0

مقصد آمد رسول صلی اللّٰہ علیہ وآلہ واصحابہ وازواجہ وبارک وسلم/تحریر/آفاق نقشبندی

*مقصد آمد رسول صلی اللہ علیہ وسلم*
تحریر: *قلم زار || آفاق نقشبندی*

جہالت کا ایک زمانہ ایسا تھا کہ جس میں جب اللہ تعالٰی کی ذات سے غافل لوگ ایسی زندگی گزار رہے تھے جن میں شرک، چوری چکاری، حق تلفی، بداخلاقی الغرض ہر ہر برائی پائی جاتی تھی۔ پیار محبت، بھائی چارہ، درد مندی کا وجود ختم تھا۔ لوگ ایک دوسرے کے جانی دشمن بنے بیٹھے تھے اور چھوٹی چھوٹی باتوں پہ جھگڑے برپا ہوتے تھے۔ ایسے میں دنیا پر رب تعالیٰ کی رحمت کی نظر ہوتی ہے، اللہ تعالیٰ دنیا کا مقدر بدلنے کا فیصلہ فرماتے ہیں، کائنات میں نئے سرے روح پھونکنے کا وقت ہوا چاہتا ہے۔ ماہ ربیع الاول میں صحنِ کائنات میں ہم سب کے ہادی و رہبر عظیم دینی و روحانی معلم، ہمارے آقا کریم علیہ الصلٰوۃ والسلام کی ذاتِ والا بابرکات دنیا میں تشریف لاتے ہیں۔
ہم سب کے پیارے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم نے دنیا کو بدلنے کے لیے ایک نصاب یعنی قرآن مجید لاکر پیش فرمایا اور کائنات کو بدل کر رکھ دیا۔ خدا فراموشی توحیدِ ربانی میں تبدیل ہوئی، بداخلاقی کا فقدان ختم ہوا، انصاف کی شمعیں روشن ہوئیں، انسانیت نے شعور پایا، مردوں، عورتوں، بچوں، بوڑھوں نے اپنا اپنا حق حاصل کیا۔ یہاں تک کہ آقا کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تمام انسانوں کو ان کی زندگی کا مقصد یاد دلایا۔
پہلے یہاں ہم چند ایسے تقاضوں کا ذکر کریں گے جو حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت و الفت کے لیے لازم اور ضروری ہیں، اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دنیا میں تشریف لانے کے مقاصد کو آشکار کریں گے۔ دنیا میں سب سے زیادہ کامیاب شخصیت ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات ہے، اور جو بھی دنیا و آخرت میں کامیاب ہونا چاہتا ہو تو اس کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت اور اتباع کیے بغیر کامیابی کا کوئی راستہ نہیں کیوں کہ اللہ تعالیٰ نے خود فرما دیا کہ ”کہہ دیجیے کہ اگر تم اللہ تعالیٰ کے ساتھ محبت کرتے ہو تو میری اطاعت کرو، اللہ تعالیٰ تمہیں اپنا محبوب بنا لے گا اور تمہارے گناہ معاف فرما دے گا۔“ (آل عمران 31) لہذا جس دل میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت نہیں ہوتی وہ بندہ ایمان سے محروم ہے۔ اور کمال ایمان یہ ہے کہ بندہ مومن اپنے پیارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی جان سے بڑھ کر محبت کرتا ہو۔
اب یہ کیسے معلوم ہوگا کہ ہمیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت زیادہ ہے یا نہیں ہے۔ محبت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا پہلا تقاضا: تختی نہیں لگانی پڑے گی۔ سب سے پہلی بات ہی یہی ہے کہ ایک کامل مسلمان کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت خود بولے گی، کوئی تختی وغیرہ نہیں لگانی پڑے گی، اس کا چال چلن، رکھ رکھاؤ، معاملات، اس کی باتیں اور اس کا عمل خود بتائے گا کہ اس کو نبی کریم علیہ السلام کی محبت نے اپنی آغوش میں لیا ہوا ہے۔
دوسرا تقاضا: ادب مصطفی کریم صلی اللہ علیہ وسلم۔ کسی نے خوب کہا کہ ادب پہلا قرینہ ہے محبت کے قرینوں میں۔ محبت رسول علیہ السلام کا ایک بنیادی تقاضا ادب ہے۔ کیوں کہ یہ دروازہ ایسا ہے کہ جہاں حکم کے خلاف کرنا تو دور، اونچا بولنا بھی ایمان کو خطرے میں ڈال دیتا ہے۔
تیسرا تقاضا: یہ ہے کہ اتباع رسول پہ پورا اترا جائے۔ کیوں کہ محبت کرنے والا ہمیشہ اپنے محبوب کی موافقت کرتا ہے۔ نہیں تو اس کا دعویٰ محبت جھوٹا بنتا ہے۔ اس لیے ایک مومن موحد نبی کریم علیہ السلام کی لائی ہوئی تعلیمات جمال و کمال کو عملی طور پہ محسوس کرتا ہے اور تجربہ سے اس میں ذوق پیدا ہوجاتا ہے۔ اس کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اسے قرب اور محبوبیت حاصل ہوتی ہے۔
چوتھا تقاضا: قرآن مجید سے محبت کرنا۔ قرآن مجید اللہ تعالیٰ کا کلام ہے، اور نبی کریم علیہ السلام کی نبوت کا ثبوت اسی سے ہے۔ آپ علیہ السلام نے قرآن مجید کے ذریعے ہی مخلوق کو حق کی راہ بتلائی۔
پانچواں تقاضا:آپ علیہ السلام کی سنت اور احادیث مبارکہ کو پڑھنا اور اپنی زندگی کا حصہ بنانا ہے۔ جو شخص خود سنت طریقے معلوم نہ کرسکے اسے چاہیے کہ وہ علماء کرام سے پوچھیں۔ الغرض ایسے بے شمار تقاضے ہونگے جو نبی کریم علیہ السلام کی محبت کے لیے لازم اور ضروری ہونگے۔ آپ کی سیرت پڑھنا، آپ کا ذکر خیر کرنا، درود پاک کثرت کرنا وغیرہ وغیرہ۔
اب ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دنیا میں مبعوث ہونے پر ان مقاصد پہ روشنی ڈالتے ہیں جن کو قرآن مجید میں بیان کیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں فرمایا کہ: ”حقیقت یہ ہے کہ اللہ نے مؤمنوں پر بڑا احسان کیا کہ ان کے درمیان اُنھیں میں سے ایک رسول بھیجا جو ان کے سامنے اللہ تعالی کی آیتوں کی تلاوت کرے، انہیں پاک وصاف بنائے اور انہیں کتاب اور حکمت کی تعلیم دے؛ جب کہ یہ لوگ اس سے پہلے یقینا کھلی ہوئی گمراہی میں مبتلا تھے۔‘‘ (آل عمران 164) اس آیت کریمہ کے مطابق نبی کریم علیہ السلام کے مبعوث ہونے کے مقاصد کچھ یوں بیان ہوتے ہیں کہ پہلا مقصد امت کے سامنے قرآن مجید کی تلاوت کرنا ہے تاکہ سب تک اللہ تعالیٰ کا پاک کلام پہنچ جائے کیوں کہ آپ مبلغ اعظم ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے اپنی امت کے دلوں میں تلاوتِ قرآن کی عظمت اور اہمیت کو اجاگر کیا اور اس کے فیوض و برکات سے آگاہ فرمایا۔ آپ ﷺ نے انسانیت کو خدا کا یہ بے مثال کلام عطا فرمایا جس کی بدولت وہ پستی و ذلت کی گہرائیوں سے نکل کر سربلندی کی راہوں پر گامزن ہوئی۔
دوسرا مقصد: پھر صرف کتاب کا باہم پہنچانا کافی نہیں بلکہ اس کی تعلیم بھی نبی علیہ السلام کے ذمہ داری فرمائی گئی۔ کہ اس کلام الٰہی کی تشریح اور احکام کو کھول کر بیان کرکے سمجھائیں۔ کہ قرآن مقدس کو تلاوت کرنے کے ساتھ ساتھ اس کے معنی و مفہوم کا بھی علم ہو اللہ تعالیٰ کی بتائی ہوئی ہدایت کی سمجھ آسکے۔ قرآن مجید کو بھیجے جانے کا مقصد کیا تھا، ظاہر ہے یہ اسے پڑھنے، سمجھنے، غور فکر کرنے، تدبر کرنے اور اس کے معانی و مفاہیم کو پرکھنے سے سمجھ میں آئے گا۔ لہذا نبی کریم علیہ السلام کو بھیجے جانے کا دوسرا مقصد امت کو اس کلام خدا کی سمجھ بوجھ سے آشنا کروانا تھا۔
تیسرا مقصد: رسول اکرم ﷺ کے دنیا میں مبعوث کیے جانے کا ایک تیسرا مقصد یہ بھی تھا کہ انسانوں کے قلوب کو پاکیزہ بنایا جائے۔ ان کے دلوں سے کفر و شرک کی آلائشیں اور برے اخلاق و اعمال کی خرابیوں کو دور کرکے انہیں اس لائق بنایا جائے کہ وہ ذکرِ خدا کے مرکز اور عشقِ رسول ﷺ کے خزانے بن سکیں۔ چنانچہ آپ ﷺ نے جہاں اجتماعی سطح پر معاشرتی اصلاح کا فریضہ انجام دیا، وہیں فرداً فرداً دلوں کی اصلاح پر بھی خاص توجہ فرمائی۔ آپ ﷺ نے بندوں کے اندر خدا کی بارگاہ میں حاضری کا شعور بیدار کیا، قیامت کے دن حساب و کتاب کا تصور اجاگر کیا اور یہ یقین دلوں میں راسخ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ہر وقت دیکھنے اور جاننے والا ہے۔ اسی تربیت کا نتیجہ یہ ہوا کہ اگر کبھی کوئی چھوٹا گناہ سرزد ہو جاتا یا خلوت میں کوئی غلطی ہوجاتی تو فوراً بارگاہِ رسالت ﷺ میں حاضر ہوکر معافی کے طلبگار بن جاتے، تاکہ آخرت کے سخت عذاب سے بچ سکیں۔
چوتھا مقصد: رسول اللہ ﷺ کا ایک اہم فریضہ یہ بھی تھا کہ وہ امت کو حکمت کی تعلیم دیں۔ یہاں حکمت سے مراد آپ ﷺ کی سنت ہے۔ آپ ﷺ کی پوری حیاتِ طیبہ انسانوں کے لیے عملی نمونہ اور کامل رہنمائی کا سرچشمہ ہے۔ آپ ﷺ کی تعلیمات میں انسانیت کی حقیقی کامیابی اور نجات مضمر ہے۔ دنیا و آخرت کی بھلائی اسی میں ہے کہ آپ ﷺ کے بتائے ہوئے طریقے کو اختیار کیا جائے۔ اسی مقصد کے تحت آپ ﷺ نے امت کو سنت کے اصول سکھائے اور زندگی گزارنے کے صحیح آداب بتائے۔
آپ علیہ السلام ان مقاصد کی خوب پاسداری فرمائی اور تباہ حال معاشرے کو سنوارا۔ لہذا اب چاہیے یہ کہ حضور علیہ السلام کی لائی ہوئی تعلیمات اور دیے گئے زندگی کے مقاصد کو ہم پہچانیں اور اپنے پیغمبر سے محبت و عقیدت کا ثبوت دیں۔ ہماری زندگی کے چوبیس گھنٹے اسی کے مطابق گزرنے چاہیے۔ کیوں کہ نبی کریم علیہ السلام کی محبت ایک سدا بہار عمل ہے جس میں کسی بھی خزاں کو دخل نہیں۔ ایسے نہیں ہونا چاہیے کہ سال بھر میں ربیع الاول کے چند دن بھنگڑے ڈال لیے، چراغاں کر لیا، اور محض رسمی محبتوں کے دکھاوے کرکے پھر بے فکر ہوجائیں، بلکہ مکمل سال، اور مکمل زندگی میں نبی کریم علیہ السلام کی محبتوں، تعلیمات اور ہدایات کو جاری کریں۔ ایسے عاشق رسول بنیں کہ ہمارے ساتھ بیٹھنے سے لوگوں میں عشق نبی علیہ السلام کا اضافہ ہو نہ کہ نفرتیں بڑھیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں