شہداء 1965 کی یاد: ایک عزم و ہمت کی داستان شکیل أحمد ظفر
ستمبر کی ہوا جب بھی چلتی ہے، دلوں میں ایک عجب سا ارتعاش پیدا ہوتا ہے اور اپنے بڑوں سے سنے واقعات ذہن و دماغ پر ایک خوش گوار ہوا کا جھونکا ثابت ہوتے ہیں۔یہ وہ مہینہ ہے جب پاکستان کے بیٹے، ماں دھرتی کے لیے سینہ سپر ہو گئے۔1965 کی جنگ صرف ایک عسکری معرکہ نہیں تھی، بلکہ یہ ایک قوم کی غیرت، اتحاد اور قربانی کی داستان ہے۔
6 ستمبر کا وہ دن تھا،جب جنگ قوم کے جوش و خروش اور پاک فوج کے عزم و استقلال اور آہنی ارادوں کی بدولت عددی برتری کی بجائے جذبات و احساسات کی جنگ کا نقشہ اختیار کرگئی تھی۔
میجر عزیز بھٹی شہید سے لے کر سپاہی مقبول حسین تک ہر سپاہی سوہنی دھرتی کے تحفظ و بقا کی خاطر سر دھڑ کی بازی لگانے میں فخر محسوس کر رہا تھا۔
آئیے! ہم چھ ستمبر یوم دفاع کے موقعے پر ان شہدا کو خراجِ تحسین پیش کریں جو حقیقی طور وطن و قوم کے محسن ہیں۔
1۔ میجر راجہ عزیز بھٹی شہید:
آپ کا نام آج بھی “محافظِ لاہور” کے طور پر زندہ ہے۔ بارہ ستمبر 1965 کو، برکی سیکٹر میں دشمن کی یلغار کے سامنے وہ پانچ دن اور راتیں مسلسل مورچوں میں ڈٹے رہے، حتیٰ کہ شہادت کا جام نوش کرنے کی سعادت اپنے نام کی، ان کی اس بے مثال قربانی پر انہیں “نشانِ حیدر” سے نوازا گیا۔
برکی بی آر بی نہر کے پل گزرنے سے پہلے بائیں جانب کی طرف کوئی آدھا کلو میٹر کے فاصلے پر میجر عزیز بھٹی شہید کی جائے شہادت پر یادگار بنائی گئی ہے ۔میجر عزیز بھٹی کی پاک بھارت جنگ میں داد شجاعت دیتے ہوئے اس مقام پر شہید ہوئے تھے، جہاں ان کا مورچہ تھا
ان کی جرات پھر شہادت کی ایمان افروز داستان ملاحظہ کیجئے! کہ 6ستمبر 1965ء کی رات جب بھارت نے بغیر کسی پیشگی اطلاع ہماری سرحد پر حملہ کر دیا،میجر عزیز بھٹی کو لاہور پر حملے کی اطلاع کے ساتھ ہی حکم ملا کہ فوری طور پر اپنی کمپنی کے ہمراہ برکی سیکٹر پر پوزیشن سنبھال لیں، جہاں سے دشمن فوج لاہور میں داخل ہونے کی بھر پور کوشش کر رہی تھی۔میجر عزیز نے اپنے جوانوں کے ہمراہ بی آر بی نہر کو عبور کر کے اپنے ممکنہ ٹھکانے پر پہنچ کر فوجی انتظامات مکمل کئے اور پوزیشن لے لی ۔ایک مکان کی بلند منزل پر دشمن کی نقل و حمل کا جائزہ لیتے رہے اور نہایت مستعدی سے دشمن کی تمام سر گرمیوں کا خاتمہ کرتے رہے،جس کے نتیجے میں دشمن کی بڑی تباہی ہوئی۔دشمن نے اپنے شدید نقصان کے بعد اس پوزیشن کی جانب شدید گولہ باری شروع کر دی ۔دشمن اس مقام کو تباہ کرنا چاہتا تھا جہاں سے اس کوپسپائی ہو رہی تھی ۔
دشمن کے شدید حملے کے نتیجے میں یہ مقام تباہ ہوگیا ۔جس کے بعد میجر صاحب اپنے ساتھیوں کے ہمراہ نہر عبور کر کے پچھلے کنارے بہ حفاظت لوٹ آئے اور جنگی حکمت عملی کے تحت بی آر بی نہر کے کنارے محاذ پر پہنچے اور اس جگہ پر مورچہ بنا کر اوپی پوسٹ قائم کر کے ہدایات دینے لگے،کیوں کہ سارے سیکٹر میں یہی ایک بلند مقام تھا جہاں سے ہڈیارہ تک تک دشمن کی حرکات کا جائزہ لیا جا سکتا تھا ۔میجر عزیز بھٹی اپنے فرائض منصبی ان تھک انداز میں انجام دے رہے تھے ۔یہاں تک انہیں مسلسل تین دن جاگتے رہنے کی وجہ سے ان کے آفیسرز نے آرام کا مشورہ دیا مگر انہوں نے محاذ پر ڈٹے رہنے کو ترجیح دی اور دشمن کی گولہ باری کا جواب دیتے رہے۔
دشمن کو اندازاہ ہو گیا تھا کہ اس سیکٹر میں آگے بڑھنے میں جو رکاوٹ آ رہی ہے وہ کسی اوپی پوسٹ کی وجہ سے پیش آ رہی ہے ۔دشمن نے اس جانب پیش قدمی کرتے ہوئے شدید گولہ باری شروع کر دی ۔ میجر عزیز بھٹی اسی مورچے پر بنی اوپی پوسٹ پر کھڑے دور بین کی مدد سے دشمن کی نقل و حمل کا جائزہ لے رہے تھے اور احکامات دے کر مناسب ڈگری پر گولے فائر کروا رہے تھے ۔جس سے دشمن کے بیشتر ٹینک تباہ ہو گئے ۔
اتنے میں ایک گولہ مورچے کے قریب لگے شیشم کے درخت کو چیرتا ہوا آیا اور ان کے سینے میں پیوست ہو گیا اور وہ شہید ہو گئے ان کی میت کو ان کے آبائی شہر گجرات کے گاؤں لادیاں میں دفن کیا گیا ۔ان کو 23 مارچ 1966 ء کو نشان حیدر دیا گیا جوکہ ان کی اہلیہ محترمہ زرینہ اختر بھٹی نے وصول کیا ۔اس شہادت کے مقام پر 1969 ء میں ایک یادگار تعمیر کر دی گئی جس پر میجر عزیز کا نام اور تاریخ شہادت کا کتبہ لگا ہے ۔اس کے دائیں اور بائیں جانب ان کی بٹالین اور رجمنٹ کے شہداء ساتھیوں کے نام درج ہیں۔ساتھ ہی ایک چھوٹی سی مسجد بنی ہے ۔ساتھ ہی بی آر بی نہر اس مجاہدوں کو سلام کرتے ہوئے گزر رہی ہے ۔یوم دفاع کے موقع پر پاک فوج کے دستے اپنے اس شہید کو سلامی پیش کرنے آتے ہیں اور اس یادگار پر پھول چڑھا کر خراج عقیدت پیش کرتے ہیں۔
2۔میجر میاں رضا شاہ شہید:
آپ گیارہویں کیولری کے کمانڈر، یکم ستمبر کو جنگ کے پہلے دن ہی جامِ شہادت نوش کر گئے۔ ان کی جرات و بہادری پر انہیں “ستارۂ جرات” سے سرفراز کیا گیا۔
3۔ سکواڈرن لیڈر منیر الدین احمد شہید:
آپ نے فضائی محاذ پر دشمن کے ریڈار اسٹیشن پر کامیاب حملہ کیا، مگر خود بھی اس مشن میں شہید ہو گئے۔ ان کی خدمات کے اعتراف میں انہیں “ستارۂ جرات” عطا کیا گیا۔
4۔ کرنل شفقات بلوچ:
نے بی آر بی نہر کے دفاع میں کلیدی کردار ادا کیا۔ ان کی قیادت میں دشمن کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا، اور بعد ازاں انہیں “ستارۂ جرات” سے نوازا گیا۔
5: سپاہی مقبول حسین کی داستان صبر و استقامت کی اعلیٰ مثال ہے۔ دشمن کی قید میں 40 سال گزارنے کے باوجود، انہوں نے “پاکستان زندہ باد” کا نعرہ کبھی نہیں چھوڑا۔ ان کی قربانی کو “ستارۂ جرات” سے سراہا گیا۔
6۔ فلائٹ لیفٹیننٹ یونس شہید: فضائیہ کے ہیروز میں شامل ایک بڑا نام ہیں۔
7۔ فلائٹ لیفٹیننٹ سرفراز رفیقی:
پاک فضائیہ کے نمایاں ہیروز میں سے ایک جو 1965 کی جنگ کے دوران شہید ہوئے.
8۔ کمانڈر احسان ناگی:
1965 کی جنگ میں بحریہ کے جانباز تھے،جنہوں نے وطن کی خاطر جان قربان کی۔
یہ تمام شہداء 6 ستمبر کے دن کی طرح، پاکستان کی دفاعی تاریخ میں ایک روشن باب کی نمائندگی کرتے ہیں جس میں پاک فوج کی لازوال قربانیوں اور حب الوطنی کے جذبہ کی عکاسی ہوتی ہے.
یہ شہداء ہمارے لیے مشعلِ راہ ہیں۔ ان کی قربانیاں ہمیں یاد دلاتی ہیں کہ آزادی اور خودمختاری کی قیمت کیا ہوتی ہے۔ آج،جب ہمارا وطنِ عزیز پاکستان ترقی و خوشحالی کی راہوں پر گامزن ہے تو یہ انہی شہدا کی قربانیوں کا ثمر ہے۔
یہ شہدا وہ نام ہیں،جو تاریخ اور دلوں میں ہمیشہ کندہ رہیں گے،ان کے درخشاں جذبوں کی داستانیں ہمیں یاد دلاتی رہیں گی کہ باشعور قومیں اپنے ہیروز کو کبھی نہیں بھولا کرتیں۔
آئیے، ان شہداء کی قربانیوں کو یاد رکھیں اور ان کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے پاکستان کو ایک مضبوط، خوشحال اور پرامن ملک بنائیں۔