دفاع پاکستان جنگ ستمبر 1965 سے آپریشن بنیان المرصوص تک”/تحریر/طاہر ایوب جنجوعہ
پاکستان ایک عظیم مملکت ہے۔ اور اس حقیقت کو ہر پاکستانی جانتا ہے کہ 78 سال پہلے یہ مُملکت عظیم لاکھوں قربانیوں اور جان مال گھر بار زمین جائیداد اور اپنا سب کچھ لٹا دینے کے عوض حاصل ہوئی۔ مگر اس بات کا ادراک شاید ہر ایک کو نہیں ہوتا کہ دنیا کے نقشے پر جگہ بنا لینے کے بعد سب سے بڑا مسئلہ اس کی بقا اور سلامتی کا ہوتا ہے۔ جس کے لیے سب سے پہلے اس ملک کا عسکری شعبہ تخلیق کیا جاتا یے۔ دنیا میں ہر دور کے مطابق ایک باقاعدہ مربوط منظم اور دفاعی اعتبار سے جدید فوج ہی کسی ملک یا خطے کی حرمت سلامتی اور اس کی خودمختاری کی ضمانت ہوا کرتی ہے۔
بقائے پاکستان اور اس کی سلامتی و خود مختاری کے دفاع کے لیے ہماری برّی بحری اور فضائی افواج کا کردار بھی اسی نوعیت کا ہے۔ جسے تاریخ کے آئینے میں دیکھا جائے تو یہ لازوال قربانیوں اور شاندار کامیابیوں سے عبارت ہے۔
پاکستان دنیا کے اُن چند ممالک میں شامل ہے جنہیں ان کے جغرافیائی محلِ وقوع کے اعتبار سے علاقائی اور عالمی امور میں غیر معمولی اہمیت حاصل ہے۔ تقسیم ہند اور برطانوی راج کے خاتمہ کے بعد قائم ہونے والا یہ ملک محض ایک نظریاتی ریاست ہی نہیں بلکہ ایک اسٹریٹیجک پوزیشن کا حامل ملک بھی ہے۔ اس کی سرحدیں مشرق میں بھارت، مغرب میں افغانستان و ایران، شمال میں چین، اور جنوب میں بحیرۂ عرب سے ملتی ہیں۔ اس منفرد جغرافیائی حیثیت نے پاکستان کو بیک وقت وسطی ایشیا، جنوبی ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ سے جوڑ دیا ہے۔ یہی وہ نکتہ ہے جو عالمی طاقتوں کو پاکستان کے گرد گھومنے پر مجبور کرتا ہے۔ اسی بنا پر پاکستان نہ صرف اقتصادی و سفارتی داؤپیچ کا مرکز ہے بلکہ ہمیشہ سے ہی فوجی، سیاسی اور نظریاتی دباؤ کا بھی مستقل شکار رہا ہے۔ بیرونی دشمن ہر وقت پاکستان کو کمزور کرنے کے درپے رہتے ہیں۔ ہمارا ازلی دشمن بھارت جس نے آج تک ہمیں دل سے تسلیم ہی نہیں کیا ہمیشہ اس تاک میں رہتا ہے کہ کب اسے موقع ملے اور اس کے وجود کو مٹانے کی ناپاک جسارت کرے۔ لائن آف کنٹرول کی مسلسل خلاف ورزیاں اس کا معمول رہی ہیں۔ افغانستان کی سرزمین سے دہشت گردی کی کارروائیاں، ایران کے ساتھ سرحدی کشیدگیاں، اور امریکی دباؤ ۔ یہ تمام عوامل پاکستان کی سلامتی اور خودمختاری کو شروع سے ہی درپیش رہے۔
ایسے میں افواج پاکستان کی اہمیت اور ضرورت پہلے سے دو چند ہو جاتی ہے۔ بقائے پاکستان کے اس مشن میں افواج پاکستان کا پہلا بڑا اور کڑا امتحان ستمبر 1965 میں انڈیا کے ساتھ جنگ کا تھا جس میں بھارت ایک بڑی فوج کے ساتھ کسی بدمست ہاتھی کی طرح پاکستان پر حملہ آور ہوا, وہ اپنی دانست میں لاہور پر قبضہ کے بعد لاہور جمخانہ میں جشن منانے کا ناپاک ارادہ رکھتا تھا مگر اس قوم کے بہادر سپوتوں نے اپنی مٹی کے ایک ذرے ذرے کی پاسبانی میں بہادری کے وہ جوپر دکھائے کہ اسے اپنے ٹینک توپیں اور دیگر ساز و سامان چھوڑ کو بھاگنا پڑا۔ میجر عزیز بھٹی شہید اور کرنل شفقت عباس بلوچ جیسے سپاہیوں نے اپنی جان کے عوض وہ تاریخ رقم کی کہ جسے رہتی دنیا تک ملٹری نصابوں میں پڑھایا جائے گا۔ لاہور سے ناکام ہونے کے بعد چانکیہ کے پجاریوں نے اپنا اگلا ٹارگٹ سیالکوٹ کو بنایا، بھارتی فوج نے سینکڑوں ٹینکوں کے ذریعے ایک ساتھ بڑا حملہ کیا مگر مٹی کی محبت میں ان آشفتہ سروں کے جذبوں نے فولاد تک کو پگھلا دیا، دنیا نے دیکھا کہ کس طرح ہمارے فوجی جوان سینوں سے بم باندھ کر بھارتی ٹینکوں کے نیچے جاتے اور انہیں اڑا کر رکھ دیتے۔ اسی شام چونڈہ کا سیکٹر بھارتی ٹینکوں کا قبرستان بنا پڑا تھا۔ جنگ عظیم دوئم کے بعد یہ اس صدی کی دوسری بڑی ٹینکوں کی فائیٹ تھی جس پر دنیا انگشت بدنداں ہوئی۔ بعد میں اس پر کئی ممالک میں فلمیں بھی بنیں۔
1965 کی جنگ میں افواج پاکستان نے بھارت کو بری بحری اور فضائی میدانوں میں چاروں شانے چت کیا۔ اس جنگ کے بعد دفاعی اعتبار سے افواج پاکستان کی اہمیت مزید بڑھ گئی۔ اس جنگ میں انڈیا کے پاس روسی ساختہ جدید اسلحہ تھا جبکہ ہمارے پاس 1951 میں قائم ہونے والی پاکستان آرڈننس فیکٹری واہ کے پرانے ہتھیار تھے مگر اس کے باوجود بھارت کو ناکام و نامراد ہونا پڑا۔ اس صورت حال کو دیکھتے ہوئے جنگ کے بعد افواج پاکستان کے لیے سب سے بڑا چیلنج اپنے محدود وسائل کے ساتھ جدید جنگی سازو سامان کی خریداری اور تیاری تھی۔ جس پر ان وقتوں میں ہنگامی بنیادوں پر کام شروع ہوا اور آج ہماری اسلحہ ساز فیکٹریاں ماڈرن ترین جنگی ساز و سامان تیار کر رہی ہیں جو مشرق اور مغرب کا حسین امتزاج ہے۔
اب میدان جنگ میں منہ کی کھانے کے بعد بھارت کو شکست کی ہزیمت بے چین کیے رکھتی تھی۔ وہ ہمہ وقت کسی زخمی سانپ کی طرح اپنے زخم چاٹتا اور بدلے کی تلاش میں رہتا تھا۔ چنانچہ اس بار اس نے ایک نئے میدان کا انتخاب کیا اور پاکستان کو اندرونی سطح پر کمزور کرنے کے لیے مکارانہ چالیں چلنا شروع کیں۔ اس کے لیے اس نے ملک دشمن سیاسی قوتوں کا سہارا لیا۔ جن میں شیخ مجیب الرحمٰن سرفہرست تھا۔ اس نے مشرقی پاکستان خصوصاً بنگالیوں کو بھڑکانے کے لیے مجیب الرحمن کو خوب استعمال کیا۔ جغرافیائی اعتبار سے مشرقی پاکستان مرکز سے دور تھا اور شروع سے ہی پسماندہ اور بنیادی سہولتوں کے قحط کا شکار تھا۔ اس فطری کمزوری کو جواز بنا کر بھارت نے شیخ مجیب کے ذریعے بنگالیوں کو قومیت کے نام پر اس قدر اشتعال دلایا کہ وہ علیحدگی کا مطالبہ کرنے لگے۔ یوں بھارت کو جنگ ستمبر 1965 کا بدلہ لینے کا سنہری موقعہ ہاتھ لگا۔ اگرچہ مشرقی پاکستان اس اندرونی خلفشار اور کچھ اپنوں کی نادانیوں کے باعث 1971 کی جنگ میں ہم سے جدا ہوا لیکن ایک تلخ اور غم ناک سبق دے گیا۔
