0

صحافی، صحافت اور پیکا ایکٹ ۔۔۔ یعنی قانون کے ذریعے حکمرانی؟/شرفو کی لفاظی/تحریر/خالد وحید امراچی

صحافی، صحافت اور پیکا ایکٹ ۔۔۔ یعنی قانون کے ذریعے حکمرانی؟/شرفو کی لفاظی/تحریر/خالد وحید امراچی

جس طرح فوج کی حمایت کا مطلب جمہوریت کی مخالفت نہیں ہونا چاہیئے اسی طرح سیاہ ستدانوں کی حمایت میں فوجی شخصیات کی مخالفت بھی درست نہیں، اور کیوں کہ صحافت اسی دو دھاری تلوار پر چلنا ٹہرا، اسی لئے صحافی کو موجودہ دور میں حد درجے احتیاط سے کام لینا ہوگا، اس بات میں کوئی شک نہیں کہ پاکستانی صحافیوں میں اکثریت ریاست کے ہمدرد، افواج پاکستان کے حامی، پاک آرمی کے طرف دار اور پاکستان کے خیر خواہوں کی ہے، اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ مسئلہ ہمیشہ صرف اور صرف شخصیات کی پسند نا پسند اور مرضی کی پالیسی یا پالیسی سے اختلاف کا رہا ہے۔
اور یہ بھی حقیقت ہے کہ فی زمانہ اندرون ملک کے چھوٹے چھوٹے فرعون ہوں یا عالمی طاقتیں کوئی صحافی کی سچی اور درست خبر کو برداشت نہیں کرتا۔ اور صحافیوں کے خلاف اسی عدم برداشت کا مظاہرہ کرتے ہوئے گزشتہ ماہ اسرائیل نے مزید چار بین الاقوامی صحافیوں کو شہید کردیا، غزہ میں شہید ہونے والے صحافیوں میں
محمد سلاما الجزیرہ ،،، حسام المرسی رائیٹرز ،،،، معاذ ابوطحہ فلسطین میڈیا،،،،، اور خاتون صحافی مریم ابو داقا AFP بھی شامل ہیں،
کیا مریم ابو داقہ کے قتل پر مغرب ایسا ہی شور مچایا گیا جیسا کہ اسلامی ممالک میں خواتین کے تحفظ کے حوالے سے طوفان اٹھایا جاتا ہے؟، نہیں بلکہ مکمل خاموشی اختیار کی گئی، اور اب دیگر معاملات کی طرح صحافت کے معاملے میں بھی ہر گزرتا دن مغرب کا دہرا معیار واضح کرتا جارہا ہے۔ اس سلسلے میں پاکستان کی نہیں بلکہ دنیا بھر کی صحافتی تنظیموں کو اسرائیل کے ہاتھوں صحافیوں کی مسلسل اموات پر امریکی سفارتخانہ پر احتجاج اور مستقبل میں صحافیوں کے تحفظ کو ممکن بنانے کے لئے اقدامات کرنے کا بھرپور مطالبہ کرنا چاہیئے۔۔۔۔
آج دنیا بظاہر اپنے جدید اور روشن دور سے گزر رہی ہے مگر اس مصنوعی چکاچوند کے پردے میں انسانیت، سچائی اور خیر خبر کے بجائے پروپگینڈے کا تاریک دور اس پر حاوی ہے، اس تاریکی نے بڑے بڑے بت تراش دئے ہیں جن میں سب سے بڑے بت شہرت، خودنمائی اور پیسہ کے ہیں، اور ان تینوں بتوں کے پجاری ان کے لئے سب کچھ کرنے کے لئے ہر وقت تیار اور موقع کی تلاش میں ہیں۔ کہتے ہیں کہ اس میں بہتے کچھ لکھاری بھی دراصل بچہ جمہورا بن چکے ہیں جو اپنے اپنے مالک کی نمک خواری کرتے اور اس کی ڈگڈگی پر ناچتے ملیں گے، جو گناہوں پر پردہ ڈالنے سے لے کر عذر گناہ تراشنے تک تمام احکامات بجا لاتے ہیں۔
کسی زمانے میں صحافیوں کے اداروں، شخصیات اور سیاستدانوں سے عزت دارانہ تعلقات ہوتے تھے، یہی اصل صحافت کا دور تھا ،،، پھر کچھ لوگوں نے صحافت کو کاروبار بنایا خصوصاً کراچی کے ایک بڑے اخباری گروپ کے بانی نے کاروباری جنگ شروع کی، اور اس جنگ میں اپنے صحافت کو کاروبار بنایا،،،،، اس کے بعد اشتہار حاصل کرنے سے لے کر، پیڈ کالم لکھنے تک اور خبر چھاپنے سے خبر چھپانے تک کا دور آیا، یہ زرد صحافت کا دور کہلایا،،،، پھر خبریں آئیں کہ لاہور سے ایک نیا اخبار نکلا ہے جو مبینہ طور پر زور زبردستی اور بلیک میلنگ بھی کرتا ہے یہ منفی صحافت کا دور کہلایا ،،،،،،، تب بہت سی کاروباری شخصیات نے پریس پاور کا استعمال کرنے کے لئے اپنے اپنے میڈیا ہاؤسز بنا لئے یا خرید لئے اور صحافی ملازم بن کر رہ گئے، اسی دوران سیاسی قوتوں نے اپنے اپنے لوگ بھرتی کروائے اور یوں کچھ صحافی کارکن بھی بن گئے اور اب تو کہتے ہیں کہ چھوٹے چھوٹے سرکاری و غیر سرکاری لوگوں کے بھی اپنے اپنے ذاتی صحافی رکھے ہوئے ہیں، خیر پھر یوں ہوا کہ سب کچھ حد سے بڑھ گیا اور ان سب کے چلتے صحافیوں کو بوجوہ مثبت صحافت پر مجبور کردیا گیا،،،،، کہتے ہیں اب بھی سب کچھ چل رہا ہے ،،،،، مگر اب محتاط صحافت کا دور ہے ، اور اس کا ادراک سب ہی کو ہے، اب بھی سچی بات شائع اور نشر کرنے کے لئے اجازت کا انتظار کیا جاتا ہے اور دیر ہونے پر خود ہی پوچھ لیا کرتے ہیں۔۔۔۔ بقول شخصے بہت سے صحافیوں نے صحافت سے بہت فائدہ حاصل کیا ہے، بلکہ کچھ نے تو ناجائزہ فائدے بھی اٹھائے، مگر ہواؤں کا رخ سال میں ایک دو بار ضرور بدلتا ہے اور کچھ ایسے ہی صحافی ان ہواؤں کی زد میں آجاتے ہیں، اس حوالے سے سوفٹ ویئر اپڈیٹ کرنے کی اصطلاح عام ہے۔
ایک المیہ یہ بھی ہے کہ اب پرانے صحافیوں کے تجربات ناکام ہوتے نظر آرہے ہیں، پرانے تجزیہ کاروں کی نصیحتیں اکارت جاتی دکھائی دے رہی ہیں، سینیئر کالم نگار نقاد خانے میں طوطی بن کر رہ گئے ہیں۔۔
جدید دور میں صحافت بھی تبدیل ہوگئی یا کردی گئی ہے، اس سے قطع نظر پہلے تو قارئین اس غلط فہمی سے نکلیں کہ یوٹیوب پر چینلز بنانے والے سارے صحافی آپ کو سچ بتا رہے ہیں، ہر مائیک اور کیمرہ پکڑنے والا صحافی نہیں ہوتا، دراصل ان میں کچھ کو آپ کا وقت، کلکس، لائکس اور اپنے چینلز کی مونی ٹائی زیشن چاہئے ہوتی ہے، اور اکثر کو شہرت/مشہوری یا فالورز بڑھانے کی ضرورت ہوتی ہے ان کے لئے آپ صرف ایک نمبر ہوتے ہیں، ایک اکائی جس میں اضافہ ان کا مقصد ہوتا ہے (اکائی، دھائی، سینکڑہ، ہزار، لاکھ، کروڑ) اسی لئے یہ وہی دکھائیں گے یا ذکر کریں گے جو بکے گا، یا جس کے پیسے ملیں ھے، کیوں کہ حقیقت میں یہ سب پیسے کا ہی کھیل ہے۔
لہذا اپنے وقت اور پیسے کا زیاں کرنے، اور ان کے چکر میں ایک دوسرے کی مخالفت کرنے سے بچیں، ان کی کی محبت میں بہکنے اور بھٹکنے کی بجائے خود مطالعہ کیجئے، ارد گرد کے زمینی حقائق پر غور و فکر کیجئے اور سب سے بہترین اچھے اساتذہ کی محفل میں بیٹھئے جن کا مقصد نہ تو خودنمائی ہوتا ہے نہ ہی پیسہ، زندگی چھوٹی سی ہے بہت چھوٹی پتہ بھی نہیں چلے گا کہ کب جوان ہوئے کب جوانی ختم ہوئی، کب بڑھاپا آیا اور کب آخر، اس زندگی کو سوچ سمجھ کر جیئیں۔
خیر موضوع کی طرف واپس آتے ہیں،،،، ماضی بعید میں قانونی کی حکمرانی کے بارے میں بہت کچھ پڑھا ہے، مگر افسوس کہ ہماری نسل نے قانون پر حکمرانی کے قصے اپنی آنکھوں سے دیکھے اور کانوں سے سنے ہیں، کبھی کسی شخصیت نے اس کا مظاہرہ کیا تو کبھی کسی گروہ نے، مگر ہماری نئی نسل کو شاید قانون کے ذریعے حکمرانی کا سامنا کرنا ہوگا۔
پیکا ترمیمی ایکٹ 2025 اور 26ویں ترمیم کے بعد بظاہر پاکستان میں پارلیمنٹ کی بالادستی، عدلیہ کی خودمختاری اور میڈیا کی آزادی ختم کی گئی ہے ۔ شاید دوسرے لفظوں میں ملک بھر میں غیر اعلانیہ مارشل لاء نافذ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ جس میں آئین اور بنیادی انسانی حقوق صلب ہوجاتے ہیں،
اس بات سے بھی انکار نہیں کہ کچھ لوگ صحافی یا صحافت کی آڑ میں مسلسل ڈیجیٹل دہشت گردی کرنے کی ناکام کوشش کر رہے ہیں اور یہ ریاست کا فرض بنتا ہے کہ ایسے سوشل میڈیائی شدت پسندوں کو ہر طرح سے قابو کر کے ملک و قوم کو آنے والے خطرہ سے محفوظ رکھے۔
لیکن کیا ٹک ٹاک اکاؤنٹس، فیس بک پیجز اور یو ٹیوپ چینلز وغیرہ بند کرنا مسئلے کا حل ہے؟، کیا کل یہ لوگ کسی اور نام سے سوشل میڈیا کا غلط استعمال نہیں کریں گے؟ ۔۔۔۔۔ اور کیا نا چاہتے ہوئے بھی اس ترقی یافتہ مگر تاریک دور میں یہ بھیڑ چال بڑھتی نہیں جارہی اور مستقبل میں اضافہ ہوتا نظر نہیں آرہا؟ ان حالات میں یقیناً اصل ملزمان کو سزائیں دئے بغیر بہتری کی امید نہیں کی جاسکتی ہے، اور ایسے لوگوں کو سزائیں ملنی بھی چاہیئے۔
لیکن صحافیوں اور صحافتی تنظیموں کی اکثریتی رائے ہے کہ پیکا ترمیمی ایکٹ 2025 حق گو صحافیوں کی آوازیں دبانے کے لیے لایا جا رہا ہے، ماضی میں بھی ایسے قانون لائے گئے جن میں سزائیں بھی دی گئی تھیں، مگر افسوس ماضی میں اکثر اس طرح کے قوانین کو صرف ذاتی ایجنڈوں یا مخالفین پر استعمال کیا گیا، اور جعلی اخبارات و صحافی آزاد رہے، خدشہ ہے کہ اب مستقبل میں بھی ایسا نہ ہو کہ جعلی سوشل میڈیا اکاؤنٹس محفوظ رہیں اور اصل صحافی زہر عتاب آئیں۔
یاد رہے کہ یکطرفہ اور جانبدارانہ فیصلے ویسے ہی مسترد اور ہے اثر ہو جایا کرتے ہیں،
آپ لکھاری ہیں اور میڈیا سے وابستہ بھی ہیں تو ایسے جملے نہ ادا کریں کہ کسی کی مخالفت ہو وہ آپ کو اپنا دشمن سمجھے،،، نظریاتی صحافی تو خود سب کا دوست ہوتا ہے تاکہ اپنی پیشہ ورانہ زمہ داریوں میں مدد کے راستے نکالے۔ صاحب دل آزاری مقصد نہیں، مگر دل دکھتا ہے تو لکھ دیتے ہیں، کیوں کہ یہ معاملہ اتنا سیدھا نہیں ہے، یہ صحافت کی ساکھ کے ساتھ صحافی کی عزت و حفاظت کا بھی ہے،
پچھلے دنوں دو خبریں آئیں جن کے مطابق ریٹائرڈ ڈی ایس پی عزیز اللہ خان کی جانب سے لاہور کے ایک پولیس اسٹیشن میں لاہور کے چار کرائم رپورٹرز کے خلاف مقدمہ درج کرنے کی درخواست دی گئی، عزیز اللہ خان ایڈوکیٹ نے لاہور کے چار کرائم رپورٹرز کے خلاف مقامی پولیس اسٹیشن میں مقدمہ درج کرنے کی درخواست دی تھی جو کہ وصول کر کے ایک ٹیگ جاری کر دیا گیا تھا، جس کی ریٹائرڈ ڈی ایس پی عزیز اللہ خان ایڈووکیٹ نے اپنی فیس بک وال پر تصدیق کی ہے،
جب کہ دوسری جانب لاہور کے تھانہ شاہدرہ میں سب انسپکٹر اور سنتری کی زبردستی گاڑی روک کر گالم گلوچ کرنے، ہاتھا پائی کرنے، سرکاری وردی پھاڑنے اور محمکہ پولیس کے افسران کے خلاف نعرے بازی کرنے پر 4 نامزد صحافیوں اور 8 نامعلوم افراد خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔ اب دیکھیں اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے۔ گو کہ عوام کا اس سے براہ راست تعلق نہ سہی پھر بھی معاملہ آزادی رائے کا ہے اور سچ جاننا سچ بولنا تو سب کا حق ہے، اور سچ کہنا، سچ لکھنا، سچ بتانا صحافی کا فرض،،، یہ بات درست ہے کہ اکثر ایسے صحافیوں کی ماضی میں بلکہ موجودہ دور میں بھی وہ قدر نہیں کی گئی جس کے وہ حقدار تھے یا ہیں، افراتفری اور اقربا پروری کے ادوار میں بلاشبہ غربت، سادگی یا ایمانداری ترقی کی دشمن ہے اور ہر شعبے کی طرح صحافت کے ایسے گمنام ہیرو ہمیشہ تاریک معاشروں میں گم ہو جاتے ہیں ورنہ انہیں بھی معلوم ہوتا تھا اور معلوم ہے کہ پیسہ کیسے کمایا بلکہ کھینچا جاتا ہے، کیوں کہ اب بھی ہمارے ارد گرد دن رات یہی کھیل جاری ہے شاید زیادہ زور و شور سے چل رہا ہے۔
خیر ملک و قوم کی بہتری کے لئے ایسے معاملات میں میڈیا اور ادارے صرف ہمدردی اور مخالفت پر نہیں بلکہ اصلاح پر توجہ دیں، میں باہمی گفتگو، مشاورت، اور پیشہ ورانہ مدد کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
آخر میں عرض ہے ۔۔
اٹھتے جاتے ہیں صاحب علم و عمل
اب روشنی پائیں کیسے گمراہ لوگ
جاتے جا رہے ہیں میرے جری جوان
اب کیا کریں گے ہم جیسے کچرا لوگ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں