0

دریا اپنی زمین واپس مانگ رہے ہیں/تحریر / عابد محمود عزام

سیلاب کی تباہی: منصوبہ بندی کہاں ہے؟/تحریر/عابد محمود عزام
سیلاب سے بچاؤ کے طریقے کیا ہوں، ان کی وجوہات کیا ہیں، نقصانات کس حد تک بڑھ سکتے ہیں اور بچاؤ کے لیے کون سے اقدامات ضروری ہیں، یہ سب طے کرنا عوام کا نہیں بلکہ ریاست کا فرض ہے۔ دریاؤں کے
دریا اپنی جگہ واپس مانگ رہے ہیں/تحریر/عابد محمود عزام

یہ سیلاب دراصل پانی کے اپنی حدود سے تجاوز کرنے کا نتیجہ نہیں، بلکہ اس حقیقت کا اظہار ہے کہ دریا اپنی اصل جگہ واپس لے رہا ہے۔ دریاؤں کی اصل گنجائش آج کے سکڑے ہوئے دریاؤں سے کہیں زیادہ تھی، مگر ہم نے دریاؤں کی جگہوں پر قبضہ کر کے ان کی گنجائش کم کر دی اور اس کے قدرتی راستے کو روک دیا۔ دریا کی زمین پر درجنوں سوسائٹیاں اور آبادیاں تعمیر کی گئیں۔ یہ صرف پنجاب میں ہی نہیں ہوا، بلکہ دریائے سندھ کی زمین پر بھی متعدد ہاوسنگ سوسائٹیوں پر کام جاری ہے۔ اس تباہی کے اصل ذمہ دار وہ سرمایہ دار ہیں جنہوں نے دریاؤں کے راستے پر قبضہ کر کے اپنے منصوبے بنائے اور وہ بدعنوان بیوروکریٹس اور سیاست دان ہیں جنہوں نے این او سی کے نام پر اربوں روپے لے کر یہ قبضے ممکن بنائے۔ اس بربادی کا اصل سبب یہی لالچ اور بددیانتی ہے۔ ایسا نہیں کہ اس سال آخری سیلاب ہے اور آئندہ کبھی سیلاب نہیں آئے گا۔ مستقبل کی منصوبہ بندی ابھی سے کرنا ہوگی۔
اب محض الزام تراشی سے کچھ حاصل نہیں ہوگا، بلکہ ضروری ہے کہ ان تمام ذمہ داروں کا سخت احتساب کیا جائے تاکہ آئندہ کوئی ایسی جرات نہ کر سکے۔ اس کے بعد بنیادی اقدامات کیے جائیں، جن میں سب سے اہم دریاؤں کو ان کی اصل گنجائش پر بحال کرنا ہے تاکہ وہ زیادہ پانی اپنے اندر سمو سکیں اور تباہی کے امکانات کم ہو سکیں۔ دریاؤں کی زمین پر قائم تمام سوسائٹیاں اور آبادیاں ختم کر کے قدرتی راستہ خالی کیا جائے، دریاؤں کو ریت نکال کر گہرا اور وسیع کیا جائے تاکہ پانی گزرنے کی گنجائش بڑھ سکے۔
اس کے ساتھ مزید اقدامات بھی ضروری ہیں۔ جہاں ممکن ہو وہاں ڈیم اور ریزروائرز تعمیر کیے جائیں، بیراج اور نئی نہریں بنائی جائیں، برساتی نالوں اور نکاسیٔ آب کے نظام کو بہتر بنایا جائے، جنگلات میں اضافہ کیا جائے، بارش کے پانی کو محفوظ کیا جائے اور شہروں کے نالوں کی بروقت صفائی اور زیرِ زمین پانی ریچارج سسٹم قائم کیا جائے۔ یہ سب اقدامات بیک وقت ممکن نہیں، مگر ان کی منصوبہ بندی اور ابتدا فوری طور پر ہونی چاہیے۔ بصورت دیگر مستقبل میں بھی ملک کو انہی تباہ کاریوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔ المیہ یہ ہے کہ ہر بار بوجھ عام آدمی ہی کے حصے میں آتا ہے، جبکہ جن کی غفلت اور مفاد پرستی سے یہ آفات برپا ہوتی ہیں، وہ اشرافیہ ہمیشہ محفوظ رہتی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں