0

ویکسین، خدشات اور حقیقت کا سفر / تحریر /حکیم شاکر فاروقی، ٹوبہ ٹیک سنگھ

ویکسین، خدشات اور حقیقت کا سفر
تحریر:حکیم شاکر فاروقی، ٹوبہ ٹیک سنگھ

دنیا تیزی سے بدل رہی ہے۔ سائنس نے جہاں انسان کو نئی سہولتیں دیں، وہیں کئی ایسے سوالات بھی پیدا ہوئے جن کے جواب تلاش کرنا ہر ذی شعور فرد کی ذمہ داری ہے۔ پاکستان میں حالیہ دنوں ایک مہم نے والدین، خصوصاً بچیوں کے والدین کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ حکومتِ پاکستان نے اسکول کی بچیوں کو ایک خاص ویکسین لگانے کا آغاز کیا ہے جسے عام زبان میں ’’ایچ پی وی ویکسین‘‘ کہا جاتا ہے۔ اس ویکسین کا مقصد ’’سروائیکل کینسر‘‘ یعنی رحم کے کینسر سے بچاؤ بتایا جا رہا ہے۔ بظاہر تو یہ ایک مثبت قدم دکھائی دیتا ہے، لیکن معاشرے میں پھیلے خدشات، سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیوز اور ماضی کے تلخ تجربات نے اس مہم کو ایک متنازعہ موضوع بنا دیا ہے۔

ایچ پی وی ویکسین کو عالمی ادارۂ صحت (WHO)، امریکی سینٹر فار ڈیزیز کنٹرول (CDC) اور یورپی میڈیسن ایجنسی (EMA) نے کئی برس قبل منظور کیا۔ اس کا مقصد انسانی جسم میں پھیلنے والے ’’ہیومن پیپیلوما وائرس‘‘ کے خلاف قوتِ مدافعت پیدا کرنا ہے، جو بعض صورتوں میں رحم کے کینسر کا باعث بنتا ہے۔ دنیا بھر میں اندازاً ہر سال دو سے تین لاکھ خواتین اس مرض کی وجہ سے جان کی بازی ہار جاتی ہیں، اور ترقی پذیر ممالک اس مرض سے زیادہ متاثر ہیں۔

پاکستان میں اگرچہ بریسٹ کینسر کی شرح کہیں زیادہ ہے، مگر عالمی اداروں نے سفارش کی ہے کہ مستقبل میں سروائیکل کینسر کے خطرات کم کرنے کے لیے اس ویکسین کو متعارف کرایا جائے۔ یہی وجہ ہے کہ حکومت نے اسکولوں میں بچیوں کو یہ ویکسین لگانے کی مہم شروع کی۔

مگر یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ جب ملک میں ہیپاٹائٹس، شوگر، دل کے امراض اور بریسٹ کینسر جیسے مسائل کہیں زیادہ عام ہیں، تو پھر زور اسی ایک ویکسین پر کیوں دیا جا رہا ہے؟ اسکولوں میں ہیپاٹائٹس یا دل کے امراض کی آگاہی مہم کیوں نہیں چلائی جاتیں؟ اقوام متحدہ ان بیماریوں کے خاتمے کے لیے مفت ویکسین یا پروگرام کیوں نہیں دیتی؟ یہ سوالات ہر والدین کے ذہن میں ہیں اور بجا بھی ہیں۔

عوام کے خدشات کی ایک بڑی وجہ کورونا کا تجربہ ہے۔ کورونا کے دنوں میں زبردستی ویکسین لگوائی گئی، سفری پابندیاں عائد ہوئیں، اور بعد ازاں متعدد تحقیقات نے کچھ ویکسینز کے نقصانات کی نشاندہی کی۔ اس پس منظر میں والدین یہ سوچنے پر مجبور ہیں کہ اگر کل کو ایچ پی وی ویکسین کے منفی اثرات سامنے آئے تو اس کے ذمہ دار کون ہوں گے؟

یہ سوال بھی اٹھایا جاتا ہے کہ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک اس ویکسین کے بارے میں کیا سوچتے ہیں؟ امریکہ میں یہ ویکسین 2006ء سے لگائی جا رہی ہے اور وہاں لاکھوں بچیوں کو یہ دی جا چکی ہے۔ برطانیہ میں بھی یہ ویکسین قومی سطح کے پروگرام کا حصہ ہے، جبکہ اسرائیل میں بھی اسے اسکول کی بچیوں کے لیے تجویز کیا گیا ہے۔ ان ممالک کے سرکاری اعدادوشمار بتاتے ہیں کہ جہاں یہ ویکسین بڑے پیمانے پر دی گئی وہاں نوجوان خواتین میں رحم کے کینسر سے پہلے کے مراحل (precancerous lesions) میں نمایاں کمی آئی۔ یہ بات اس ویکسین کی افادیت کی سب سے بڑی دلیل ہے۔

تاہم، اس کے ساتھ یہ حقیقت بھی موجود ہے کہ ان ممالک میں مکمل شفافیت کے ساتھ ویکسین کے ممکنہ نقصانات بھی رپورٹ کیے جاتے ہیں۔ معمولی سائیڈ ایفیکٹس جیسے بازو میں درد، ہلکا بخار یا تھکن عام ہیں۔ سنگین سائیڈ ایفیکٹس کے کیسز نایاب ہیں، لیکن ان پر تحقیق جاری ہے اور انہیں نظرانداز نہیں کیا جاتا۔

ہمارے معاشرے میں سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیوز کا بڑا اثر ہے۔ کئی ویڈیوز میں ڈاکٹرز یا افراد ویکسین کو مہلک قرار دیتے دکھائی دیتے ہیں۔ لیکن یہ بات ذہن میں رکھنا ضروری ہے کہ کسی ایک ڈاکٹر کی رائے یا چند کیسز پوری دنیا کے سائنسی شواہد پر بھاری نہیں پڑ سکتے۔ عالمی سطح پر لاکھوں مریضوں کے ڈیٹا پر تحقیق کی جاتی ہے، اور ان تحقیقات کی بنیاد پر ہی ادارے فیصلے کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی ادارۂ صحت اور دیگر ریگولیٹری ادارے آج بھی اس ویکسین کو ’’محفوظ اور مؤثر‘‘ قرار دیتے ہیں۔

پاکستان جیسے ملک میں مسئلہ یہ ہے کہ عوام اور حکومت کے درمیان اعتماد کا رشتہ کمزور ہے۔ ماضی کے تجربات اور حکومتی پالیسیوں میں شفافیت کی کمی نے لوگوں کو شکوک میں مبتلا کر دیا ہے۔ اگر حکومت چاہتی ہے کہ والدین اپنی بچیوں کو یہ ویکسین اعتماد کے ساتھ لگوائیں تو اسے چند اقدامات لازمی کرنے ہوں گے:

والدین کو مکمل معلومات فراہم کی جائیں کہ ویکسین کیا ہے، کس کمپنی کی ہے، کب سے دنیا میں استعمال ہو رہی ہے اور اس کے ممکنہ نقصانات کیا ہیں۔

ویکسین کا بیچ نمبر، منظوری دینے والے ادارے اور مانیٹرنگ کے طریقہ کار سے والدین کو آگاہ کیا جائے۔

اگر کسی بچی کو ویکسین سے منفی ردعمل ہوتا ہے تو اس کی رپورٹ کہاں اور کیسے درج کی جا سکتی ہے، یہ واضح ہونا چاہیے۔

اگر کل کو تحقیق یہ ثابت کر دے کہ ویکسین کے مضر اثرات زیادہ تھے، تو کیا حکومت، اقوام متحدہ یا دوا ساز کمپنی ذمہ داری قبول کریں گے؟ بدقسمتی سے ماضی کا تجربہ یہ ہے کہ عوام اکثر اپنے حال پر چھوڑ دیے جاتے ہیں۔ لہٰذا ضروری ہے کہ حکومت پہلے سے ایک شفاف نظام وضع کرے جس کے تحت کسی نقصان کی صورت میں متاثرہ خاندان کو انصاف اور علاج فراہم ہو سکے۔

حقیقت یہ ہے کہ ایچ پی وی ویکسین پر دنیا کے بڑے اداروں کا مؤقف مثبت ہے اور بڑے پیمانے پر اس کے فوائد سامنے آئے ہیں۔ مگر ہر طبی مداخلت کی طرح اس میں بھی احتیاط، نگرانی اور شفافیت ناگزیر ہے۔ عوام کے خدشات کو محض پروپیگنڈا قرار دے کر نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ یہ خدشات دور کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے، اور سچائی چھپانے کے بجائے کھلے دل سے سوالات کا جواب دینا چاہیے۔

یہ کالم کسی ویکسین کے حق یا مخالفت میں فیصلہ دینے کے لیے نہیں لکھا گیا، بلکہ مقصد یہ ہے کہ قاری سوچے، سوال کرے اور تحقیق کے بعد رائے قائم کرے۔ ہماری بچیاں ہمارا مستقبل ہیں۔ اگر ویکسین واقعی ان کی زندگیوں کو محفوظ بنا سکتی ہے تو یہ خوش آئند ہے، لیکن اگر اس میں کوئی خطرہ ہے تو اس کی ذمہ داری لینے والا بھی موجود ہونا چاہیے۔

آخر میں قاری کے لیے یہی سوال چھوڑتا ہوں:
کیا ہم اپنے معاشرتی اور طبی فیصلوں میں اتنی شفافیت، سچائی اور دیانت کو جگہ دینے کے لیے تیار ہیں کہ کل کو آنے والی نسلیں ہم سے شکوہ نہ کریں؟
***

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں