0

نماز روح کی زندگی، دل کا سکون/ تحریر/محمد فضیل انصاری

نماز روح کی زندگی دل کا سکوننماز صرف ایک فرض عبادت نہیں بلکہ ایک ایسا روحانی معجزہ ہے جو بندے کو زمین کی گندگی سے اٹھا کر آسمان کی پاکیزگی تک پہنچاتا ہے، یہ پانچ وقت کا وہ دروازہ ہے جو اللہ نے اپنے بندوں کے لیے کھولا تاکہ وہ دنیا کی دوڑ دھوپ، تھکن، فریب، حرص اور غم میں ڈوبنے کے بعد اس کے حضور حاضر ہوں اور اپنے دل کو دھوئیں، اپنی آنکھوں کو ٹھنڈا کریں اور اپنے وجود کو تازہ کریں، قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: “بے شک نماز بے حیائی اور برائی سے روکتی ہے” (سورۃ العنکبوت: 45) اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر نماز کو دل، روح اور خشوع کے ساتھ ادا کیا جائے تو یہ انسان کے کردار کو بدل دیتی ہے، اسے گناہوں سے بچاتی ہے اور اسے ایسا مضبوط بناتی ہے کہ دنیا کا کوئی لالچ یا خوف اسے راہِ حق سے ہٹا نہیں سکتا، لیکن افسوس یہ ہے کہ ہم میں سے اکثر نماز کو ایک رسمی عمل بنا چکے ہیں، زبان ہلتی ہے، جسم حرکت کرتا ہے، لیکن دل کہیں اور ہوتا ہے، حالانکہ اصل نماز وہ ہے جس میں دل بھی جھکے، دماغ بھی جھکے، اور روح بھی جھک جائے، نبی کریم ﷺ نے فرمایا: “بندہ اپنے رب کے سب سے قریب اس وقت ہوتا ہے جب وہ سجدہ کر رہا ہوتا ہے” (صحیح مسلم) سوچو! ایک انسان جو اس دنیا میں طاقتور لوگوں سے ملنے کے لیے بھی وقت اور سفارش ڈھونڈتا ہے، اس کے لیے دن میں پانچ بار یہ موقع ہے کہ وہ براہِ راست کائنات کے مالک سے بات کرے، اور وہ بھی بغیر کسی ترجمان، وزیر یا محافظ کے، نماز صرف دعاؤں کی فہرست سنانے کا نام نہیں، بلکہ اللہ کے سامنے عاجزی، شکر، محبت اور خوف کے ساتھ کھڑے ہونے کا نام ہے، نماز کی حقیقت سمجھنے کے لیے ایک لمحہ یہ سوچنا کافی ہے کہ اگر اللہ ہمیں پانچ وقت بلاتا ہے اور ہم جان بوجھ کر نہ جائیں تو ہم کس کے دربار سے غیر حاضر ہو رہے ہیں؟ دنیا میں اگر کوئی ہمیں پانچ بار اپنے گھر دعوت دے اور ہم انکار کر دیں تو وہ ہمیں بے ادب اور ناشکر گزار سمجھے گا، پھر اللہ جو ہر چیز کا خالق اور مالک ہے، اس کے بلاوے کو ٹالنا کتنی بڑی گستاخی ہے، نماز روح کی زندگی اس لیے ہے کہ جیسے جسم کو زندہ رہنے کے لیے خوراک چاہیے ویسے ہی روح کو زندہ رہنے کے لیے ذکر اور عبادت چاہیے، جو شخص نماز چھوڑ دیتا ہے وہ اپنی روح کو بھوکا رکھتا ہے، اور بھوکی روح گناہوں، حسد، غم اور بے چینی کا شکار ہو جاتی ہے، آج کے دور میں ہم ہر بیماری کے علاج کے لیے دوڑتے ہیں لیکن دل کی بے سکونی، آنکھوں کی بے چینی اور دماغ کی تھکن کا علاج نہیں ڈھونڈتے، حالانکہ اس کا علاج اللہ نے نماز میں رکھا ہے، نبی کریم ﷺ جب کسی پریشانی میں ہوتے تو فوراً نماز کی طرف رجوع کرتے اور فرماتے: “اے بلال! نماز کے ذریعے ہمیں راحت پہنچا” (سنن ابوداؤد) اس جملے میں ایک راز ہے کہ نماز صرف فرض کی ادائیگی نہیں بلکہ دل کا سکون ہے، نماز میں کھڑا ہونا اس بات کا اعلان ہے کہ میں اللہ کا بندہ ہوں اور میں دنیا کی ہر طاقت، ہر لالچ، ہر خوف سے آزاد ہوں، میں صرف اللہ کے سامنے جھکتا ہوں، یہی وہ چیز ہے جو انسان کو عزت دیتی ہے اور اس کی روح کو جلا بخشتی ہے، لیکن آج کا المیہ یہ ہے کہ لوگ وقت پر نماز نہیں پڑھتے یا جلدی جلدی پڑھ کر فارغ ہو جاتے ہیں، حالانکہ یہ وہ ملاقات ہے جو دن کا سب سے خوبصورت لمحہ ہونا چاہیے، قرآن میں ہے: “اور نماز قائم کرو میرے یاد کے لیے” (سورۃ طٰہٰ: 14) مطلب یہ ہے کہ نماز اللہ کو یاد کرنے کا سب سے اعلیٰ طریقہ ہے، اور جب دل اللہ کو یاد کرتا ہے تو اس سے ہر خوف نکل جاتا ہے اور ہر امید مضبوط ہو جاتی ہے، نماز چھوڑنے کے نقصانات صرف آخرت میں نہیں بلکہ دنیا میں بھی نظر آتے ہیں، جو لوگ نماز سے غافل ہیں ان کے گھروں میں بے برکتی، دلوں میں نفرت اور چہروں پر بوجھ نظر آتا ہے، کیونکہ انہوں نے اپنے رب کے ساتھ تعلق کمزور کر لیا ہے، نماز دراصل پانچ وقت کا وہ اسٹیشن ہے جہاں ہم اپنی بیٹری چارج کرتے ہیں، اگر یہ چارجنگ نہ ہو تو زندگی کے راستے میں ہم تھک جاتے ہیں، نماز ایک تربیت بھی ہے کہ ہم دن میں پانچ بار سب کچھ چھوڑ کر صرف اللہ کی طرف متوجہ ہوں، اس سے دنیا کی محبت کم ہوتی ہے اور آخرت کی فکر بڑھتی ہے، نماز کی پابندی کرنے والا شخص وقت کا پابند بھی بن جاتا ہے کیونکہ وہ جانتا ہے کہ نماز کا وقت مقرر ہے، اور اسی پابندی سے زندگی میں نظم و ضبط آتا ہے، تاریخی واقعات میں دیکھا گیا کہ صحابہ کرامؓ کے لشکر میدان جنگ میں بھی نماز وقت پر پڑھتے تھے، کیونکہ وہ سمجھتے تھے کہ اللہ کی مدد اسی سے آتی ہے، آج اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہماری زندگی میں سکون، گھر میں برکت، اور دل میں مضبوطی آئے تو سب سے پہلے نماز کو اپنی اولین ترجیح بنانا ہوگا، چاہے موسم کی سختی ہو یا کام کی مصروفیت، ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ رزق دینے والا، صحت دینے والا اور کامیابی دینے والا صرف اللہ ہے، اور اس کا سب سے پہلا حق یہ ہے کہ ہم اس کے بلاوے پر لبیک کہیں، جو لوگ نماز کی حقیقت سمجھ لیتے ہیں ان کی زندگی بدل جاتی ہے، وہ مشکل میں گھبراتے نہیں اور خوشی میں تکبر نہیں کرتے کیونکہ ان کا دل ہر حال میں اللہ سے جڑا ہوتا ہے، اور یہی وہ رشتہ ہے جو انسان کو دنیا میں کامیاب اور آخرت میں سرخرو کرتا ہے، نماز چھوڑنے کا مطلب یہ ہے کہ ہم نے اپنے سب سے بڑے سہارا چھوڑ
دیا، اور یہ ایسا نقصان ہے جس کا احساس قبر میں جا کر ہوتا ہے، اس لیے دانشمند وہی ہے جو زندہ رہتے ہوئے اس رشتے کو مضبوط کرے، پانچ وقت اللہ سے ملاقات کرے اور اپنی روح کو زندہ رکھے .
تحریر محمد فضیل انصاری

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں