مشورہ/تحریر/زاہد محمود
میرا چھوٹا بیٹا جس کی عمر بمشکل ساڑھے پانچ سال ہے اور وہ پریپ کلاس کا طالب علم ہے۔ وہ جسامت کے لحاظ سے قدرے کمزور ہے۔ اگرچہ وہ اسکول گاڑی پر آتا جاتا ہے مگر اسکول کے مرکزی دروازے سے کلاس روم تک کا فاصلہ تقریباً ڈیڑھ سے دو سو میٹر تک ہونے کی وجہ سے اسے اپنا بھاری بھر کم اسکول بیگ اپنے ناتواں کندھوں پر ڈال کر پیدل کلاس روم میں پہنچنا ہوتا ہے۔
میرا بیٹا گزشتہ چند دنوں سے اس بات کی ضد کر رہا ہے کہ اسے کتابوں کے لیے ویل بیگ لے کر دیا جائے تاکہ پیدل طے کیے جانے والے سفر کے دوران اسے اتنی چھوٹی عمر میں “بار برداری” کی زحمت نہ اٹھانی پڑے۔
کتابوں کے اس بوجھ کے بارے میں میں ان شاء اللّٰہ آج اسکول کی پرنسپل صاحبہ سے بھی بات کروں گا اور انہیں مشورہ دوں گا کہ یا تو ان معصوم بچوں پر سے کتابوں کا اضافی بوجھ ختم کیا جائے اور اگر اس بوجھ میں تخفیف ممکن نہ ہو تو اس بوجھ کو روزانہ کی بنیاد پر گھر لے جانے اور وہاں سے واپس لے آنے کی بے کار مشق کو جاری رکھنے کی بجائے روزانہ کی بنیاد پر ایک آدھ کتاب اور کاپی کو بیگ میں ڈال کر باقی کی کتابوں اور کاپیوں کو اسکول کی الماریوں میں رکھ دیا جائے۔
اگر آپ بھی اسکول کے پرنسپل یا ذمہ دار ہیں تو آپ کو بھی چھوٹے بچوں کے بارے میں یہی مشورہ ہے۔ امید ہے آپ بھی اس مشورے پر نظر التفات فرما کر معصوم بچوں کو خوامخواہ کی بار برداری کی تکلیف سے نجات دلائیں گے۔
مشورہ/تحریر/زاہد محمود
مسلمان سائنسی و علمی میدان میں پیچھے کیوں ہیں؟ ایک علمی اور فکری جائزہ/تحریر/ثناء شعبان/فیصل آباد