دوستی ایک خوبصورت رشتہ ہے۔ ایک بے لوث رشتہ جس کا کوئی نعم البدل نہیں۔ اگر دوست مخلص ہو تو وہ اللہ کا بھیجا ہوا تحفہ ہے انسان کے لئے۔ کچھ لوگوں کی ایسی نیچر ہوتی ہے کہ وہ اپنا اندر کبھی کسی پر ظاہر نہیں کرتے۔ بےشک ان کے اندر طوفان کی سی کیفیت ہو لیکن کوئی ان کو جان نہیں سکتا ایک ماں کے جو اولاد کی شکل دیکھ کر اندر کی تکلیف کا اندازا لگا لیتی ہے اور ایک مخلص دوست جو آواز میں چھپے دکھ کو محسوس کرسکتا ہے۔ لیکن آج کے معاشرے میں مخلص دوست کا ملنا قدر مشکل ہوگیا ہے۔ کیونکہ اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ ہم خود بھی مخلص نہیں رہے۔ایک بہترین اور مخلص دوست وہ ہوتا ہے جو آپ کے بارے میں ہر بات جانتا ہو، ہر وہ بات جو آپ سے جڑے رشتہ داروں کو بھی نا پتہ ہو۔ جو ایک سمندر کی طرح گہرا ہو جس میں آپ کا ہر راز غیب ہوجائے۔لیکن آج کل کے جدید دور کے جدید دوست جو دوستی کا تو دم بھرتے ہیں لیکن وقت آنے پر اپنے ہی دوست کو رسوا کرنے میں وقت نہیں لگاتے وہ دوستوں کے روپ میں آستین کا سانپ ہیں، ایسے دوست بنانے سے تو بہتر ہے کہ انسان دو چار دشمن بنا لے۔ دوستی خلوص و وفا کے اس پاک رشتے کا نام ہے جو بسا اوقات خون کے رشتوں سے بھی بڑھ کر اہمیت رکھتا ہے. سچا دوست وہ نہیں جو آپ کو کسی غلط کام کے لئیے اکسائے جو آپ کی کمزوریوں کو بنیاد بنا کر آپ کو بلیک میل کرے، جس کو آپ تب یاد آہیں جب اس کو کوئی ضرورت ہو ویسے اس سے زیادہ مصروف اس پوری دنیا میں کوئی نہ ہو ایسے لوگ دوست کے روپ میں لالچی بھیڑیے ہوتے ہیں اور اپنا الو سیدھا ہوتے ہی دوستی کے رشتے کا خون کر ڈالتے ہیں.یوں تو کسی بھی زمانے میں دوستوں کی اہمیت سے انکار نہیں۔ لیکن آج کل جس قسم کے دوست مارکیٹ میں آرہے ہیں اسکی مثال ملنا بہت مشکل ہے۔ میں نے بہت سے لڑکوں کو دیکھا ہے جو گھر سے تو کالج کے بہانے نکلتے ہیں لیکن غلط صحبت کے ہاتھے چڑھ کر اس دنیا کے لیئے اور اپنے ماں باپ کے لئے ایک سوال بن جاتے ہیں۔ جن کے لئے دوست ماں باپ سے بڑھ کر ہو جاتے ہیں اور وہ آہستہ آہستہ والدین کے تربیت، تہذیب کے پڑھائے تمام اسباق بھول جاتیں ہیں۔ اور جن بچوں پر دوستی کا رنگ گہرا چڑھتا ہے یہ وہ بچے ہوتے ہیں جن پر ان کے ماں باپ توجہ نہیں دیتے، بچوں کے بگڑنے میں سب سے بڑا ہاتھ ہم ماں باپ کا ہوتا ہے۔ جب ہمارے بچے کو ہماری سب سے زیادہ ضرورت ہوتی ہے تب ہم ان کو دنیا کے حوالے کر دیتے ہیں۔ ہمارے معاشرے کے پڑھے لکھے لوگوں کا ایک ڈائیلاگ ہے “کہ لڑکا ہے گھر میں کیا بیٹھائیں باہر تو نکلنا ہے نا اس نے”اس لیئے ہم اپنے بچوں کو بڑے پیار سے پالتے ہیں، بڑا کرتے ہیں ان کے ناز اٹھاتے ہیں، اچھی تربیت کرتے ہیں لیکن اس تربیت کا رنگ ابھی چڑھتا بھی نہیں،ہم ان کو خود سے دور کر دیتے ہیں۔ یہی وہ وقت ہوتا ہے جب ہمیں اپنے بچوں کے دوست بن جانا چاہئے۔ باہر کی صحبت کو چھوڑ کر اپنے بچوں کو وقت دیں۔ ان پر سختی نا کریں ان کے دوست بن جائیں تاکہ وہ ہر بات آپ سے شیئر کریں ۔ان کو زندگی کی ہر اونچ نیچ کا بتائیں۔ ان کو کنفڈینس دیں۔ نا خود کوئی نشہ کریں اپنے بچوں کے سامنے اور ان کو بھی اس برائی سے دور رہنے کا سبق ایسا پڑھائیں جو وہ کبھی نا بھولیں۔ ان کے تمام دوستوں سے ملیں۔گاڑیوں کی چابیاں بچوں کے ہاتھوں میں تھما دینے سے، یا مہنگے بائیک خرید کر دینے سے سٹیسس میں اضافی نہیں ہوتا، بلکہ خوبصورت اخلاق اور باوقار کردار سے شخصیت کو چار چاند ضرور لگ جاتے ہیں۔ بس ایک حقیقت کو تسلیم کر لیں کہ ہم نے سدا اپنی اولاد کے ساتھ نہیں رہنا۔ ہم کیوں نہ اپنی اولاد کی اتنی اعلی تربیت کریں کہ ہمارے اس دنیا سے جانے کے بعد جن جن کے ساتھ وہ بھلائی کریں وہ یہ کہنے پر مجبور ہو جائیں کہ پالنے والی نے کیا تربیت کی ہے۔ نیک ماں باپ کی اولاد ہے۔ یہ وہ قیمتی الفاظ ہیں جو آپ کی غیر موجودگی میں آپ کے لئیے بولیں جائیں گے جو آپ کے لئیے کسی تمغہ یا اعزاز سے کم نہیں۔ اولاد کے سامنے لہجے میں نرمی اور باوقار اطوار آپ کی عزت میں بھی اضافہ کریے گی اور آپ کی اولاد کو بھی پابند بنانے گی کہ وہ آپ کو کاپی کرے۔یہ سب ہمارے فرائض میں شامل ہے کہ ہمیں آفس کے بعد کا سارا وقت اپنے بچوں کو دینا ہے۔ جب ہم اپنے بچوں کو ہر ایک پر امپورٹیس دیں گے تو کل کو وہ بھی اپنی فیملی کے لئے ایک بہترین باپ ثابت ہو گا۔ ہرروز کوئی نئی بات جو ان کے لئے فائدہ مند ہو بچوں کو سیکھانی چاہے۔ ہمارے بچے پھولوں کی طرح نازک اور بھولے ہیں, خدارا! ان کی حفاظت کریں کیونکہ ہم نے معاشرے کو ایک بہترین انسان دینا ہے۔ بےکار انسان نہیں۔
72
- فیس بک
- ٹویٹر
- واٹس ایپ
- ای میل