عنوان: راحتِ جاںاز قلم: انمول منہاس
ماں چاہے کتنی ہی تھکی ہو، اس کی آنکھوں میں نیند کا سمندر کیوں نہ ہو، جسم بھاری اور دل الجھاؤ سے بوجھل ہو، لیکن جب وہ اپنے بچے کو گود میں لیتی ہے، جب اس کی ننھی انگلیاں ماں کے چہرے کو چھوتی ہیں اور جب وہ معصوم آنکھوں سے ماں کو دیکھتا ہے تو وہ ساری تھکن خوشبو میں تحلیل ہو جاتی ہے۔
وہ ننھی سی ہستی، جو اپنے نازک وجود کے ساتھ ماں کی گود میں سمٹ آتی ہے، تو جیسے وقت رک سا جاتا ہے۔ تھکن، فکریں، شور اور ہنگامے، سب لمحہ بھر کے لیے خاموش ہو جاتے ہیں۔ بس ماں اور اس کا بچہ، ایک ایسی دنیا میں پہنچ جاتے ہیں جہاں سکون کی خاموش زبان بولی جاتی ہے۔
اس لمحے کی سب سے لطیف چیز، وہ خوشبو ہے جو بچے کے وجود سے پھوٹتی ہے۔ ایک ایسی قدرتی خوشبو، جو کسی مہکتے پھول سے کم نہیں، بلکہ کہیں زیادہ گہری، زیادہ پُراسرار اور زیادہ روحانی ہوتی ہے۔ یہ وہ مہک ہے جو کسی قیمتی عطر سے نہیں، صرف ماں کے دل سے پہچانی جا سکتی ہے۔
یہ خوشبو ماں کے دل میں ایسی ٹھنڈک اتارتی ہے جیسے اندر سے کوئی جلتا ہوا دیپ بجھ گیا ہو، جیسے ایک تھکی ہوئی روح کو صدیوں بعد قرار ملا ہو۔ یہ ربّ کی طرف سے ایک ایسا انعام ہے جو صرف ماں کو نصیب ہوتا ہے۔
بچہ ماں کے لیے صرف ایک رشتہ نہیں، بلکہ اس کی دعاؤں کا جیتا جاگتا جواب، اس کی بے شمار قربانیوں کا خوشبو دار صلہ، اور اس کے وجود کی تکمیل ہوتا ہے۔
دنیا کی تمام خوبصورتی، تمام رنگ، تمام عطر سب ہیچ ہیں اس ایک لمس، اس ایک مہک، اور اس ایک پل کے آگے، جو ماں اپنے بچے کو سینے سے لگا کر محسوس کرتی ہے۔
یاد رکھیے!!!!
ماں کی گود صرف پالنے کا نام نہیں، بلکہ جنت کا وہ سایہ دار درخت ہے جس کے نیچے صرف محبت، تحفظ، اور سکون پروان چڑھتا ہے۔