0

عالمی یومِ امن: تقریب یا تحریک!/ تحریر / محمد اویس شاہد

عالمی یومِ امن: تقریب یا تحریک!
محمد اویس شاہد

امن، انسانیت کی سب سے بڑی آرزو ہے۔ یہ وہ بنیاد ہے جس پر تہذیب و تمدن، ترقی اور خوش حالی کی عمارت کھڑی ہوتی ہے۔ جہاں امن نہ ہو، وہاں خوف، انتشار اور تباہی راج کرتی ہے۔ اسی امن کی اہمیت کو اجاگر کرنے اور اسے عالمی سطح پر فروغ دینے کے لیے ہر سال 21 ستمبر کو عالمی یومِ امن منایا جاتا ہے۔ یہ دن منانے کا مقصد دنیا بھر کے لوگوں کو یہ یاد دلانا ہے کہ امن محض جنگ کی عدم موجودگی کا نام نہیں، بل کہ یہ انصاف، احترام اور باہمی افہام و تفہیم پر مبنی ایک مثبت اور پائیدار عمل ہے۔ یہ دن ہمیں اس بات کا ادراک دیتا ہے کہ ہم سب کو مل کر ایک ایسی دنیا کی تعمیر کرنی ہے جہاں ہر انسان پُرامن طور پر رہ سکے۔
عالمی یومِ امن کا آغاز ایک طویل اور بامقصد جدوجہد کے بعد ہوا۔ 1981 میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے متفقہ طور پر 21 ستمبر کو عالمی یومِ امن قرار دیا۔ اس دن کی تجویز سب سے پہلے برطانیہ کے سابق وزیر خارجہ لارڈ کارلسلے نے پیش کی تھی۔ اقوام متحدہ نے اس دن کو جنگ بندی اور عدم تشدد کے دن کے طور پر منانے کا اعلان کیا۔ اس دن کا مقصد یہ تھا کہ دنیا بھر کے تنازعات میں فریقین کم از کم ایک دن کے لیے ہتھیار ڈال دیں اور انسانیت کو امن کا پیغام دیں۔ 2001 میں اقوام متحدہ نے 21 ستمبر کو تمام ممالک اور اقوام کے درمیان امن کی ثقافت کو فروغ دینے کے لیے ایک مستقل دن کے طور پر تسلیم کیا۔ یہ دن اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس کے افتتاحی دن کے ساتھ بھی منسلک ہوتا ہے، جو اس کی علامتی اہمیت کو مزید بڑھا دیتا ہے۔ اس دن کا مرکزی خیال یہ ہے کہ ہم سب کو مل کر امن کے لیے کوششیں کرنی ہیں، نہ کہ صرف اس کی خواہش۔

یومِ امن محض ایک رسمی دن نہیں، بل کہ یہ ایک ایسا موقع ہے جب ہم اپنے ارد گرد پھیلے ہوئے تنازعات، غربت، ناانصافی اور تعصب پر غور کریں تو یہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ حقیقی امن کا حصول صرف حکومتی سطح پر نہیں، بل کہ ہر فرد کی اپنی زندگی میں بھی ممکن ہے۔ جب ایک فرد اپنے گھر، محلے اور معاشرے میں امن قائم کرتا ہے تو اس کے اثرات عالمی سطح پر ظاہر ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اقوام متحدہ اس دن کے لیے ہر سال ایک نیا موضوع طے کرتی ہے، تاکہ دنیا بھر کے لوگ اس مخصوص مسئلے پر توجہ دے سکیں اور اس کے حل کے لیے مشترکہ کوششیں کر سکیں۔
پاکستان، ایک ایسا ملک جس نے اپنی تاریخ میں متعدد جنگوں اور دہشت گردی کا سامنا کیا ہے، لہٰذا یہ امن کی اہمیت کو بہ خوبی سمجھتا ہے۔ اس نے عالمی امن کے قیام میں ہمیشہ ایک مثبت اور فعال کردار ادا کیا ہے۔ پاکستان اقوام متحدہ کے امن مشنوں میں سب سے زیادہ فوجی اور پولیس دستے بھیجنے والے ممالک میں سے ایک ہے۔ پاکستان کے امن دستے (Pakistani Peacekeepers) دنیا بھر کے مختلف تنازعات زدہ علاقوں میں امن کی بحالی کے لیے اپنی خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ ان دستوں نے کانگو، سیرا لیون، لائبیریا، آئیوری کوسٹ، اور دیگر ممالک میں امن و استحکام قائم کرنے میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔
پاکستان کے امن دستوں نے نہ صرف فوجی کارروائیاں کیں، بل کہ انہوں نے مختلف مقامی آبادیوں کی مدد کے لیے بھی فلاحی کام انجام دیے ہیں۔ انہوں نے اسکولوں، اسپتالوں اور سڑکوں کی تعمیر میں حصہ لیا، طبی امداد فراہم کی اور تنازعات زدہ علاقوں میں عوام کو تحفظ فراہم کیا۔ ان کی قربانیوں کو اقوام متحدہ اور عالمی برادری نے کئی مرتبہ سراہا ہے۔ پاکستانی امن دستوں کی بہادری، نظم و ضبط اور پیشہ ورانہ مہارت نے دنیا بھر میں پاکستان کا نام روشن کیا ہے۔ انہوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر کے یہ ثابت کیا کہ پاکستان امن کا علم بردار ہے۔ یہ امن دستے درحقیقت پاکستان کی امن پسندی اور عالمی برادری کے ساتھ اس کے عزم کی واضح مثال ہیں۔
عالمی یومِ امن کے موقع پر پاکستان میں بھی مختلف تقاریب اور سیمینارز کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ ان میں امن کی اہمیت کو اجاگر کیا جاتا ہے اور پاکستانی امن دستوں کی خدمات کو خراج تحسین پیش کیا جاتا ہے۔ یہ دن ہمیں اس بات کا موقع فراہم کرتا ہے کہ ہم ان بہادر سپاہیوں کی قربانیوں کو یاد کریں جنہوں نے دوسرے ممالک کے لوگوں کے لیے امن اور امید کی شمع جلائی۔
معزز قارئین! امن کا حصول محض ایک نظریاتی تصور نہیں، بل کہ یہ ایک مشترکہ، فعال اور مسلسل عمل ہے، جس میں ہر فرد، معاشرہ اور ریاست برابر کے شریک ہیں۔ یہ ذمے داری صرف حکومتوں، عالمی تنظیموں یا امن دستوں تک محدود نہیں ہونی چاہیے، بل کہ یہ ہم سب کی انفرادی اور اجتماعی ذمے داری بھی بنتی ہے کہ ہم قیام امن کے لیے اپنی صلاحیتوں کا مثبت استعمال کریں۔ جب تک ہم معاشرے سے عدم برداشت، نفرت اور تشدد کی جڑیں ختم نہیں کرتے، تب تک پائیدار امن کا قیام ایک خواب ہی رہے گا۔ اس عمل کا آغاز گھر سے ہوتا ہے، جہاں والدین بچوں میں احترام، ہم دردی اور مختلف سوچ کو قبول کرنے کی اقدار پیدا کرتے ہیں۔ پھر یہ تعلیم اسکولوں اور تعلیمی اداروں میں پروان چڑھتی ہے، جہاں نوجوانوں کو تنازعات کو پرامن طریقوں سے حل کرنے کی مہارت سکھائی جاتی ہے۔
حقیقی امن کے قیام کے لیے ہمیں ان بنیادی وجوہات کو سمجھنا اور ختم کرنا ہوگا جو تنازعات کو جنم دیتی ہیں۔ ان میں غربت، معاشی عدم مساوات، ماحولیاتی مسائل اور سماجی ناانصافی شامل ہیں۔ جب تک انسانیت کا ایک بڑا حصہ بنیادی ضروریات سے محروم رہے گا، تب تک امن کی بنیادیں کم زور رہیں گی۔ آج کی باہم مربوط دنیا میں کوئی بھی قوم اکیلے ان چیلنجز کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔ اس کے لیے عالمی سطح پر تعاون، وسائل کی منصفانہ تقسیم اور مشترکہ حکمت عملی کی ضرورت ہے۔
عالمی یومِ امن ہمیں اس حقیقت کی یاد دہانی کراتا ہے کہ امن ایک انتخاب ہے۔ یہ ایک شعوری فیصلہ ہے جو ہر روز ہم سب کو اپنی گفت گو، اپنے رویے اور اپنے عمل میں اپنانا چاہیے۔ ایک پرامن دنیا کی تعمیر کے لیے ہمیں نہ صرف جنگوں کا خاتمہ کرنا ہوگا، بل کہ اس ذہنیت کا بھی خاتمہ کرنا ہوگا جو جنگوں کو فروغ دیتی ہے۔ ہمیں اپنے اختلافات کو تسلیم کرتے ہوئے باہمی افہام و تفہیم کے لیے راستہ بنانا ہوگا۔ اگر ہم اس دن کے پیغام کو اپنی زندگیوں کا حصہ بنا لیں تو یہ محض ایک دن کی تقریب نہیں رہے گی، بل کہ ایک ایسی تحریک بن جائے گی جو پوری دنیا میں پائیدار امن اور خوش حالی کی ضمانت دے گی۔ آئیے ہم سب مل کر امن کے سفیر بنیں اور ایک ایسے مستقبل کی بنیاد رکھیں جہاں انسانیت کا ہر فرد پرامن طور پر رہ سکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں