سب سے بڑا صحافتی انعام، مریم باجیؒ کے نام/ضیاء چترالیویانا کی روشن فضاؤں میں جب دنیا بھر سے آئے چھ سو سے زائد صحافیوں کے درمیان اس سال کے “ہیروز آف جرنلزم ایوارڈ” کا اعلان کیا گیا، تو ہال میں ایک لمحے کو خاموشی چھا گئی۔ پھر جب نام گونجا: “مریم ابو دقہ، فلسطین” تو سامعین کے چہروں پر تعجب، احترام اور آنکھوں میں نمی ایک ساتھ جھلکنے لگی۔ وہ موجود نہیں تھیں، مگر ہر دل ان کی موجودگی محسوس کر رہا تھا۔ شہید ہو چکی تھیں، مگر دنیا نے آج ان کی جاں فشانی کو زندہ قرار دے دیا۔
یہ ایوارڈ، جو انٹرنیشنل پریس انسٹیٹیوٹ (IPI) کی جانب سے ہر سال ان صحافیوں کو دیا جاتا ہے جو خطرناک حالات، جبر یا جنگ کے بیچ سچائی کی خاطر اپنی جان خطرے میں ڈال کر رپورٹنگ جاری رکھتے ہیں، دنیا کے معتبر ترین صحافتی اعزازات میں سے ایک ہے اور جب یہ اعزاز ایک ایسی فلسطینی خاتون کو دیا گیا جو اپنی جان دے کر بھی حق کی گواہی دیتی رہی، تو یہ نہ صرف ان کی جدوجہد کا اعتراف ہے بلکہ پوری فلسطینی صحافت کے وقار کا اعلان بھی۔
مریم ابو دقہؒ غزہ کے شہر خان یونس میں پیدا ہونے والی ایک ایسی بیٹی، جس نے کیمرے کو اپنی آنکھ، قلم کو اپنی زبان اور سچائی کو اپنا ایمان بنایا۔ 1992ء میں پیدا ہونے والی مریم نے Associated Press اور Independent Arabia جیسے عالمی اداروں کے لیے بطور فوٹو جرنلسٹ اور رپورٹر کام کیا۔ وہ ان درجنوں فلسطینی صحافیوں میں سے تھیں جو بارود کے بادلوں میں چھپے ہوئے سچ کو دنیا تک پہنچانے کے لیے اپنی جان کو ہتھیلی پر رکھ کر میدان میں رہتے ہیں۔
غزہ کی تباہ حال گلیوں میں وہ صرف ایک رپورٹر نہیں تھیں، بلکہ ایک گواہ تھیں، معصوم بچوں کی چیخوں، زخمی عورتوں کی سسکیوں اور برباد گھروں کی خاموش دیواروں کی گواہ۔ وہ اپنے کیمرے سے وہ منظر دکھاتی رہیں، جنہیں طاقتور دنیا چھپانے پر تلی ہوئی تھی۔
پھر 25 اگست 2025ء کا وہ دن آیا۔ خان یونس کے ناصر میڈیکل کمپلیکس پر اسرائیلی فضائی حملے نے گوشہ صحافت کو ملبے کا ڈھیر بنا دیا۔ دھوئیں، چیخوں اور خاک کے بیچ، مریم ابو دقہ بھی زمین پر گری ہوئی پائی گئیں، شہید، مگر مطمئن۔ ان کے ساتھ 16 دیگر افراد بھی شہید ہوئے، جن میں 5 صحافی، طبی اہلکار اور سول ڈیفنس کے کارکن شامل تھے۔ اس حملے نے ایک بار پھر یہ ثابت کر دیا کہ اسرائیلی جارحیت کا اصل ہدف صرف انسان نہیں، بلکہ سچائی ہے۔
اسی دن اے پی، الجزیرہ، رائٹرز اور انڈیپنڈنٹ کے چار دیگر صحافی بھی شہید ہوئے۔
مریم ابو دقہ کے کیمرے کا آخری منظر شاید وہی تھا، جب اسپتال کی راہداریوں میں زخمی بچوں کو تلاشتی ہوئی وہ کسی ماں کی آہ سننے کے لیے جھکی تھیں اور پھر ایک لمحے میں، وہ خود اس خبر کا حصہ بن گئیں، جسے وہ دنیا تک پہنچانا چاہتی تھیں۔
دنیا کی بڑی خبر رساں ایجنسی Associated Press نے جب اپنی رپورٹ میں لکھا کہ “ہم نے اپنی ٹیم کی ایک بہادر، حساس اور غیر معمولی صحافی کھو دی ہے” تو وہ صرف مریم کا نہیں، بلکہ سچائی کے ایک روشن چراغ کا ماتم تھا۔
اگر کسی اور ملک میں ایسا واقعہ پیش آتا تو عالمی عدالتیں لرز جاتیں، ایوانوں میں شور مچتا، مگر یہاں، دجالی قوتوں کے سامنے انسانیت کی چیخیں بھی دب جاتی ہیں۔
مریم ابو دقہ کا مقدس لہو اب بھی ان کے کیمرے کے عدسے پر جما ہوا ہے، جیسے وہ گواہی دے رہا ہو “سچائی کبھی مر نہیں سکتی۔” وہ آج تاریخ کے صفحات پر رقم ہو چکی ہیں، ایک ایسی مریم جو صرف فلسطین کی نہیں، بلکہ پوری انسانیت کی علامت بن گئی۔
ان کے کیمرے نے دنیا کو دکھایا کہ جنگ کے بیچ بھی سچ بولا جا سکتا ہے۔ ان کی آنکھ نے دکھایا کہ خوف کے سائے میں بھی روشنی تلاش کی جا سکتی ہے۔ اور ان کی شہادت نے بتا دیا کہ صحافت صرف خبر نہیں، شہادت کا دوسرا نام بھی ہے۔
ان کے آخری الفاظ، جو انہوں نے شہادت سے ایک روز قبل اپنے سوشل میڈیا پر لکھے تھے، آج ہر دل کو چھو جاتے ہیں:
“جب تم دیکھو کہ مٹی تمہاری سب سے قیمتی چیز کو ڈھانپ رہی ہے، تب تم سمجھو گے کہ زندگی کتنی بے وقعت ہے۔”
یہ الفاظ گویا ایک وصیت تھے اور پھر وہ وصیت مکمل ہوئی اپنی جان قربان کر کے۔
ان کی ایک اور آخری تحریر ان کے ننھے بیٹے غیث کے نام تھی۔
“میرے بیٹے، میری جدائی پر مت رونا۔ میں چاہتی ہوں تم میری آنکھوں کی ٹھنڈک بنو۔ اگر کبھی بیٹی ہو تو اس کا نام مریم رکھنا اور قسم ہے تجھے غیث، اپنی نماز کبھی نہ چھوڑنا… نماز، پھر نماز، پھر نماز۔”
یہ ایک ماں کی آخری سانسوں میں چھپی دعا تھی، ایک ایسی ماں جو اپنے خون سے صداقت کی مہر ثبت کر کے دنیا سے رخصت ہوئی۔
غزہ کے صحافی انس النجار کا کہنا ہے کہ اللہ کی قسم، مریم باجی کو شاید عجیب طرح سے اپنی شہادت کا پیشگی احساس ہوگیا تھا۔ میں خبری رپورٹس کی تصویریں بنانے کے لیے جنوبی غزہ میں زیادہ تر مریم پر ہی انحصار کرتا تھا اور مالی معاملات میں بھی اس کے ساتھ حساب رکھتا تھا۔
کل، ہماری آخری گفتگو میں، اس نے بغیر کسی تمہید اور بغیر کسی وجہ کے اچانک مجھے ایک غیر معمولی پیغام بھیجا۔ اس نے مجھے اپنی بھتیجی کا نمبر دیا اور کہا:
“اگر اللہ نے اپنی امانت واپس لے لی تو میری بھتیجی سے رابطہ کرنا اور اسے کہنا کہ حساب کتاب اس کے حوالے کر دو اور یہ پیسے اسے دے دینا، یہ اس کی پھوپھی مریم کی طرف سے تحفہ ہیں۔”
جب میں نے اس کی شہادت کی خبر دیکھی تو بالکل ششدر رہ گیا، ابھی تک یہ حقیقت سمجھ نہیں پا رہا۔
کیا واقعی انسان کو اپنے اجل کے قریب آنے کا احساس ہو جاتا ہے؟
اللہ تم پر اپنی رحمت نازل کرے مریم، تمہیں معاف فرمائے۔ خدا گواہ ہے کہ تم ان سب میں سے ایک تھیں جنہیں میں نے اپنی زندگی میں سب سے زیادہ پاکیزہ اور نیک جانا۔
شہید مریم ابو دقہ کی کہانی صرف ایک شہید صحافی کی کہانی نہیں، یہ حق اور باطل کی جنگ میں ایک عورت کے ایمان، حوصلے اور پیشہ ورانہ عزم کی وہ داستان ہے، جو آنے والی نسلوں کو بتائے گی کہ
“قلم اگر ایمان کے ساتھ اٹھے، تو وہ بندوق سے زیادہ طاقتور ہوتا ہے۔”
آج ویانا میں جب دنیا نے ان کے نام کا ایوارڈ سنا، تو گویا اقوامِ عالم نے اعتراف کیا: مریم زندہ ہے، کیونکہ سچ زندہ ہے۔
اور جب تک حق کی تلاش باقی ہے، مریم کا نام بھی باقی رہے گا۔
( الجزیرہ، اے پی نیوز، انڈیپنڈنٹ، القدس نیوز، انٹرنیشنل پریس انسٹیٹیوٹ ویانا)