اس سانحے کے بعد پاک فوج نے خود کو منظم کیا اور ایک نئے جوش اور ولولہ انگیز جذبے کے ساتھ کام شروع کیا اپنی صلاحیتوں کو وقت کی رفتار سے ہم آہنگ کیا۔ جدید لڑاکا جنگی جہاز بنائے، جدید ٹینک اور گن شپ ہیلی کاپٹرز سے استفادہ کیا، سب میرین شپ اور آرمڈ پرسنل کیریئر سمیت جدید ترین ہتھیاروں پر توجہ دی، ڈیفنس انڈسٹری قائم کی۔ ڈیفنس ایکسپورٹ پروموشن آرگنائزیشن بنائی گئیں تاکہ پاکستانی اسلحہ پروموٹ ہو سکے۔ اٹامک انرجی کمیشن بنایا اور ایٹمی ریسرچ اپنے محدود وسائل پر شروع کی۔
اس کے بعد ”آپریشن چُیومک“ دنیا کے بلند ترین محاذِ جنگ سیاچن کی تاریخ کا ایک اہم اور ناقابل فراموش واقعہ ہے جس میں 30 اپریل 1989 کو وسائل کی کمی اور انتہائی مشکل موسمی حالات میں میجر نوید الرحمن کو ہیلی کاپٹرکے ساتھ سلنگ کرکے 25 ہزار فٹ کی بلندی پراتارا گیا۔ یہ چوٹی جو دفاعی نقطہ نگاہ سے نہایت اہمیت کی حامل تھی۔ پاکستان نے نہ صرف اس پر قبضہ کر کے علاقائی برتری حاصل کی بلکہ ارٹلری فائر سے برف کی دبیز تہہ میں ارتعاش سے تودہ گرا اور دشمن کی پوری بٹالین اس کے نیچے دب کر ہلاک ہوئی, اس معرکے میں پاکستان فوج کے ایک جوان کی شہادت ہوئی اور میجر نوید زخمی ہوئے۔ اس پوسٹ پر سبز ہلالی پرچم آج بھی پوری آب و تاب سے لہرا ریا ہے۔
1998 میں بھارت کے مقابلہ میں پاکستان نے آٹھ ایٹمی دھماکے کر کے دنیا کے طاقتوروں کی فہرست میں ایک نیا دھماکہ کر دیا۔ پاکستان کا دفاع نہ صرف ناقابل تسخیر ہوا بلکہ علاقائی برتری کے واضح ثبوت بھی دنیا کو مہیا کر دیے۔
پھر اس کے بعد 1999 میں کارگل کا مرحلہ آتا ہے جب چند کشمیری مجاہدین نے کارگل کی پہاڑی پر قبضہ کر لیا، بھارت کے لیے یہ واقعہ جگ ہنسائی کا باعث بنا کہ چند درجن نہتے مجاھدین نے کیل کانٹوں سے لیس ہزاروں کی تعداد میں بھارتی افواج کو بھاگنے پر مجبور کر دیا۔ اپنی شرمندگی چھپانے کے لیے انڈیا چند درجن مجاھدین کے لیے وہاں چار ڈویژن فوج لائی مگر ناکام رہا۔ ادھر اب مجاہدین کے بعد اسے پاک فوج کا بھی سامنا تھا اپنی گرتی ہوئی ساکھ بچانے کیلئے بھارتی وزیراعظم نے اپنے آرمی چیف کے کہنے پر امریکا سے جنگ بندی کی استدعا کی، جس پر پاک فوج نے اسے قبضہ شدہ علاقہ جات واپس کیے۔ کارگل آپریشن پاک فوج کی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل تھا۔
اس کے بعد امریکہ میں 9/11 کا واقعہ ہوا جس نے دنیا کو ہلا کر رکھ دیا۔ القائدہ اور طالبان ایلیمنٹ نے پاکستان کو بھی متاثر کیا۔ دنیا کو محفوظ بنانے کی آرزو میں پاکستان بھی دہشت گردوں کے خلاف لڑنے لگا۔ مگر اس کا نقصان یہ ہوا کہ دہشت گرد اپنی کارروائیوں کو ہمارے دروازوں پر لے آئے۔ پاکستان کے کچھ بالائی شمالی علاقوں خصوصاً سوات اور وزیرستان پر طالبان دہشت گردوں نے اجارہ داریاں قائم کر لیں، اس دوران خود کش بمباروں جیسی نئی مصیبت نے جنم لیا اور یوں پاکستان نے دہشت گردی کی جنگ میں اپنے لاکھوں فوجیوں اور شہریوں کے جنازے اٹھائے۔ اس نازک صورت حال میں بالآخر پاک فوج نے ہمیشہ کی طرح اس پاک وطن سے ہر طرح کے ناسور ختم کرنے کا اعادہ کیا اور وادی سوات اور جنوبی وزیرستان میں ضرب عضب، راہِ راست، راہِ نجات، اور ردالفساد جیسے بڑے فوجی آپریشن سے دہشت گردی کے ناسور کا خاتمہ کیا۔
اگر پاک فوج کو جرات اور پیشہ وارانہ مہارت کے آئینے میں دیکھا جائے تو سر فخر سے بلند ہو جاتا ہے۔ 2019 میں بھارت کے ساتھ مشہور زمانہ فضائی معرکہ جس میں انڈین فوج کے دو سے تین طیارے مار گرائے جن میں سے ایک انڈین پائلٹ ابی نندن کو زندہ گرفتار کیا گیا۔ جو ایک داغ کی شکل میں انڈین افواج کے ماتھے پر ہمیشہ ثبت رہے گا۔
پھر اس کے بعد حالیہ آپریشن بنیان المرصوص نے تو گویا دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی الگ کر دیا۔ پاکستان نہ صرف فتح سے ہمکنار ہوا بلکہ بھارت کے جدید ترین لڑاکا رافیل طیاروں کی تباھی نے اسے دنیا بھر میں تماشا بنا کر رکھ دیا، انڈیا کے ائیر ڈیفنس سسٹمز کی تباھی نے انڈیا کے کھوکھلے دفاع اور ناکام دفاعی حکمت عملی کو عیاں کیا۔ جس پر بلاشبہ دنیا نے تسلیم کیا کہ آپریشن بنیان المرصوص پاک فوج کی شاندار اور پیشہ وارانہ قابلیت ، ہمت ،سوچ اور بے مثال بہادری کی ایک زندہ و تابندہ مثال ہے۔ جس میں پاک فوج کے شیروں ،فضائیہ کے شاہینوں اور نیوی کے دلیروں نے زمین سے فضاء اور سمندروں میں پاکستان کی دھاک بٹھا دی۔
آج جب کہ ٹیکنالوجی کا دور دورہ ہے اور روز نئی سے نئی ایجادات اور جدید اسلحہ سامنے آرہا ہے، ایسے میں حکومت پاکستان کو چاہیے کہ افواج پاکستان کو بدلتے ہوئے حالات کے مطابق ڈھالنے اور کسی بھی جارحیت کا مقابلہ کرنے کے لئے مزید جدید دفاعی ہتھیاروں سے لیس اور ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ کرے۔ بلاشبہ فوجی کامیابی کا دارومدار صرف ہمت جرات اور جذبے پر ہی نہیں ہوتا بلکہ اس کے لیے مکمل تیاری ، دیگر اداروں کی مدد اور جدید دفاعی حکمت عملی سے ہوتا ہے۔
پاکستان ایک عظیم مملکت ہے۔ اور اس حقیقت کو ہر پاکستانی جانتا ہے کہ 78 سال پہلے یہ مُملکت عظیم لاکھوں قربانیوں اور جان مال گھر بار زمین جائیداد اور اپنا سب کچھ لٹا دینے کے عوض حاصل ہوئی۔ مگر اس بات کا ادراک شاید ہر ایک کو نہیں ہوتا کہ دنیا کے نقشے پر جگہ بنا لینے کے بعد سب سے بڑا مسئلہ اس کی بقا اور سلامتی کا ہوتا ہے۔ جس کے لیے سب سے پہلے اس ملک کا عسکری شعبہ تخلیق کیا جاتا یے۔ دنیا میں ہر دور کے مطابق ایک باقاعدہ مربوط منظم اور دفاعی اعتبار سے جدید فوج ہی کسی ملک یا خطے کی حرمت سلامتی اور اس کی خودمختاری کی ضمانت ہوا کرتی ہے۔
بقائے پاکستان اور اس کی سلامتی و خود مختاری کے دفاع کے لیے ہماری برّی بحری اور فضائی افواج کا کردار بھی اسی نوعیت کا ہے۔ جسے تاریخ کے آئینے میں دیکھا جائے تو یہ لازوال قربانیوں اور شاندار کامیابیوں سے عبارت ہے۔
پاکستان دنیا کے اُن چند ممالک میں شامل ہے جنہیں ان کے جغرافیائی محلِ وقوع کے اعتبار سے علاقائی اور عالمی امور میں غیر معمولی اہمیت حاصل ہے۔ تقسیم ہند اور برطانوی راج کے خاتمہ کے بعد قائم ہونے والا یہ ملک محض ایک نظریاتی ریاست ہی نہیں بلکہ ایک اسٹریٹیجک پوزیشن کا حامل ملک بھی ہے۔ اس کی سرحدیں مشرق میں بھارت، مغرب میں افغانستان و ایران، شمال میں چین، اور جنوب میں بحیرۂ عرب سے ملتی ہیں۔ اس منفرد جغرافیائی حیثیت نے پاکستان کو بیک وقت وسطی ایشیا، جنوبی ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ سے جوڑ دیا ہے۔ یہی وہ نکتہ ہے جو عالمی طاقتوں کو پاکستان کے گرد گھومنے پر مجبور کرتا ہے۔ اسی بنا پر پاکستان نہ صرف اقتصادی و سفارتی داؤپیچ کا مرکز ہے بلکہ ہمیشہ سے ہی فوجی، سیاسی اور نظریاتی دباؤ کا بھی مستقل شکار رہا ہے۔ بیرونی دشمن ہر وقت پاکستان کو کمزور کرنے کے درپے رہتے ہیں۔ ہمارا ازلی دشمن بھارت جس نے آج تک ہمیں دل سے تسلیم ہی نہیں کیا ہمیشہ اس تاک میں رہتا ہے کہ کب اسے موقع ملے اور اس کے وجود کو مٹانے کی ناپاک جسارت کرے۔ لائن آف کنٹرول کی مسلسل خلاف ورزیاں اس کا معمول رہی ہیں۔ افغانستان کی سرزمین سے دہشت گردی کی کارروائیاں، ایران کے ساتھ سرحدی کشیدگیاں، اور امریکی دباؤ ۔ یہ تمام عوامل پاکستان کی سلامتی اور خودمختاری کو شروع سے ہی درپیش رہے۔
ایسے میں افواج پاکستان کی اہمیت اور ضرورت پہلے سے دو چند ہو جاتی ہے۔ بقائے پاکستان کے اس مشن میں افواج پاکستان کا پہلا بڑا اور کڑا امتحان ستمبر 1965 میں انڈیا کے ساتھ جنگ کا تھا جس میں بھارت ایک بڑی فوج کے ساتھ کسی بدمست ہاتھی کی طرح پاکستان پر حملہ آور ہوا, وہ اپنی دانست میں لاہور پر قبضہ کے بعد لاہور جمخانہ میں جشن منانے کا ناپاک ارادہ رکھتا تھا مگر اس قوم کے بہادر سپوتوں نے اپنی مٹی کے ایک ذرے ذرے کی پاسبانی میں بہادری کے وہ جوپر دکھائے کہ اسے اپنے ٹینک توپیں اور دیگر ساز و سامان چھوڑ کو بھاگنا پڑا۔ میجر عزیز بھٹی شہید اور کرنل شفقت عباس بلوچ جیسے سپاہیوں نے اپنی جان کے عوض وہ تاریخ رقم کی کہ جسے رہتی دنیا تک ملٹری نصابوں میں پڑھایا جائے گا۔ لاہور سے ناکام ہونے کے بعد چانکیہ کے پجاریوں نے اپنا اگلا ٹارگٹ سیالکوٹ کو بنایا، بھارتی فوج نے سینکڑوں ٹینکوں کے ذریعے ایک ساتھ بڑا حملہ کیا مگر مٹی کی محبت میں ان آشفتہ سروں کے جذبوں نے فولاد تک کو پگھلا دیا، دنیا نے دیکھا کہ کس طرح ہمارے فوجی جوان سینوں سے بم باندھ کر بھارتی ٹینکوں کے نیچے جاتے اور انہیں اڑا کر رکھ دیتے۔ اسی شام چونڈہ کا سیکٹر بھارتی ٹینکوں کا قبرستان بنا پڑا تھا۔ جنگ عظیم دوئم کے بعد یہ اس صدی کی دوسری بڑی ٹینکوں کی فائیٹ تھی جس پر دنیا انگشت بدنداں ہوئی۔ بعد میں اس پر کئی ممالک میں فلمیں بھی بنیں۔
1965 کی جنگ میں افواج پاکستان نے بھارت کو بری بحری اور فضائی میدانوں میں چاروں شانے چت کیا۔ اس جنگ کے بعد دفاعی اعتبار سے افواج پاکستان کی اہمیت مزید بڑھ گئی۔ اس جنگ میں انڈیا کے پاس روسی ساختہ جدید اسلحہ تھا جبکہ ہمارے پاس 1951 میں قائم ہونے والی پاکستان آرڈننس فیکٹری واہ کے پرانے ہتھیار تھے مگر اس کے باوجود بھارت کو ناکام و نامراد ہونا پڑا۔ اس صورت حال کو دیکھتے ہوئے جنگ کے بعد افواج پاکستان کے لیے سب سے بڑا چیلنج اپنے محدود وسائل کے ساتھ جدید جنگی سازو سامان کی خریداری اور تیاری تھی۔ جس پر ان وقتوں میں ہنگامی بنیادوں پر کام شروع ہوا اور آج ہماری اسلحہ ساز فیکٹریاں ماڈرن ترین جنگی ساز و سامان تیار کر رہی ہیں جو مشرق اور مغرب کا حسین امتزاج ہے۔
اب میدان جنگ میں منہ کی کھانے کے بعد بھارت کو شکست کی ہزیمت بے چین کیے رکھتی تھی۔ وہ ہمہ وقت کسی زخمی سانپ کی طرح اپنے زخم چاٹتا اور بدلے کی تلاش میں رہتا تھا۔ چنانچہ اس بار اس نے ایک نئے میدان کا انتخاب کیا اور پاکستان کو اندرونی سطح پر کمزور کرنے کے لیے مکارانہ چالیں چلنا شروع کیں۔ اس کے لیے اس نے ملک دشمن سیاسی قوتوں کا سہارا لیا۔ جن میں شیخ مجیب الرحمٰن سرفہرست تھا۔ اس نے مشرقی پاکستان خصوصاً بنگالیوں کو بھڑکانے کے لیے مجیب الرحمن کو خوب استعمال کیا۔ جغرافیائی اعتبار سے مشرقی پاکستان مرکز سے دور تھا اور شروع سے ہی پسماندہ اور بنیادی سہولتوں کے قحط کا شکار تھا۔ اس فطری کمزوری کو جواز بنا کر بھارت نے شیخ مجیب کے ذریعے بنگالیوں کو قومیت کے نام پر اس قدر اشتعال دلایا کہ وہ علیحدگی کا مطالبہ کرنے لگے۔ یوں بھارت کو جنگ ستمبر 1965 کا بدلہ لینے کا سنہری موقعہ ہاتھ لگا۔ اگرچہ مشرقی پاکستان اس اندرونی خلفشار اور کچھ اپنوں کی نادانیوں کے باعث 1971 کی جنگ میں ہم سے جدا ہوا لیکن ایک تلخ اور غم ناک سبق دے گیا۔
اس سانحے کے بعد پاک فوج نے خود کو منظم کیا اور ایک نئے جوش اور ولولہ انگیز جذبے کے ساتھ کام شروع کیا اپنی صلاحیتوں کو وقت کی رفتار سے ہم آہنگ کیا۔ جدید لڑاکا جنگی جہاز بنائے، جدید ٹینک اور گن شپ ہیلی کاپٹرز سے استفادہ کیا، سب میرین شپ اور آرمڈ پرسنل کیریئر سمیت جدید ترین ہتھیاروں پر توجہ دی، ڈیفنس انڈسٹری قائم کی۔ ڈیفنس ایکسپورٹ پروموشن آرگنائزیشن بنائی گئیں تاکہ پاکستانی اسلحہ پروموٹ ہو سکے۔ اٹامک انرجی کمیشن بنایا اور ایٹمی ریسرچ اپنے محدود وسائل پر شروع کی۔
اس کے بعد ”آپریشن چُیومک“ دنیا کے بلند ترین محاذِ جنگ سیاچن کی تاریخ کا ایک اہم اور ناقابل فراموش واقعہ ہے جس میں 30 اپریل 1989 کو وسائل کی کمی اور انتہائی مشکل موسمی حالات میں میجر نوید الرحمن کو ہیلی کاپٹرکے ساتھ سلنگ کرکے 25 ہزار فٹ کی بلندی پراتارا گیا۔ یہ چوٹی جو دفاعی نقطہ نگاہ سے نہایت اہمیت کی حامل تھی۔ پاکستان نے نہ صرف اس پر قبضہ کر کے علاقائی برتری حاصل کی بلکہ ارٹلری فائر سے برف کی دبیز تہہ میں ارتعاش سے تودہ گرا اور دشمن کی پوری بٹالین اس کے نیچے دب کر ہلاک ہوئی, اس معرکے میں پاکستان فوج کے ایک جوان کی شہادت ہوئی اور میجر نوید زخمی ہوئے۔ اس پوسٹ پر سبز ہلالی پرچم آج بھی پوری آب و تاب سے لہرا ریا ہے۔
1998 میں بھارت کے مقابلہ میں پاکستان نے آٹھ ایٹمی دھماکے کر کے دنیا کے طاقتوروں کی فہرست میں ایک نیا دھماکہ کر دیا۔ پاکستان کا دفاع نہ صرف ناقابل تسخیر ہوا بلکہ علاقائی برتری کے واضح ثبوت بھی دنیا کو مہیا کر دیے۔
پھر اس کے بعد 1999 میں کارگل کا مرحلہ آتا ہے جب چند کشمیری مجاہدین نے کارگل کی پہاڑی پر قبضہ کر لیا، بھارت کے لیے یہ واقعہ جگ ہنسائی کا باعث بنا کہ چند درجن نہتے مجاھدین نے کیل کانٹوں سے لیس ہزاروں کی تعداد میں بھارتی افواج کو بھاگنے پر مجبور کر دیا۔ اپنی شرمندگی چھپانے کے لیے انڈیا چند درجن مجاھدین کے لیے وہاں چار ڈویژن فوج لائی مگر ناکام رہا۔ ادھر اب مجاہدین کے بعد اسے پاک فوج کا بھی سامنا تھا اپنی گرتی ہوئی ساکھ بچانے کیلئے بھارتی وزیراعظم نے اپنے آرمی چیف کے کہنے پر امریکا سے جنگ بندی کی استدعا کی، جس پر پاک فوج نے اسے قبضہ شدہ علاقہ جات واپس کیے۔ کارگل آپریشن پاک فوج کی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل تھا۔
اس کے بعد امریکہ میں 9/11 کا واقعہ ہوا جس نے دنیا کو ہلا کر رکھ دیا۔ القائدہ اور طالبان ایلیمنٹ نے پاکستان کو بھی متاثر کیا۔ دنیا کو محفوظ بنانے کی آرزو میں پاکستان بھی دہشت گردوں کے خلاف لڑنے لگا۔ مگر اس کا نقصان یہ ہوا کہ دہشت گرد اپنی کارروائیوں کو ہمارے دروازوں پر لے آئے۔ پاکستان کے کچھ بالائی شمالی علاقوں خصوصاً سوات اور وزیرستان پر طالبان دہشت گردوں نے اجارہ داریاں قائم کر لیں، اس دوران خود کش بمباروں جیسی نئی مصیبت نے جنم لیا اور یوں پاکستان نے دہشت گردی کی جنگ میں اپنے لاکھوں فوجیوں اور شہریوں کے جنازے اٹھائے۔ اس نازک صورت حال میں بالآخر پاک فوج نے ہمیشہ کی طرح اس پاک وطن سے ہر طرح کے ناسور ختم کرنے کا اعادہ کیا اور وادی سوات اور جنوبی وزیرستان میں ضرب عضب، راہِ راست، راہِ نجات، اور ردالفساد جیسے بڑے فوجی آپریشن سے دہشت گردی کے ناسور کا خاتمہ کیا۔
اگر پاک فوج کو جرات اور پیشہ وارانہ مہارت کے آئینے میں دیکھا جائے تو سر فخر سے بلند ہو جاتا ہے۔ 2019 میں بھارت کے ساتھ مشہور زمانہ فضائی معرکہ جس میں انڈین فوج کے دو سے تین طیارے مار گرائے جن میں سے ایک انڈین پائلٹ ابی نندن کو زندہ گرفتار کیا گیا۔ جو ایک داغ کی شکل میں انڈین افواج کے ماتھے پر ہمیشہ ثبت رہے گا۔
پھر اس کے بعد حالیہ آپریشن بنیان المرصوص نے تو گویا دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی الگ کر دیا۔ پاکستان نہ صرف فتح سے ہمکنار ہوا بلکہ بھارت کے جدید ترین لڑاکا رافیل طیاروں کی تباھی نے اسے دنیا بھر میں تماشا بنا کر رکھ دیا، انڈیا کے ائیر ڈیفنس سسٹمز کی تباھی نے انڈیا کے کھوکھلے دفاع اور ناکام دفاعی حکمت عملی کو عیاں کیا۔ جس پر بلاشبہ دنیا نے تسلیم کیا کہ آپریشن بنیان المرصوص پاک فوج کی شاندار اور پیشہ وارانہ قابلیت ، ہمت ،سوچ اور بے مثال بہادری کی ایک زندہ و تابندہ مثال ہے۔ جس میں پاک فوج کے شیروں ،فضائیہ کے شاہینوں اور نیوی کے دلیروں نے زمین سے فضاء اور سمندروں میں پاکستان کی دھاک بٹھا دی۔
آج جب کہ ٹیکنالوجی کا دور دورہ ہے اور روز نئی سے نئی ایجادات اور جدید اسلحہ سامنے آرہا ہے، ایسے میں حکومت پاکستان کو چاہیے کہ افواج پاکستان کو بدلتے ہوئے حالات کے مطابق ڈھالنے اور کسی بھی جارحیت کا مقابلہ کرنے کے لئے مزید جدید دفاعی ہتھیاروں سے لیس اور ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ کرے۔ بلاشبہ فوجی کامیابی کا دارومدار صرف ہمت جرات اور جذبے پر ہی نہیں ہوتا بلکہ اس کے لیے مکمل تیاری ، دیگر اداروں کی مدد اور جدید دفاعی حکمت عملی سے ہوتا ہے۔
دفاع پاکستان جنگ ستمبر 1965 سے آپریشن بنیان المرصوص تک”/تحریر/طاہر ایوب جنجوعہ
جنگِ ستمبر 1965 کے ملی نغمے/تحریر/مصعب شاہین/میانوالی