صحبت کا اثر/تحریر/کلیم اللہ کاکڑ
قدیم و ازلی مقولہ ہے کہ ’’آدمی اپنی سنگت/ صحبت سے پہچانا جاتا ہے‘‘۔ یہ مثل اس حقیقت کی غمازی کرتی ہے کہ جس طرح خوشبودار گُل کے قرب سے مہکار اور کوڑے کے ڈھیر کے پاس بیٹھنے سے تعفّن طاری ہوتا ہے، بعینہٖ انسان کی شخصیت، خصائل اور رویّے پر اُس کی رفاقت کا گہرا اور دیرپا اثر مترتّب ہوتا ہے۔
اسلامی تعلیمات میں بھی اس نکتہ پر غیرمعمولی تاکید کی گئی ہے۔ رسولِ اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا:
’’آدمی اپنے دوست کے دین پر ہوتا ہے، پس تم میں سے ہر ایک غور کرے کہ وہ کس کو اپنا رفیق بناتا ہے۔‘‘ (ابو داؤد و ترمذی)
یہ حدیث مبارکہ نہایت واشگاف الفاظ میں اس امر کی وضاحت کرتی ہے کہ انسان کے عقائد، افکار اور اعمال کی صورت گری میں صحبت کا بنیادی کردار ہے۔
انسان کی سیرت و کردار محض اُس کے ذاتی افعال و عادات کی دین نہیں بلکہ اُس کے ماحول اور حلقۂ احباب کا عکس بھی اُس پر مرتسم ہوتا ہے۔ نیک، حلیم اور مثبت افراد کی رفاقت دل و دماغ کو جِلا بخشتی ہے، جبکہ بدفطرت اور منفی مزاج افراد کی صحبت انسان کو انحطاط، کجی اور تاریکی کی طرف لے جاتی ہے۔
قرآنِ کریم میں ارشاد ہے:
’’اور صبر کے ساتھ اُن لوگوں کے ساتھ رہو جو اپنے رب کو صبح و شام پکارتے ہیں، اُس کی رضا کے خواہاں ہیں۔‘‘
(الکہف: 28)
یہ آیتِ مبارکہ گویا اس امر کی تلقین کرتی ہے کہ انسان کو اپنے لیے اُن اصحاب کی صحبت اختیار کرنی چاہیے جو اللہ کی رضا کے متلاشی ہوں، تاکہ اُن کی مجالست کے اثر سے ایمان اور عملِ صالح میں ارتقا نصیب ہو۔
صحبت دراصل کردار کا آئینہ ہے۔ نیک فطرت انسان اُنہی افراد کی طرف مائل ہوتا ہے جو پاکیزہ خیالات اور اعلیٰ اقدار کے حامل ہوں، جبکہ بدکردار انسان اُنہی لوگوں کے ساتھ سکون محسوس کرتا ہے جو اُس کے مزاج و اطوار کے ہم آہنگ ہوں۔
رسولِ اکرم ﷺ نے اس حقیقت کو نہایت بلیغ اور دلنشین مثال سے واضح فرمایا:
’’نیک دوست اور بد دوست کی مثال کستوری فروش اور بھٹی دھونکنے والے کی مانند ہے۔ کستوری والا یا تو تمہیں خوشبو عنایت کرے گا یا اس کی مہک سے تم محظوظ ہوگے، اور بھٹی والا یا تو تمہارے کپڑے جلا دے گا یا اس کی بدبو تمہیں اذیت دے گی۔‘‘
(صحیح بخاری و مسلم)
عہدِ حاضر میں، جب میل جول صرف بالمشافہ نشست تک محدود نہیں رہا بلکہ سوشل میڈیا اور مجازی دنیا تک وسعت پا چکا ہے، رفاقت کے انتخاب میں مزید بصیرت و احتیاط درکار ہے۔ احباب کا حلقہ انسان کی ساکھ، وجاہت اور کردار کو یا تو جِلا بخشتا ہے یا داغ دار کر دیتا ہے۔
’’صحبتِ صالح ترا صالح کند، صحبتِ طالح ترا طالح کند‘‘
یعنی نیک کی صحبت انسان کو نیک اور بدکار کی صحبت بدکار بنا دیتی ہے۔
عملی تمثیلات – ایک نو آموز نوجوان اگر ایسے رفقا کی معیت اختیار کرے جو دیانت دار اور محنت شعار ہوں تو وہ خود بھی انہی اوصاف سے متصف ہو جاتا ہے۔
ایک طالبِ علم جب اصحابِ علم و فضل کی صحبت اختیار کرتا ہے تو اُس کی توجہ تحصیلِ علم اور ارتقاء کی طرف مائل ہوتی ہے اور اُس کے مدارج بلند ہوتے ہیں۔
ایک شخص جب ایسے احباب سے کنارہ کشی اختیار کرتا ہے جو رذائل و معاصی میں مبتلا ہوں تو درحقیقت وہ اپنی عزتِ نفس اور ایمان کی حفاظت کرتا ہے۔
یہ ناقابلِ انکار صداقت ہے کہ ’’انسان اپنی صحبت سے پہچانا جاتا ہے‘‘۔ نیک و صالح رفاقت انسان کو عزت، سکون اور وقار عطا کرتی ہے، جبکہ فاسد صحبت ذلت، گمراہی اور زوال کا موجب بنتی ہے۔ قرآن و حدیث کی تعلیمات ہمیں یہی وصیت کرتی ہیں کہ ہم اپنے تعلقات کے انتخاب میں تدبر و بصیرت سے کام لیں۔
جیسا کہ ایک قولِ حکیم ہے:
’’مجالستِ اہلِ حق دل کو نور سے منور کرتی ہے، اور مجالستِ اہلِ باطل دل کو زنگ آلود کرتی ہے۔‘‘
پس اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمارا کردار درخشاں اور ہماری یاد نیک ہو، تو لازم ہے کہ ہم اپنی صحبت کو نیک، پاکیزہ اور باوقار افراد تک محدود رکھیں۔
صحبت کا اثر/تحریر/کلیم اللہ کاکڑ
مشورہ/تحریر/زاہد محمود