
کالم نگار:
محمد شہزاد بھٹی
اگر ہم ڈپٹی کمشنر کمپلیکس میں ہونے والے سانحہ کے پس منظر کی مختصرا بات کریں تو پتہ چلتا ہے کہ ایک ماہ قبل سابق ناظم حافظ محمد آصف، سابق چئیرمین مظہر حیات گجر اور سابق کونسلر رؤف بھٹی نے کلو مافیا کے خلاف آواز اٹھائی تو اس کے بعد کلو خاں کے بیٹے مصطفی کی طرف سے سوشل میڈیا پر ہراساں کرنے اور دھمکیوں کا سلسلہ شروع ہو گیا جس پر ضلعی انتظامیہ کی طرف سے غفلت اور بروقت ایکشن نا لینے کی وجہ سے ایک المناک واقعہ پیش آیا۔ 26 ستمبر بروز جمعۃ المبارک بہاولنگر کی معروف سیاسی اور سماجی شخصیت سابق ناظم حافظ محمد آصف اور اس کا بیٹا حافظ محمد اویس ڈپٹی کمشنر کمپلیکس میں ریوینیو برانچ میں اپنے کسی زمین کے ریکارڈ کی نقل لینے کی غرض سے جاتے ہیں جو غیر مسلح ہوتے ہیں اور ان کے پاس کسی قسم کا کوئی اسلحہ نہیں ہوتا جونہی حافظ محمد آصف اور اس کا بیٹا اپنی گاڑی سے نیچے اترتے ہیں تو وہاں پہلے سے موجود کلو خاں اور اس کے بیٹے مصطفی نے انہیں للکارا اور کہا آج تمہیں ہمارے خلاف آواز اٹھانے پر مزہ چکھاتے ہیں اس پر کلوخاں نے اپنے بیٹے مصطفی سے کہا کہ دیکھ کیا رہا ہے اسے جان سے مار دو، جس پر کلو خاں کے بیٹے غلام مصطفی نے 30 بور رائفل سے سیدھا فائر کیا جو حافظ محمد آصف کے بائیں پاؤں پر لگا اور جب حافظ محمد اویس آصف اپنے والد کو بچانے کی غرض سے آگے بڑھا تو کلو خاں کے بیٹے غلام مصطفی نے اس پر بھی سیدھا فائر کر دیا، اس واقعہ کی اطلاع ملتے ہی ریسکیو 1122 کی امدادی ٹیم جائے وقوعہ پر پہنچ گئی اور فوری طور پر زخمیوں کو ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال بہاولنگر منتقل کیا گیا مگر حافظ محمد اویس آصف زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جاں بحق ہو گئے۔ یاد رہے، حافظ محمد اویس آصف اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کے بہاولنگر کیمپس میں ایل ایل بی کے سٹوڈنٹ تھے۔ اس واقعے کے بعد کلو خان دو بیٹے مركزی ملزم غلام مصطفی کے بھائی غلام عباس اور غلام حسین کلاشنکوف کے ساتھ ایمرجنسی وارڈ میں داخل ہوئے اور مقتول کے پورے خاندان کو سینئر پولیس افسران، اہلکاروں کی موجودگی میں جان سے مار دینے کی دھمکیاں دیں اور ننگی گالیاں دیں۔ پولیس نے صرف ان سے اسلحہ چھینا انہیں گرفتار نہیں کیا۔ آخر کیوں؟ ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال بہاولنگر کی سی سی ٹی وی فوٹیج میں یہ تمام مناظر واضح طور پر نظر آ رہے ہیں۔ یہاں پولیس کی ناقص کاركردگی اور مشکوک کردار نے بہت سے سوالات کو جنم دیا ہے۔ ضلعی انتظامیہ اور خصوصاً ڈپٹی کمشنر بہاولنگر کی خاموشی اور بے حسی پر حیرت ہو رہی ہے کہ ان کے اپنے آفس میں دہشت گردی ہونے کے بعد ان کی طرف سے کوئی دہشت گردی کی ایف آئی آر نہیں تک کروائی گئی نجانے کیوں؟ اگر خدانخواستہ یہی فائر ڈپٹی کمشنر کے بیٹے کو ڈپٹی کمشنر کمپلیکس میں لگتے تو تب عوام دیکھتی کہ کیسے دہشت گردی کی 7 ATA کی دفعات نہیں لگتیں۔ حافظ محمد اویس آصف کے ڈپٹی کمشنر کمپلیکس میں قتل کے واقعہ کی تا حال سی سی ٹی وی فوٹیج جاری نا کرنا بہت سے سوالات کو جنم دے رہا ہے کہ سی سی ٹی وی فوٹیج جاری نا کر کے قاتلوں کو فائدہ پہنچانے کی کوشش کی جا رہی ہے، اہلیان بہاولنگر کی اپیل ہے کہ وزیراعلی پنجاب مریم نواز شریف اس واقعہ کا فوری نوٹس لیں اور اس مقدمے میں دہشت گردی کی دفعات کو فوری شامل كروایا جائے اور یہ کیس سی سی ڈی کے حوالے کیا جائے۔ اللہ کریم سے دعا ہے کہ بہاولنگر شہر کو امن کا گہوارہ بنائے۔ آمین