0

جلسہ: مقابلہ یا اصلاح؟ / تحریر /جلال الدین الدیامری

اکابرین کے زمانے میں بھی آج کے مقابلے میں اعمال زیادہ تھے۔ ان کے دور میں اصلاح کے مختلف ذرائع رائج تھے، مثلاً: تبلیغی مراکز، مدارس، خانقاہیں، اصلاحی بیانات اور وقتاً فوقتاً بڑے پیمانے پر عوامی اجتماعات۔

جلسہ: مقابلہ یا اصلاح؟
از قلم: جلال الدین الدیامری

خالی ہے سب کشاکشِ تقدیر کے بغیر
قوموں کی زندگی میں یہ شور و شر نہیں!
(اقبال مرحوم)

حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم، صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم، تابعین اور تبع تابعین کے ادوار میں عوام کی اصلاح کے لیے موجودہ طرز کے جلسوں کا رواج نہ تھا۔ اس زمانے میں اصلاح عمل کے ذریعے ہوتی تھی، کیونکہ وہ خیر القرون کا زمانہ تھا۔ بالخصوص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام کا دور تو سراسر خیر و برکت کا زمانہ تھا۔

مثال کے طور پر: اگر کوئی شخص اچھا عمل کرتا تو دوسرا بھی اسے دیکھ کر نیک عمل شروع کر دیتا۔ ان کے اعمال ہی اس قدر پاکیزہ اور صالح ہوتے کہ دیکھنے والوں کے لیے خود بخود دعوت و ترغیب بن جاتے تھے۔ ہاں، جو بات معلوم نہ ہوتی وہ پوچھی جاتی اور پھر فوراً اس پر عمل کیا جاتا۔

تابعین اور تبع تابعین کے زمانے میں بھی یہی صورت حال رہی، کیونکہ وہ خیر القرون کے قریب تھے۔ لیکن جیسے جیسے زمانہ اس سنہری دور سے دور ہوتا گیا، اعمال میں کمی آتی گئی، حتیٰ کہ اکابرین کے دور تک یہ کیفیت کچھ نہ کچھ باقی رہی۔

اکابرین کے زمانے میں بھی آج کے مقابلے میں اعمال زیادہ تھے۔ ان کے دور میں اصلاح کے مختلف ذرائع رائج تھے، مثلاً: تبلیغی مراکز، مدارس، خانقاہیں، اصلاحی بیانات اور وقتاً فوقتاً بڑے پیمانے پر عوامی اجتماعات۔ ان اجتماعات میں اخلاص نمایاں ہوتا تھا۔ لوگ اپنی اصلاح کی نیت سے آتے تھے، علماء کے بیانات سے متاثر ہو کر اپنی زندگیاں بدل لیتے تھے۔ دین سے دور لوگ دیندار بنتے اور دیندار لوگ مزید پختگی اختیار کرتے تھے۔

مگر صد افسوس! اب وہ جلسے اور اجتماعات نہیں رہے۔ آج کے جلسوں کا مقصد اصلاح نہیں رہا بلکہ پاور شو بن گیا ہے۔ مقصد یہ ہوتا ہے کہ زیادہ سے زیادہ ہجوم اکٹھا کیا جائے، تاکہ دوسروں کو نیچا دکھایا جا سکے۔ اب جلسے مقابلے کا میدان بن گئے ہیں اور اصلاح کا جذبہ مفقود ہو گیا ہے۔ اخلاص ختم ہو گیا ہے۔
واہ واہ! کے نعروں کے ساتھ جلسہ ختم ہو جاتا ہے اور لوگ گھروں کو لوٹ جاتے ہیں، لیکن ان کی زندگی میں کوئی تبدیلی نہیں آتی۔

اے کاش! کل کے جلسے جو محبت، تعاون اور ہمدردی کا نمونہ ہوتے تھے، آج نفرت اور مقابلے کا بازار نہ بنے ہوتے۔ کل کے اجتماعات جہاں سے لوگ دین سیکھتے تھے، آج وہاں سے دوریاں اور عداوتیں جنم لیتی ہیں۔

خدارا! اے مسلمانوں! اپنا مقصد پہچانو۔ تمہارا مقصد جلسے نہیں بلکہ اللہ کی عبادت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت ہے، امر بالمعروف اور نہی عن المنکر ہے۔
تم نفرتیں پھیلانے کے لیے نہیں بلکہ محبتیں بانٹنے کے لیے آئے ہو۔
تم مقابلے کے لیے نہیں بلکہ تعاون کے لیے جمع کیے گئے ہو۔

خدارا! اپنا مقصد پہچانو، پہچانو، پہچانو!

خالی ہے سب کشاکشِ تقدیر کے بغیر
قوموں کی زندگی میں یہ شور و شر نہیں!

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں