یہودی طبیعت لوگ /تحریر/مولانا پیر فیضان چشتی
دو لوگوں میں پھوٹ پیدا کرنا نفرت و عداوت کو ہوا دینا اور لڑائی جھگڑا کروانا ایک بندہ مومن کی شان نہیں ہے بلکہ یہود کا پرانا وطیرہ ہے مسلمان باہم جوڑتا ہے اور کافر توڑتا ہے۔ اسی چیز کو قرآن کریم ان الفاظ میں بیان فرماتا ہے:
اے ایمان والو اگر تم کچھ کتابیوں کے کہے پر چکے تو وہ تمہارے ایمان کے بعد تمہیں کافر کر چھوڑیں گے۔ (سورہ آل عمران آیت 100)
شاس بن قیس یہودی مسلمانوں کی مجلس کے قریب سے گزرا جس میں انصار کے دونوں قبیلے اوس اور خزرج نہایت محبت سے باتیں کر رہے تھے، اسلام سے پہلے ان کی آپس میں بہت جنگ تھی اس یہودی کو ان کے اتفاق سے بڑی تکلیف ہوئی چنانچہ اس نے ایک نوجوان یہودی سے کہا کہ تم اِن کی گزشتہ جنگیں یاد دلا کر اِنہیں لڑا دو۔ اس نے ایسا ہی کیا اور کچھ قصیدے پڑھے جن میں ان کی گزشتہ جنگوں کا ذکر تھا۔ ان قصائد کو سن کر انصار کو اپنی گزشتہ جنگیں یاد آگئیں اور وہ آپس میں لڑ پڑے۔ قریب تھا کہ خون ریزی ہوجائے، مدینے کے تاجدار صلی اللہ علیہ وسلم فوراً موقع پر تشریف لائے اور فرمایا کہ کیا جاہلیت کی حرکتیں کرتے ہو حالانکہ میں تمہارے درمیان موجود ہوں۔ یہ سن کر انہوں نے ہتھیار پھینک دئیے اور روتے ہوئے ایک دوسرے کے گلے لگ گئے۔ اس پر یہ آیت کریمہ اتری۔
(تفسیر در منثور، اٰل عمران، تحت الآیۃ: 100)
اس سے یہ بات روز روشن کی طرح واضح ہوتی کہ فتنہ فساد برپا کرنا اور مسلمانوں کو آپس میں لڑانا یہودیوں کا کام اور آپس میں پیار محبت پیدا کرنا اور صلح کروانا سراپا رَحمت، مجسمِ شفقت، شفیعِ امت صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے۔
یہودی طبیعت لوگ /تحریر/مولانا پیر فیضان چشتی
اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو/تحریر/محمد حسنین معاویہ