بنانا ہے ۔بڑوں کا احترام کرنا، انہیں عزت دینا۔ چھوٹوں پر شفقت ،صبر، برداشت، ایثار اور محبت سے میری اپنی ذات بھی سنورے گی اور معاشرے کی خوبصورتی میں بھی اضافہ ہوگا ۔

ہماری پانچویں اور سب سے اہم ذمہ داری ،وطن کی عزت اور دفاع سے جڑی ہے۔ یاد رہے کہ وطن نہیں تو ہم بھی نہیں ۔
کسی نے خوب کہا ہے کہ *وطن کی قدر بے وطنوں سے پوچھو *

ہرشخص کوئی فوجی نہیں ہوتا ،لیکن عام شہری کی حیثیت سے ہماری ذمہ داری ہے، کہ ہم اپنی زبان سے، قلم ،علم، رویے اور عمل سے اپنے وطن کا دفاع کریں۔

کسی بھی سطح پر وطن کے خلاف اور اسے نقصان پہنچانے والی بات کو رد کرنا اور اپنے وطن کی خوبیوں کو اجاگر کرنا، ہماری ذمہ داری ہے۔

تعمیر وطن کوئی نعرہ نہیں بلکہ عمل کا نام ہے۔
یہ عمل میں اور آپ شانہ بہ شانہ مل جل کر ہی انجام دے سکتے ہیں۔

اے میرے پیارے وطن تو ہمیں ماں کی آغوش کی طرح عزیز ہے ۔تیرے ذرے ذرے سے ہمیں محبت ہے۔ تو ہماری شناخت ہے۔
ہم تجھے اپنے عمل سے سجائیں گے ۔
سنواریں گے۔
تیرے سکولوں کو اپنے علم کی روشنی سے منور کریں گے ۔
تیرے کھیتوں کی ہریالی، تیری عدالتوں میں انصاف، کے لیے کام کریں گے۔
اے میرے پیارے وطن ہم تجھ پر کبھی آنچ نہ انے دیں گے ۔
ہم تجھے تعصب، کرپشن، نفرت اور نا انصافی سے پاک کرنے کے لیے، اپنی پوری کوشش کریں گے۔ کیونکہ ہم تیرے محافظ بھی ہیں اور معمار بھی ۔

ہم علم سے، قلم سے، تعمیر کا آغاز کریں گے
وطن کو وقت کے ہر امتحان میں سرفراز کریں گے ۔

پاکستان کا مطلب کیا
لا الہ الا اللہ
ہم یہ عہد کرتے ہیں کہ جس جذبہ کے تحت یہ وطن حاصل کیا گیا تھا ،اسے پورا کرنے کے لئے، اپنے ملک وقوم کی تعمیر و ترقی کے لئے، اپنی ہر صلاحیت کو استعمال کریں گے۔ پاکستان کے پرچم کو ،ساری دنیا میں سر بلند کریں گے۔

پاکستان زندہ باد
۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں