جدوجہد کے 84 سال
حل صرف جماعت اسلامی
تحریر: راشد مشتاق (امریکہ)
سید مودودیؒ کی دعوت پر لاہور میں منعقدہ تاسیسی اجلاس مورخہ 26 اگست 1941 میں ملک بھر سے 75 ارکان نے شرکت کی، اقامت دین اور تجدید و احیائے دین کی تحریک “جماعت اسلامی” کی بنیاد رکھی گئی۔ جماعت کا ابتدائی سرمایہ صرف مخلص جذبوں والے کارکنان ہی تھے۔ 75 لوگوں کا مختصر سا قافلہ بے سروسامانی میں مشکل اور کٹھن ترین سفر پر چلا۔ 74 روپے، دو ہزار کی کتابیں بک ڈپو میں، خوشحال عنصر ایک فیصد سے زائد نہ تھا۔ سب نے متفقہ طور پر مولانا مودودیؒ کو جماعت کا امیر منتخب کر لیا۔ علمی تحقیق کے شعبہ کو تحریک کا دل و دماغ قرار دیا گیا۔
جماعت اسلامی کے قیام کا مقصد انسانی زندگی کے پورے نظام کو اس کے تمام شعبوں ، فکر و نظر، عقیدہ و خیال، مذہب و اخلاق، سیرت و کردار، تعلیم و تربیت ، تہذیب و ثقافت، تمدن و معاشرت، معیشت و سیاست، قانون و عدالت، صلح و جنگ، بین الاقوامی تعلقات کو اللہ تعالیٰ کی بندگی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایات پر قائم کرنے کی جدوجہد ہے۔ سید مودودیؒ اور دیگر مفکرین کی سینکڑوں کتب اسلامی نظام زندگی کے ہر پہلو پر جامع، مکمل، مدلل اور موثر رہنمائی دیتی ہیں۔ سید مودودیؒ (1941-1972) کے بعد میاں طفیل محمد (1972-1987), قاضی حسین احمد (1987-2009), سید منور حسن (2009-2014) اور سراج الحق (2014-2024) جماعت اسلامی کے امیر منتخب ہوتے رہے، جبکہ گزشتہ سال اپریل 2024 میں ارکان جماعت نے اگلے پانچ سال کے لیے حافظ نعیم الرحمان کو اپنا نیا امیر منتخب کیا۔
جماعت اسلامی محض ایک سیاسی و انتخابی جماعت نہیں بلکہ ایک دینی، نظریاتی، اصولی و انقلابی تحریک ہے۔ ان 84 سالوں میں جماعت نے اپنی جدوجہد کے ہر میدان میں بے شمار کامیابیاں سمیٹی ہیں۔ اپنے اقامت دین کے نصب العین پر ڈٹی رہی ، دھڑے نہیں بنے، گروپنگ نہیں ہوئی، پارٹی کے اندر اقتدار کی کشمکش نہیں ہوئی، فرقہ نہیں بنی، کرپشن سے پاک رہی، جیلیں، قید و بند، شہادتیں، سزائے موت، حکومتی جبر و تشدد اور عالمی طاقتوں کی مخالفتیں اسے راہِ حق سے ہٹا نہیں سکیں۔ ترجمان القرآن ، ایشیاء، جسارت، فرائیڈے سپیشل اور ماضی میں چراغ راہ جیسے جرائد نے نظریاتی جنگ لڑی ہے۔ ادارہ معارف اسلامی بھی اسی سلسلے کی ایک منظم کاوش ہے۔ جماعت اسلامی نے ملک میں آئین سازی میں سب سے بڑھ کر کردار ادا کیا ہے۔ قیام پاکستان کے بعد “مطالبہ دستورِ اسلامی” مہم چلائی۔ قرارداد مقاصد منظور کروانے میں حصہ لیا۔ ہر مکتبہ فکر کے 31 علمائے کرام کو 22 نکات پر اکٹھا کیا۔ 1954 کی دستور ساز اسمبلی کی بحالی کی عدالتی جنگ لڑی۔ 1956 کا آئین بنانے اور بچانے کی مہم چلائی۔ 1973 کے آئین بنوانے میں بھرپور حصہ لیا۔ اسی کے ثمرات ہیں کہ اب اسلامی نظریاتی کونسل اور وفاقی شرعی عدالت موجود ہیں۔ 1965 کی جنگ ہو یا 1971 کی، دفاع وطن کے لیے افواج پاکستان کا قدم قدم ساتھ دیا۔افغانستان ، مقبوضہ کشمیر میں مظلوموں کا ساتھ دیا ۔ فلسطین ، بوسنیا، چچنیا، روہنگیا، امت کے ہر مسلہ پر نہ صرف بھرپور آواز اٹھائی بلکہ ہر ممکنہ مالی ایثار بھی کیا۔ امت کے درد کو پاکستانی قوم تک پہنچایا۔ جاگیرداروں کے ظلم اور عالمی سرمایہ دارانہ نظام اور اس کے ظالمانہ ہتھیار “سود” کے خلاف آواز اٹھائی۔ سوشلزم اور کمیونزم کی یلغار کا مقابلہ کیا ۔ فتنہ انکار حدیث کے خلاف بھرپور علمی کام کیا۔ تحریک تحفظ ختم نبوت میں اہم کردار ادا کیا۔ قادیانی مسلہ لکھنے کے جرم میں بانی جماعت سید مودودی کو فوجی عدالت کی طرف سے سزائے موت سنائی گئی۔ فحاشی و عریانی ، لسانیت اور علاقائیت کی بنیاد پر اٹھنے والی تحریکوں کا بھرپور مقابلہ کیا۔ پاکستان کی ہر دینی و سیاسی تحریک میں جماعت اسلامی ہراول دستہ رہی ہے۔
وقت کے ساتھ ساتھ اس ننھے سے پودے کی شاخوں کی وسعت بڑھتی ہی گئی اور اب یہ ایک ایسا تناور درخت بن چکا ہے جس کے سائے کی ٹھنڈک پوری دنیا میں محسوس کی جاتی ہے۔ جماعت ایک ایسا شجر ہے جس کی ہر شاخ ثمر دار fruitful ہے۔ بچوں، طلباء، اساتذہ، علماء، مزدور، نوجوان ، اقلیت، تعلیم، خدمت ، کسان، ڈاکٹرز، انجنئیرز، وکلاء، تاجر ، اکاؤنٹس، ریلوے اور ہر شعبہ زندگی میں جماعت اسلامی کی برادر تنظیمات موجود ہیں۔ جماعت معاشرے کے پسے ہوئے طبقات کے حقوق کی سب سے توانا آواز ہے۔ ہیومن رائٹس نیٹ ورک کے نام سے گراں قدر کام کر رہی ہے۔ مرکز جماعت اسلامی پاکستان (منصورہ، لاہور) میں شعبہ تنظیم، دعوت و تربیت، مالیات، آڈٹ، اطلاعات ، امور خارجہ، امور عامہ، سیاسی امور، تربیہ اکیڈمی، ادارہ معارف اسلامی، علماء اکیڈمی ، سوشل میڈیا ، تحقیق و تجزیہ سمیت مختلف شعبہ جات اور ادارے موجود ہیں۔
جماعت اسلامی ایک عالمی اسلامی تحریک ہے۔ اس کے ترکیہ، تیونس، مصر، ملیشیاء، سوڈان ، الجزائر ، فلسطین، سمیت دنیا بھر کی اسلامی تحریکوں کے ساتھ شاندار رابطہ اور امت کے اجتماعی مسائل پر مشاورتی و عملی ہم آہنگی ہے۔ پاکستان کے علاوہ ہندوستان، بنگلہ دیش ، کشمیر اور سری لنکا میں بھی جماعت اسلامی موجود ہے۔ جبکہ ملائیشیا، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ ، جاپان، عرب ممالک، برطانیہ ، یورپین ممالک ، شمالی امریکہ ، جنوبی افریقہ، وغیرہ میں اقامت دین کی فکر پر مختلف سرکلز اور حلقہ جات قائم ہیں۔ رابطہ عالم اسلامی، ورلڈ اسمبلی آف مسلم یوتھ، ورلڈ مسلم پارلیمنٹیرین فورم، فلسطینیوں سے معاونت کی عالمی تنظیم وغیرہ کے ساتھ رابطہ میں ہے۔
جماعت اسلامی اپنی دعوت کے ذریعہ انسان کے بنائے ہوئے باطل نظریات کو چیلنج کرتی ہے اور اپنی سیاست کے زریعہ احکامات الٰہی کے نفاذ اور فلاحی ریاست کے قیام کی کوشش جاری رکھے ہوئے ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جماعت خدمت کے وسیع جذبہ کے تحت“الخدمت فاونڈیشن “ کے پلیٹ فارم سے ملک بھر میں بے تحاشا سرگرمیاں کرتی ہے۔ مثالی لیڈرشپ ، بہترین کارکردگی، اندرونی جمہوریت کی حامل، موروثیت اور کرپشن سے پاک سیاست کی علمبردار جماعت ہے۔ اس نے اسلامی ، فلاحی ، خوشحال، پر امن، اور ترقی یافتہ پاکستان کا ایک ایسا جامع منشور پیش کیا،جس کے لیے لفظ “جامع” بھی چھوٹا محسوس ہوتا ہے۔ایک واضح ایجنڈا رکھتی ہے، قومی اور سیاسی معاملات میں دو ٹوک موقف ، کرپٹ روایتی سیاسی جماعتوں/خاندانی پراپرٹیز کا واحد اور بہترین متبادل، پارلیمنٹ کے اندر اور باہر ،اسلامی ، قومی و عوامی ایشوز اور مسائل پر مسلسل جارہانہ سیاست کرتی چلی آئی ہے۔ نہ جھکی، نہ بکی، نہ کٹھ پتلی بنی۔ نہ جھوٹے وعدوں اور نعروں کا سہارا لیا۔ اسکے بیت المال کا مضبوط نظام کارکنان کی مخلصانہ اعانتوں سے چلتا ہے۔ امانت کی یہ رقوم پورے احساسِ جوابدہی سے خرچ کی جاتی ہے۔ اگرچہ انتخابات دھن دھونس دھاندلی کا کھیل ہے۔ اور جماعت اسلامی غریبوں اور متوسط طبقہ کی جماعت ہے لیکن اللہ کا کرم ہے کہ اسے جہاں جتنا اختیار ملا، اس نے بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ اقتدار کو امانت اور خود کو خدا اور عوام کے سامنے جوابدہ سمجھا۔ پرفارمنس اور good governance کی شاندار مثالیں قائم کیں اور کرپشن فری آپریٹنگ ماڈل متعارف کروایا۔مختلف ادوار میں منتخب ہونے والے اسکے سینیٹرز، ممبران قومی و صوبائی اسمبلی ، وزراء ، مئیرز، تحصیل اور ٹاؤن ناظمین، کونسلرز ، اس کا فخر ہیں۔ حق گوئی اور بے باکی کی علامت, اسلامی اور عوامی ایشوز، مسائل اور حقوق کی سب سے توانا آواز ہیں۔ کسی ایک پر بھی ایک روپیہ کی کرپشن کا داغ نہیں۔ نہ پانامہ پیپرز ، نہ پنڈورا پیپرز، نہ وکی لیکس ، نہ سوئس لیکس، نہ ہی نیب زدہ ۔ قرضہ لینے، معاف کرانے، پلاٹ لینے، کمیشن لینے میں اس کے کسی فرد کا نام نہیں۔ اس کے بیشتر ارکان اسمبلی پارلیمانی کارکردگی (پارلیمانی تقاریر ، قراردادوں، تحریک التوا، توجہ دلاؤ نوٹس ، سوالات وغیرہ ) کے لحاظ سے سرفہرست رہے۔ عدالت عظمٰی نے 62,63 کے تناظر میں سابق امیر سے متعلق بہترین ریمارکس دیے۔ خیبر پختونخواہ کی صوبائی حکومتوں اور کراچی کی مئیرشپ (نعمت اللہ خان اور عبدالستار افغانی) کی صورت میں اسکا بہترین آپریٹنگ ماڈل سب کے سامنے ہے ۔ ترقی اور دیانت کے دوڑ میں یہ چمکتا آفتاب ہے۔ حال ہی میں مختلف شہروں میں “ بنو قابل” پراجیکٹ، اس کا ایک عظیم کارنامہ ہے۔ جماعت نے اقلیت کی بجائے پاکستانی برادری کی اصطلاح استعمال کی ہے۔ ہر سطح پر اقلیتوں کے مضبوط ونگ قائم کیے ہیں۔ انکے لیے ہر سطح پر ہمیشہ آواز اٹھائی ہے۔
جماعت ہی اقتدار کو اللہ تعالیٰ کی ایک مقدس امانت سمجھتے ہوئے یہ ملک چلا سکتی ہے۔ دنیا سے بات کر سکتی ہے۔ دنیا کے سامنے پاکستان کو ایک باوقار قوم کی حیثیت سے کھڑا کر سکتی ہے۔ قوم کو صحیح سمت دے سکتی ہے۔ ملک کو خوشحالی اور ترقی کے سفر پر گامزن کر سکتی ہے۔ آئین کی اسلامی دفعات کا اس کی اصل روح کے مطابق عملی طور پر نفاذ کر سکتی ہے۔ فوج، عدلیہ، بیوروکریسی، صحافت، میڈیا اور سیاست دان وغیرہ سب کو عزت کے ساتھ ان کے مقام پر رکھ سکتی ہے۔ ہر طرح کے استحصال سے پاک اسلام کا عادلانہ معاشی، سماجی، سیاسی نظام قائم کر سکتی ہے۔ سب محب وطن ، درد دل اور پاکستان کو عظیم تر بنانے کا جذبہ رکھنے والے؛ جماعت کا دست و بازو بنیں۔ بیرونی پالیسیوں پر چلنے والے، مفاد پرست، عوام دشمن عناصر کا بائیکاٹ کریں۔ یہ قوم چوروں ، دھوکہ بازوں ، مفاد پرستوں ، نااہلوں اور انہیں قوم پر مسلط کرنے والوں کو خیر باد کہہ کر جماعت کی پشت پر کھڑی ہو۔ بالآخر جیت عوام کی ہو، جیت پاکستان کی ہو
آج الحمد للہ لاکھوں کروڑوں افراد دنیا بھر میں اس تحریک اور فکر سے کسی نہ کسی صورت میں وابسطہ ہیں۔ سید مودودی کے لٹریچر کے دنیا کی 50 سے زائد زبانوں میں ترجمے ہو چکے ہیں۔ دنیا بھر کی نوجوان نسل اس لٹریچر سے فکری و نظریاتی قوت اور توانائی حاصل کرتی ہے۔ بلاشبہ مولانا مودودی نے اپنے قلم سے ایسی تحریری خوشبوئیں بکھیری ہیں جو 84 سال بعد یعنی آج بھی پوری دنیا میں محسوس کی جا سکتی ہیں۔ اقامت دین کی بے مثال اور لازوال جدوجہد اور قربانیوں کے 84 سال مکمل، جماعت اسلامی اور دنیا بھر میں موجود اس کے خیر خواہوں کو 85 واں یوم تاسیس (foundation day) مبارک ہو
جدوجہد کے 84 سال، حل صرف جماعت اسلامی\تحریر\راشد مشتاق