جہانیاں/ایک سیاسی یتیم تحصیل کا نوحہ/تحریر/ماجد اسلم/نمائندہ جہانیاں 0

پرائیویٹ کالجز کے پروفیسر/تحریر/ماجد اسلم جہانیاں

پرائیویٹ کالجز کے پروفیسر/تحریر/ماجد اسلم جہانیاں

پاکستان میں تعلیمی شعبہ پہلے ہی کئی مسائل کا شکار ہے لیکن پرائیویٹ کالجز نے اس صورتحال کو مزید بگاڑ دیا ہے ان اداروں کا سب سے بڑا حربہ یہ ہے کہ وہ اپنے عام اساتذہ کو “پروفیسر” کے لقب سے متعارف کرواتے ہیں۔ والدین اور طلبہ چونکہ عموماً تعلیمی عہدوں کے فرق سے واقف نہیں ہوتے اس لیے وہ سمجھتے ہیں کہ یہاں یونیورسٹی کے معیار کے پروفیسر پڑھا رہے ہیں حقیقت اس کے برعکس ہوتی ہے پروفیسر صرف وہ استاد ہوتا ہے جس کے پاس پی ایچ ڈی کئی سالہ تدریسی تجربہ اور تحقیقی مقالات شائع شدہ ہوں یہ عہدہ محض تدریس کا نہیں بلکہ تحقیق، رہنمائی اور علمی قیادت کا بھی ہوتا ہے۔ پرائیویٹ کالجز میں زیادہ تر اساتذہ “لیکچرار” ہوتے ہیں جن کی کم از کم تعلیمی قابلیت ماسٹر یا ایم فل ہوتی ہے یہ بالکل جائز عہدہ ہے لیکن جب انہیں “پروفیسر” کے طور پر پیش کیا جاتا ہے تو یہ ایک کھلی بددیانتی ہے مقصد صرف یہ ہوتا ہے کہ والدین کو متاثر کیا جائے اور فیسیں زیادہ لی جائیں۔ یہ کالجز “پروفیسر” کا نام بیچ کر لاکھوں روپے کماتے ہیں والدین کو یہ باور کرایا جاتا ہے کہ ان کے بچوں کو بہترین معیار کی تعلیم مل رہی ہے جبکہ حقیقت میں اساتذہ نہ تجربہ کار پروفیسر ہوتے ہیں اور نہ ہی تحقیقی معیار پر پورا اترتے ہیں نتیجتاً طلبہ وہ معیار حاصل نہیں کر پاتے جس کا وعدہ کیا گیا ہوتا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت اور تعلیمی ادارے واضح ضابطے بنائیں تاکہ پرائیویٹ کالجز میں “پروفیسر” کا لقب غلط طور پر استعمال نہ ہو والدین کو بھی چاہیے کہ وہ داخلے سے پہلے اساتذہ کی اصل قابلیت اور عہدے کی تصدیق کریں۔ پرائیویٹ کالجز کا “پروفیسر” کہلانے والا اکثر استاد حقیقت میں پروفیسر نہیں ہوتا بلکہ لیکچرار ہوتا ہے یا شاید اس معیار پر بھی پورا نہیں اترتا یہ دھوکہ دہی صرف والدین کی جیبیں خالی کرنے کا ایک حربہ ہے اصل پروفیسر صرف یونیورسٹیوں میں ریسرچ اور تجربے کے بعد ہی بنتا ہے۔
پرائیویٹ کالجز کے پروفیسر/تحریر/ماجد اسلم جہانیاں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں