0

دو ریاستی فریب اور امتّ مسلمہ کی ذمہ داری/تحریر/مولانا ڈاکٹر محمد جہان یعقوب

دو ریاستی فریب اور امتِ مسلمہ کی ذمہ داری/تحریر/مولانا ڈاکٹر محمد جہان یعقوب

برطانیہ، کینیڈا اور آسٹریلیا نے فلسطین کو باضابطہ طور پر ریاست تسلیم کرلیا ہے۔
لندن سے آنے والی خبر نے عالمی سیاست
کو ایک نئے موڑ پر لاکھڑا کیا ہے۔ برطانوی وزیر اعظم کیئر اسٹارمر نے اعلان کیا کہ فلسطینیوں اور اسرائیلیوں کے لیے امن اور دو ریاستی حل کی امید کو زندہ رکھنے کے لیے برطانیہ فلسطین کو ریاست کے طور پر تسلیم کرتا ہے۔ کینیڈا اور آسٹریلیا نے بھی یہی فیصلہ کیا اور اپنے اپنے بیانات میں اسے عالمی امن کے لیے ایک مثبت قدم قرار دیا۔ بظاہر یہ اعلان ایک بڑی کامیابی اور فلسطینی عوام کی دیرینہ جدوجہد کی پذیرائی ہے، مگر کیا یہ اقدام مسئلہ فلسطین کا حقیقی حل ہے؟

حقیقت یہ ہے کہ دو ریاستی حل دراصل ایک فریب ہے۔ یہ فلسطینی عوام کو وقتی طور پر مطمئن کرنے کی ایک چال ہے، جس کے پیچھے اسرائیل کے وجود کو جائز ثابت کرنے کا مقصد چھپا ہوا ہے۔ یہ حقیقت کسی سے پوشیدہ نہیں کہ اسرائیل بذاتِ خود ایک ناجائز ریاست ہے جو مسلم امہ کے قلب میں خنجر گھونپنے کے لیے عالمی طاقتوں نے وجود میں لائی۔ 1948ء میں استعمار نے صرف فلسطین کو ہی نہیں بلکہ پورے عالم اسلام کو تقسیم کر کے ایک ایسا ناسور پیدا کیا جس کے اثرات آج تک خون رُلا رہے ہیں۔

قائداعظم محمد علی جناحؒ نے اسی موقع پر فرمایا تھا:
“اسرائیل کی حیثیت ایک ناجائز بچے سے زیادہ نہیں ہے۔”
یہ جملہ محض سیاسی نہیں تھا بلکہ ایک حقیقت پر مبنی تاریخی تجزیہ تھا۔ آج کے حالات جناح صاحب کی اس بصیرت کی تصدیق کرتے ہیں کہ اسرائیل ایک غیر قانونی وجود ہے جسے تسلیم کرنا دراصل امتِ مسلمہ کی روحانی و سیاسی شکست کے مترادف ہے۔

فلسطین کا مسئلہ کسی دو ریاستی فارمولے سے حل نہیں ہوسکتا۔ یہ مسئلہ صرف ایک ہی راستے سے حل ہوگا: فلسطین کی مکمل آزادی اور اسرائیل کے ناجائز وجود کا خاتمہ۔ فلسطینی عوام کی دہائیوں پر محیط قربانیاں، ان کے شہداء کا خون اور ان کے پُرامید دل اس بات کے گواہ ہیں کہ وہ آدھا حل قبول نہیں کریں گے۔ نصف انصاف، انصاف نہیں ہوتا۔

اس وقت مسلم دنیا کی ذمہ داری ہے کہ وہ مغربی طاقتوں کی چالاکیوں کو پہچانے۔ برطانیہ، کینیڈا اور آسٹریلیا کے یہ اعلانات محض سفارتی اسٹیجنگ ہیں، جن کا مقصد عالمی سطح پر اپنی شبیہ کو بہتر بنانا ہے۔ فلسطینی عوام کو ان بیانات سے زیادہ اس عملی اتحاد کی ضرورت ہے جو مسلم دنیا اپنی عسکری، معاشی اور سفارتی قوت کو مجتمع کر کے اسرائیل کے خلاف صف آرا ہو کر دے سکتی ہے۔

سوال یہ ہے کہ مسلم ممالک کب جاگیں گے؟ کب وہ اپنی خارجہ پالیسیوں کو حقیقی اسلامی غیرت اور وحدت پر استوار کریں گے؟ کیا مزید لاشوں کا انتظار باقی ہے؟ کیا ابھی اور بچوں کے جنازے اٹھائے جائیں گے؟ وقت کا پیغام واضح ہے: امتِ مسلمہ اگر متحد نہ ہوئی تو تاریخ ہمیں معاف نہیں کرے گی۔

مسلم حکمرانوں کو آج فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ محض بیانات پر اکتفا کرتے ہیں یا عملاً فلسطینی عوام کے ساتھ کھڑے ہو کر قبلۂ اول کو آزاد کرانے کا بیڑا اٹھاتے ہیں۔ اگر آج بھی ہم نے غفلت برتی تو آنے والی نسلیں ہمیں کبھی معاف نہیں کریں گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں