
انسان کی قیمت – 30 روپے سے بھی کم؟
کبھی آپ نے سوچا ہے کہ ایک انسان کی جان کی قیمت کیا ہے؟ شاید لاکھوں، کروڑوں، یا پھر لفظوں سے بڑھ کر—لیکن رائیونڈ لاہور روڈ پر ہونے والے حالیہ سانحے نے یہ لرزہ خیز حقیقت منہ پر دے ماری کہ ہماری سوچ کے برعکس، آج کے معاشرے میں ایک انسان کی زندگی کی قیمت محض 30 روپے ہے۔ جی ہاں! صرف 30 روپے۔
ایک ایسا جھگڑا جسے چند لمحوں کی برداشت سے ختم کیا جا سکتا تھا، خون میں نہا گیا۔ ایک ماں کی گود اجڑ گئی، ایک خاندان کا چراغ گل ہو گیا، اور ایک بھائی زندگی اور موت کے بیچ تڑپ رہا ہے۔ یہ کوئی کہانی نہیں، یہ ہمارے معاشرے کی تلخ حقیقت ہے۔
رائیونڈ کا یہ واقعہ محض ایک خبر نہیں، بلکہ ہماری اجتماعی بے حسی، اخلاقی پستی اور ختم ہوتی انسانیت کا نوحہ ہے۔ یہ ہمیں اس عہدِ جاہلیت کی یاد دلاتا ہے جب معمولی باتوں پر سالہا سال خون بہایا جاتا تھا۔ اور سوال یہ ہے کہ ہم نے اپنے آپ کو کہاں لا کھڑا کیا ہے؟
رائیونڈ لاہور روڈ پر پیش آنے والا حالیہ واقعہ ہماری اجتماعی زندگی پر ایک کڑوا مگر واضح سوال چھوڑ گیا ہے۔ محض پھلوں کے نرخ پر جھگڑا، تلخ کلامی، پھر ہاتھا پائی، اور آخرکار خونریزی — یہ کیسی اندوہناک صورت ہے کہ ایک انسان کی جان چھن گئی اور دوسرا زندگی اور موت کے درمیان جھول رہا ہے۔ کیا واقعی ایک انسان کی قیمت چند کھوٹے سکوں سے بھی کم رہ گئی ہے؟
واجد، جو دودھ فروشی کے ذریعے اپنے بچوں کے رزق کے لیے محنت مزدوری کرتا تھا، کبھی سوچ بھی نہ سکتا تھا کہ معمولی نرخ پر ہونے والی بحث اس کے خاندان کو ہمیشہ کے لیے ویران کر دے گی۔ اس کا بھائی راشد اسپتال کے بستر پر بے سدھ پڑا ہے، اور ان کی ماں کی آہیں فلک کو چیر رہی ہیں۔ یہ صرف ایک گھر کا المیہ نہیں، بلکہ ہماری اجتماعی بے حسی اور اخلاقی زوال کا نوحہ ہے۔
قرآن کا درسِ اخوت
قرآن کریم ہمیں بار بار رشتہ داری، محبت، حلم اور باہمی احترام کا درس دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
یعنی “سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور تفرقہ مت ڈالو۔”(سورۃ آل عمران: 103)
یہ آیت ہمیں یاد دلاتی ہے کہ انسانوں کے درمیان تعلق اور بھائی چارہ ٹوٹنے نہ پائے۔ قرآن ہمیں بارہا جھگڑوں، کینہ، عداوت اور خونریزی سے روکتا ہے اور ہمیں صلح، درگزر اور معافی کی تعلیم دیتا ہے۔ لیکن افسوس کہ آج ہم چند لمحوں کی انا کے پیچھے صدیوں کے سبق کو بھلا بیٹھے ہیں۔
حضور نبی کریم ﷺ کی بعثت سے قبل انسانیت کا حال
یہ منظر ہمیں اُس عہد کی یاد بھی دلاتا ہے جب حضور نبی کریم ﷺ ے دنیا میں تشریف لانے سے قبل عرب کا معاشرہ جہالت اور ظلم کی تاریکیوں میں ڈوبا ہوا تھا۔ معمولی سی بات پر تلواریں کھینچ لی جاتیں۔ ایک گھونٹ پانی یا ایک اونٹ کے چرنے کی جگہ پر قبائل کئی کئی سال تک جنگیں لڑتے تھے۔ انا اور ضد اتنی غالب تھی کہ انسان کی جان کی کوئی وقعت نہ تھی۔ لیکن جب حضور نبی کریم ﷺ تشریف لائے تو آپ نے اس تاریکی کو نور میں بدل دیا۔ حضور نبی کریم ﷺ نے انسانیت کو رحم، عفو اور بھائی چارے کا سبق دیا۔ آپ نے فرمایا:
> “تم میں سے بہترین وہ ہے جس کے اخلاق سب سے اچھے ہیں۔”
یہی تعلیم تھی جس نے بکھرے ہوئے دلوں کو جوڑا، دشمن قبیلوں کو بھائی بنایا اور خون کی پیاسی قوم کو امن کا علمبردار بنا دیا۔
آج ہم کہاں کھڑے ہیں؟
المیہ یہ ہے کہ وہی عادتیں، وہی جہالت اور وہی انتقام کی سوچ دوبارہ ہمارے اندر زندہ ہو گئی ہے۔ ہم معمولی تنازعے کو انا کا مسئلہ بنا لیتے ہیں اور پھر ناحق خون بہانے میں لمحہ بھر نہیں لگاتے۔ معاشرتی زوال کا یہ عالم ہے کہ صبر، حلم اور برداشت کا دامن ہم سے چھوٹ چکا ہے۔
واجد کی شہادت ہمیں چیخ چیخ کر یاد دلا رہی ہے کہ اگر ہم نے اپنے رویے نہ بدلے تو ہم اسی تاریک دور میں لوٹ جائیں گے جسے حضور نبی کریم ﷺ نے مٹا دیا تھا۔
کیا ہم بیدار ہوں گے؟
اب وقت ہے کہ ہم اپنے گریبانوں میں جھانکیں۔ ہم اپنے بچوں کو محض تعلیم نہیں بلکہ اخلاق، برداشت اور انسانیت کا سبق دیں۔ ہمیں اپنے بازاروں، گلیوں اور گھروں میں اس شعور کو عام کرنا ہوگا کہ دوسروں کی جان کا احترام ہماری اپنی عزت اور ایمان کا حصہ ہے۔ قرآن اور سنت کا پیغام ہمارے لیے صرف کتابی نصیحت نہیں بلکہ عملی زندگی کا دستور ہے۔
واجد کی موت صرف ایک خاندان کا غم نہیں، یہ پوری قوم کے ضمیر کے لیے ایک سوالیہ نشان ہے۔ کیا ہم ایسا معاشرہ چاہتے ہیں جہاں معمولی نرخ پر خون بہے؟ یا پھر ہم وہ معاشرہ بنانا چاہتے ہیں جس کی بنیاد محبت، امن اور بھائی چارے پر رکھی گئی تھی؟
یاد رکھیں! اگر ہم نے رحم اور برداشت کو اپنے دلوں میں جگہ نہ دی، اگر ہم نے اپنی نسلوں کو حلم اور عفو نہ سکھایا، تو آنے والا کل ہم سے پوچھے گا:
“تم نے ہمیں کیسا معاشرہ دیا؟ نفرت اور خون کی وادی یا محبت اور امن کا گلستان؟”
حضور نبی کریم ﷺ کی تعلیمات پر اگر آج ہم عمل پیرا نہیں ہوں گے تو پھر کب ہوں گے؟