0

توہین رسالت کے سانحات ، ذمہ دار کون؟/تحریر/نوید شہزاد

*عنوان:* *توہین رسالت کے سانحات ٬ذمہ دار کون؟؟*

*مضمون نگار* *:نوید شہزاد*

دین اسلام ایک مکمل ایک طریقہ حیات ہے. اس کے ماننے والے دنیا بھر میں موجود ہیں۔
لہذا دنیا کی چھ ارب آبادی میں سے سوّا ارب مسلمانوں کو ختم کرنا آسان بھی نہیں ہے. اس کے لیے کفر کو ایک منصوبہ سوجا ہوا ہے. وہ یہ کہ مسلمانوں کے دلوں سے ان کے نبی رحمت صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم کی عقیدت و محبت ختم کر دی جائے. اس کام کو سر انجام دینے کے لیے وہ اللہ کے نبی ص کی شان میں گستاخی کرتے ہیں. اور وہ یہ چاہتے ہیں کہ اللہ کے نبی ص پر ایسے ایسے گستاخانہ الزامات اور سوالات اٹھائے جائیں، جن سے مسلمانوں میں حقیقی طور پر اپنے نبی علیہ السلام سے بد گمانی پیدا ہو جائے اور رفتہ رفتہ وہ اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات پر عمل اور اعتماد کرنا چھوڑ دیں.
اس کے لیے انگریز نے اس خطے میں اپنے بندے تیار کیے، مرزا غلام احمد سکھ حکومت کے آخری عہد 1839ء یا 1840ء میں پنجاب کے ضلع گرداسپور کے قصبہ قادیان میں پیدا ہوئے.
یہ انیسویں صدی کا اختتام تھا کہ مرزا غلام احمد اپنی نئی دعوت و تحریک کے ساتھ منظر عام پر آئے، ان کو اپنی دعوت، اپنے حوصلوں اور بلند ارادوں کی تکمیل کے لیے مناسب زمانہ اور مناسب جگہ ملی. طبیعتوں کی عام بے چینی عوام کی عجائب پرستی، معتدل ذرائع اصلاح و انقلاب سے مایوسی، علماء کے وقار و اعتماد کا زوال و تنزل، مذہبی بحثوں کی گرم بازاری اور اس کے نتیجے میں عامیانہ ذوقِ جستجو اور طبیعتوں کی آزادی، ہر چیز ان کے لیے سازگار ثابت ہوئی. دوسری طرف حکومت وقت نے (جو مجاہدین کی تحریک سے زک اٹھا چکی تھی اور مسلمانوں کے جذبہ جہاد اور جوشِ مذہبی سے پریشاں و ہراساں رہتی تھی) اس تحریک کا خیر مقدم کیا جس نے حکومتِ برطانیہ کے ساتھ وفاداری اور اخلاص کو اپنے بنیادی عقائد اور مقاصد میں شامل کیا تھا. جس کے بانی کا حکومت کے ساتھ قدیم اور غیر مشتبہ تعلق تھا، ان تمام عناصر و اسباب نے مل کر وہ مناسب و معاون ماحول فراہم کیا جس میں یہ تحریک وجود میں آئی اور اس نے اپنے پیرو اور ہم خیال پیدا کر لیے اور مستقل فرقہ کی بنیاد پڑ گئی.

توہین رسالت کے سانحات کی ایک وجہ یہ سامنے آئی کہ مرزا عیسائیت اور ہندو آریہ سماج پہ گندے الفاظ اور گالیوں میں تنقید کرتے تھے، اس وقت تک مرزا نے نبوت کا دعوٰی نہیں کیا تھا. وہ اس کے جواب میں ہمارے پیارے نبی اکرم ص کی شان میں گستاخی کرتے تھے. مختصراً انگریز چاہتا تھا کہ ہندو مسلم اتحاد نہ رہے. اس مشن کو مرزا نے پورا کیا اور برعظیم کے مذاہب میں آگ لگانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی اور ہر دستہ اوّل کا کردار ادا کیا.

ہندوستان میں برطانوی سلطنت کی درازی عمر اور سیاسی استحکام اسوقت تک نا ممکن ہے، جب تک مسلمانوں میں روحِ جہاد کارفرما ہے.
مسلمانوں اور ہندوؤں میں مغائرت و منافرت کیونکر پیدا کی جاسکتی ہے. اب تک عقیدوں کی ضد کے باوجود اُن کے ذہنوں میں تصادم نہیں تھا. دونوں مذہبی بُعد کے باوجود انگریزوں سے متحد ہو کر لڑے تھے اور تب سوال صرف مسلمانوں کی بادشاہت کا تھا.
اسلام اور پیغمبرِ اسلام پر رکیک حملوں کا محاذ کھولا جائے. اس طرح مسلمان جہاد سے روگرداں ہو کر مدافعت کے محاذ پر آجائیں گے. مجادلہ کی جگہ مناظرہ لے گا. جہاد کا خدشہ مٹے گا، مسلمانوں کی کایا کلپ ہو گی، نتیجۃً برطانوی سلطنت کے استحکام کی راہیں ہموار ہوں گی.
مسلمانوں میں نئے اور پرانے فرقوں کی معرفت متحارب و متصادم عقائد پیدا کئے جائیں، جن سے ان کی ملی وحدت پراگندہ ہو جائے اور وہ باہمی نفاق کی علامت ہوں.
انگریز چاروں پوائنٹس کے حصول میں کامیاب رہا.
مرزا نے 1891ء میں مسیح موعود ہونے کا دعوٰی کیا. اور 1901ء میں نبوت کا دعوٰی کیا. مرزائیت کے پانچ اصول وضع کیے گئے جن میں سے ایک حرمت جہاد اور دوسرا اطاعت برطانیہ ہے. برطانیہ کے محکمہ جاسوسی کی تجویز پر مرزائی امت کا دفتر لندن میں قائم کیا گیا، تاکہ براہ راست کنٹرول ہو سکے. قادیانی دنیا بھر کے مسلمان ممالک میں مسلمانوں کے روپ میں جاسوسی کا کام سر انجام دیتے ہیں.
خیر آمدم بر سر مطلب! 30 ستمبر 2005 بروز جمعۃالمبارک کو ڈنمارک کے ایک کثیر الاشاعت روزنامہ نے نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے 12 توہین آمیز خاکے شائع کئے.
ان خاکوں میں رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم کی جس طرح توہین کی گئی ہے اسے کوئی ادنٰی سے ادنیٰ اور گنہگار مسلمان بھی برداشت نہیں کر سکتا۔
یہ کیسے ممکن ہے کہ کافر کھلم کھلا دیدہ دلیری کے ساتھ ہمارے پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی توہین کریں اور ہم کچھ نہ کرسکیں۔
ہمیں اپنی کم ہمتی، پست حالی اور حالت ضعف ایمانی پر خوب رونا چاہیے اور اللّہ تعالٰی کے حضور یوں دعا کرنی چاہیے کہ
اے رب العالمین! ہماری اولاد کو ہم جیسا بزدل اور کمزور ایمان والا نہ بنانا کیونکہ ہم نے جب سے کافروں کی مصنوعات کا استعمال کیا ہے ہم دنیا اور مال کے پجاری بن چکے ہیں.ہمیں ان کی مصنوعات کا بائیکاٹ کرنا چاہئے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں