ایک نوجوان کا پیغام، وطن کے نام/تحریر/راکعیہ راہی 0

ایک نوجوان کا پیغام، وطن کے نام/تحریر/راکعیہ راہی

ایک نوجوان کا پیغام — وطن کے نام

راکعیہ راہی

یہ محض ایک پیغام نہیں ہے ، ایک دستک ہے۔ شاید تیری خاموش دیواروں سے ٹکرانے والی وہ صدا جو برسوں سے دلوں میں قید تھی۔
اے وطن پاکستان! تو ایک ایسی سر زمین ہے جسے خون کے بدلے حاصل کیا گیا۔ تیری فضاؤں نے مجھے تجھ سے محبت کرنے کا سلیقہ دیا۔
میں نے بچپن میں تجھے ایک خواب کی مانند جانا، وہ خواب جو کتابوں کے صفحات میں جگمگاتا تھا، استاد کے لہجے میں فخر بن کر جھلکتا تھا، اور بزرگوں کے لبوں پر دعا بن کر چمکتا تھا۔ وہی پاکستان جسے “لا الہ الا اللہ” کی بنیاد پر حاصل کیا گیا، جہاں انصاف کو دین کا حصہ سمجھا جانا تھا، اور جہاں فرد کی عزت، ریاست کی پہچان ہوتی تھی۔
مگر آج ہم انہی جوانوں کو خواب آنکھوں میں لیے سڑکوں پر روزگار کے لیے دھکے کھاتے دیکھتے ہیں ۔ وہی جوان جو اندھی امید کے سہارے علم حاصل کرتے ہیں، ڈگری لیتے ہیں، مہارت پیدا کرتے ہیں لیکن جن دروازوں پر دستک دیتے ہیں تو وہاں سفارش اور طبقاتی تفریق نے پہرہ دے رکھا ہوتا ہے پھر نہ تعلیم کی روشنی انہیں راہ دکھا سکتی ہے نہ ادارے انہیں پہچان دے سکتے ہیں ۔
یہ کہانی کسی ایک کی نہیں۔ ہمارے اردگرد ہزاروں نوجوان ہیں جن کے چہروں پر مایوسی کے سائے گہرے ہو چکے ہیں۔ کوئی وطن چھوڑنے کے کاغذات مکمل کر رہا ہے، کوئی غیر یقینی مستقبل میں الجھ کر خود کو بے مقصد محسوس کر رہا ہے۔ وہ نوجوان جو کسی وقت قومی ترقی کے ستون کہلاتے تھے، آج اپنے وجود کے جواز کی تلاش میں سرگرداں ہیں۔
اگر معاشرہ دیکھا جائے تو بظاہر سب کچھ رواں دواں ہے۔ بازار آباد ہیں، تقاریر جاری ہیں، بینرز سجے ہوئے ہیں۔ مگر اگر دل کی سطح پر دیکھا جائے تو ہر فرد بکھرا ہوا ہے۔ ہم نے تہذیب کو ترقی کے نام پر تار تار کر دیا ہے، اخلاص کو چالاکی سمجھ لیا ہے، اور سچ کو مصلحتوں کی نذر کر دیا ہے۔ انسان باقی ہے، مگر انسانیت غائب ہے۔
اخبارات روز نئی داستانیں سناتے ہیں ۔ کہیں مذہبی شدت سے پارہ چنار میں قتل عام ، کہیں سیاسی چپقلش ، کہیں پولیس کی رشوت خوری اور کہیں اداروں میں پیسے کا کھیل ۔ کہیں ماں اپنے بچوں سمیت دریا میں چھلانگ لگا دیتی ہے تو کہیں باپ بجلی کی تاروں کو اپنی موت کا سبب بنا لیتا ہے۔ کہیں قطاروں میں کھڑی عورتیں بے نظیر انکم سپورٹ کی بھیک مانگ رہی ہوتی ہیں تو کہیں مرد حضرات ڈاکے ڈال رہے ہیں ۔کیوں ؟؟
کیونکہ فاقہ سہنا مشکل ہو گیا ہے ۔ یہ چند واقعات نہیں، یہ ایک اجتماعی المیہ ہے جسے ہم معمول سمجھ کر نظرانداز کر چکے ہیں۔
تعلیم جو قوموں کی ریڑھ کی ہڈی ہوتی ہے، یہاں ایک بوجھ، ایک کاروبار، یا ایک سیاسی ہتھیار بن چکی ہے۔ کسی سکول میں استاد غیر حاضر ہے، کہیں نصاب میں تعصب بھرا ہوا ہے، کہیں علم صرف رٹا بن کر رہ گیا ہے۔ ایسے میں تخلیق، سوال اور تحقیق کا دروازہ خود بخود بند ہو جاتا ہے۔ نوجوان سوال کرنے کے قابل نہیں رہا، صرف مقابلہ کرنے کا غلام بن چکا ہے۔
ریاست اور حکومت کا رشتہ بھی ایک رسمی اعلان بن چکا ہے۔ حکمران اقتدار کی دوڑ میں مصروف ہیں، اور عوام بنیادی ضروریات کے لیے قطاروں میں کھڑے ہیں۔ ایوانوں میں پالیسیاں بنتی ہیں، مگر زمین پر ان کا عکس دکھائی نہیں دیتا۔
بین الاقوامی سطح پر ہماری حیثیت اک سوالیہ نشان ہے۔ ہم نہ اپنے فیصلے خود کر سکتے ہیں، نہ اپنے بیانیے کی وضاحت۔ امداد کے بدلے آزادی گروی رکھ دی گئی ہے۔ قومی خودمختاری صرف تقریروں تک محدود ہے، اور عمل میں ہم بظاہر آزاد مگر حقیقت میں مقروض اور مجبور قوم ہیں۔
لیکن یہ سب بیان کرنے کا مقصد صرف ماتم کرنا نہیں۔ میں مایوس نہیں، بس آئینہ دکھا رہا ہوں۔ کیونکہ قومیں آئینوں سے نہیں ڈرتیں، وہ ان میں اپنا چہرہ پہچانتی ہیں، اور خود کو بدلنے کا آغاز کرتی ہیں۔
ہمیں صرف تبدیلی کے نعرے نہیں، بلکہ عمل کا سلیقہ اور اجتماعی ذمہ داری کا شعور درکار ہے۔
نوجوانوں کو شکایتوں سے آگے بڑھنا ہو گا۔ انہیں تخریب سے تعمیر، اور مایوسی سے جدوجہد کی طرف پلٹنا ہو گا۔ ہمیں خود کو اس قابل بنانا ہے کہ ہم اس پاکستان کو وہ پاکستان بنا سکیں جو ہمیں ورثے میں نہیں، بلکہ امانت میں ملا تھا۔

اے وطن! ہم تجھے روٹھنے نہیں دیں گے۔
ہم تیری مٹی سے، تیرے درختوں سے، تیرے دریاؤں سے، تیری زبان سے، تیرے خواب سے وفا نبھائیں گے۔
کیونکہ ہم جانتے ہیں، تیرے سینے میں وہ حرارت( نوجوان) ابھی باقی ہے، جو اک دن تجھے اس زبوں حالی اور اندھیرے سے نکال کر اس دنیا کی ترقی یافتہ ممالک کی صف میں لا کر کھڑا کر دیں گے۔ تم نا امید مت ہونا ! یہ نوجوان ایک روز اوج ثریا کے مستحق ہوں گے ۔ ایک دن آئے گا جب اس وطن کی مٹی سے محبت کرنے والے دل خزبوں سے سرشار ہوں گے کہ اپنے مقدر کی شب تاریک کو سحر کر کے اسلامی تاریخ کے دھارے بدل دیں گے۔

سے وطن ! ہم تیری عزت کی قسم کھاتے ہیں
تیری عظمت ، تیری حرمت کی قسم کھاتے ہیں
تیرے دامن پہ کبھی آنچ نہ آنے دیں گے
جان دے دیں گے ،مگر تجھ کو نہ جانے دیں گے

ایک نوجوان کا پیغام، وطن کے نام/تحریر/راکعیہ راہی

آزادی یا نئی غلامی /تحریر/محمد حسنین معاویہ
میری ماں جیسا میرا پاکستان/تحریر/حسیبہ انور

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں