ایک لمحہ… اور سب کچھ بدل گیا/تحریر/محمد حسنین معاویہ 0

اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو/تحریر/محمد حسنین معاویہ

اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو/تحریر/محمد حسنین معاویہ
ندائے قلم

سیلابی پانی جب بستیوں کو بہا لے جاتا ہے، کھیت کھلیان اجڑ جاتے ہیں، مکانوں کی بنیادیں ڈھیر ہو جاتی ہیں اور انسان اپنی محنت کی کمائی کو لمحوں میں ریت کا ڈھیر بنتے دیکھتا ہے، تو دل لرز اٹھتا ہے۔ یہ منظر ہمیں صرف اس بات کی یاد دہانی نہیں کرواتا کہ ہم کتنے بے بس اور کمزور ہیں بلکہ یہ بھی کہ ایک ایسی قوت ہے جو سب کچھ قابو میں رکھتی ہے۔ وہ قوت صرف اور صرف اللہ رب العالمین کی ہے۔
ہماری آنکھوں کے سامنے بڑے بڑے پل ٹوٹ جاتے ہیں، مضبوط دیواریں بہہ جاتی ہیں، اونچی عمارتیں زمین بوس ہو جاتی ہیں۔ لیکن آسمان پر موجود رب کی قدرت کی چھوٹی سی جھلک یہ حقیقت واضح کرتی ہے کہ دنیا کی کوئی طاقت، کوئی نظام، کوئی سائنس اور کوئی ٹیکنالوجی، اللہ کے حکم کے آگے بے معنی ہے۔
یہ سیلاب محض پانی کی روانی نہیں ہے، یہ اللہ کی طرف سے ایک پیغام ہے۔ ایک وارننگ ہے۔ یہ ہمیں جھنجھوڑنے آیا ہے کہ ہم کب تک اپنے رب کو بھولے رہیں گے؟ کب تک دنیا کے دھوکے میں پڑے رہیں گے؟ کب تک گناہوں اور نافرمانیوں کے دلدل میں پھنستے رہیں گے؟
قرآن ہمیں بار بار یہی سکھاتا ہے:

> “وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّقُوا”
(اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور فرقہ فرقہ نہ ہو جاؤ)۔

آج جب پانی ہماری دہلیزوں تک آ پہنچا ہے، یہ الفاظ ہماری زندگی کی پکار بننے چاہئیں۔
آزمائش یا عذاب؟
یاد رکھیے! یہ آفات کبھی محض قدرتی حادثے نہیں ہوتے۔ یہ یا تو گناہوں کی سزا ہیں یا پھر امتحان ہیں۔ اور یہ فیصلہ ہم اپنے رویوں سے کرتے ہیں۔ اگر ہم ان لمحات میں بھی اپنی توبہ کے دروازے بند رکھیں، اگر ہم اپنی مساجد کو سنسان رکھیں، اگر ہم رب کے ذکر کو چھوڑ کر صرف دنیاوی مدد کے محتاج بن جائیں، تو یہ آزمائش ہمارے لیے عذاب میں بدل جائے گی۔ لیکن اگر ہم ان لمحات کو توبہ، استغفار اور اصلاحِ اعمال کے لیے استعمال کریں تو یہی پانی ہمارے لیے رحمت کا ذریعہ بھی بن سکتا ہے۔

ایک قوم بننے کی ضرورت

سیلاب کی تباہی نے ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ کیا ہم واقعی ایک قوم ہیں یا محض ایک ہجوم؟ قومیں مشکل وقت میں ایک ہو کر اٹھتی ہیں۔ ان کا درد سانجھا ہوتا ہے، ان کے وسائل مشترکہ ہوتے ہیں اور ان کی دعائیں ایک رب کے حضور جھکتی ہیں۔
آج ہمیں اپنے دلوں کو جھانکنے کی ضرورت ہے۔ کیا ہم اپنے رب سے تعلق کو زندہ کرنے کے لیے تیار ہیں؟ کیا ہم اپنی خود غرضیوں کو چھوڑ کر بھائی چارے کی طرف بڑھنے کے لیے تیار ہیں؟ کیا ہم ان بے سہارا لوگوں کے ہاتھ تھامیں گے جو اپنا سب کچھ کھو بیٹھے ہیں؟

مساجد کو آباد کرو

سیلابی پانی سے بچنے کے لیے ہم بلند مقامات پر پناہ لیتے ہیں، لیکن یاد رکھیے کہ اصل پناہ صرف اللہ کے گھر میں ہے۔ اگر ہماری مساجد آباد ہو جائیں، اگر ہماری صفیں نمازیوں سے بھر جائیں، اگر ہمارے دل ذکرِ الٰہی سے معمور ہو جائیں تو یہی زمین ہمارے لیے رحمت کا گہوارہ بن جائے گی۔

لیکن افسوس! آج ہمارے بازار آباد ہیں، ہمارے کھیل کے میدان آباد ہیں، ہمارے گناہوں کے اڈے آباد ہیں، مگر ہمارے رب کا گھر ویران ہے۔ یہ ویرانی ہی اصل عذاب ہے۔ جب بندے اپنے رب کو بھول جاتے ہیں تو زمین و آسمان ان کے خلاف گواہی دینے لگتے ہیں۔

رجوع الی اللہ

یہ وقت سیاست، فرقہ واریت، الزام تراشی یا مایوسی کا نہیں ہے۔ یہ وقت ہے اپنے رب کی طرف پلٹنے کا۔ آئیں! ہم سب مل کر اجتماعی طور پر توبہ کریں۔ اپنے رب کے حضور سجدہ ریز ہو جائیں۔ اپنے گناہوں کا اعتراف کریں۔ قرآن کو اپنا دستورِ حیات بنائیں۔ رسول اللہ ﷺ کی سنت کو اپنی زندگی کا نقشہ بنائیں۔

یہ وقت دعا کا ہے، آہ و زاری کا ہے، آنسوؤں سے اپنے دامن کو تر کرنے کا ہے۔ اللہ چاہے تو ایک ہی “کن” کے حکم سے ان سیلابی ریلوں کو روک دے، لیکن وہ دیکھنا چاہتا ہے کہ ہم اس آزمائش میں کس طرف کھڑے ہیں۔

ہماری ذمہ داریاں

1. اجتماعی توبہ: ہر شخص اپنی زبان سے استغفار کرے اور اپنے گناہوں سے
نجات کی نیت کرے۔

2. مساجد کی رونق: اپنے بچوں کو، اپنے گھروں کو نماز سے جوڑیں۔ یہ سیلاب ہماری غفلت کا علاج ہے۔

3. بھائی چارہ: سیلاب زدہ بھائیوں کی مدد کریں۔ یہ وقت ذخیرہ اندوزی یا خود غرضی کا نہیں بلکہ ایثار کا ہے۔

4. قوم کی بیداری: ہمیں اپنی آنے والی نسلوں کو یہ سبق دینا ہوگا کہ رب کو چھوڑ کر کوئی پناہ نہیں۔

یہ سیلاب ایک پیغام ہے:
“اے لوگو! تمہارے پاس دنیا کی کوئی پناہ نہیں، سوائے میرے۔ میری رسی کو مضبوطی سے تھام لو، ورنہ تمہارے قدم اکھڑ جائیں گے۔”
لہٰذا اے میرے وطن کے باسیوں! آئیں، ہم سب مل کر اپنے گناہوں پر آنسو بہائیں، اپنے رب کی بارگاہ میں جھکیں، اس کی رسی کو مضبوطی سے تھامیں اور ایک سچی قوم بن کر دکھائیں۔ کیونکہ نجات کا راستہ صرف ایک ہے:
اللہ سے لو لگانا، اللہ کے گھروں کو آباد کرنا، اور اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لینا.
اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو/تحریر/محمد حسنین معاویہ

دریا اپنی زمین واپس مانگ رہے ہیں/تحریر / عابد محمود عزام
چلو کہ بونیر بلا رہا ہے/تحریر/اسامہ معاویہ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں