84

امام اور انتظامیہ کے لیے چند قابل غور پہلو/تحریر/شکیل احمد ظفر

امام کی رفعت شان کے بیان کے لیے اس سے بڑی اور کیا فضیلت ہوسکتی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ساری زندگی مسجد نبوی کے امام و خطیب رہے۔خلفا راشدین اور کبار صحابہ رضی اللہ عنہم و تابعین عظام بھی امامت کا فریضہ ادا کرتے رہے۔

آج کل یہ انتہائی تکلیف دہ باتیں اکثر و بیشتر سننے کو مل رہی ہیں کہ مساجد انتظامیہ، ائمہ کرام سے مسجد میں جھاڑو دلواتی ہے،صحن اور وضو خانہ تک کی صفائی کراتی ہے اور حد تو یہ ہے کہ واش روم صاف رکھنا بھی انہی کے فرائض میں شامل سمجھا جاتا ہے۔
کل گذشتہ ہی پتا چلا کہ
ایک امام قاری صاحب مسجد میں تعلیم قرآن کے عمل میں مشغول تھے۔ایک طالب علم مسجد میں جھاڑو دیے رہا تھا۔مسجد منتظمین کے دو اہم ذمہ داران نے ننھے طالب علم کو ڈانٹ پلائی اور غیظ و غضب بھرے لہجے میں کہا یہ تمہارا نہیں،اس امام کا کام ہے۔انہیں کہو کہ خود صفائی کریں۔نہیں تو ہم اسے فارغ کردیں گے۔
خیر سے امام صاحب نے سمجھ داری اور خود داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے جواب دیا:

“امام صاحب کو اللہ کریم نے وہاں کھڑا کیا ہے جہاں تم مال و دولت اور سیم و زر کی بہتات کے باوجود بھی نہیں کھڑے ہوسکتے۔
اگر آپ ہماری چھٹی کرانا چاہتے ہیں تو شوق سے کرائیے۔مجھے میرے ایک استاذ صاحب نے پہلے ہی کہہ رکھا ہے۔اگر عصر کی نماز پڑھائیں تو مغرب کی توقع نہ رکھیے! میں تو جانے کے لیے تیار ہوں مگر امامت کے عظیم تر منصب کو تمہاری چودھراہٹ کی نذر نہیں ہونے دوں گا۔”

اے طائرِ لاہوتی اس رزق سے موت اچھی
جس رزق سے آتی ہوئی ہو پرواز میں کوتاہی

یاد رہے کہ اسلام اور مسلم معاشرے میں امامت کے معزز منصب کو نہایت عزت و احترام کی نظر میں دیکھا جاتا تھا۔
جب دنیا کے بہت سے خطوں میں اسلام کا غلبہ تھا اور مسلم تہذیب اپنے عروج پر تھی،اس وقت امام پنج وقتہ نماز،عید اور جمعہ ہی میں صرف پیشوا نہیں ہوتا تھا بل کہ سیاسی،سماجی اور معاشرتی مسائل و مشکلات میں بھی اس سے ایک مرجع کی حیثیت حاصل تھی۔
امام کی رفعت شان کے بیان کے لیے اس سے بڑی اور کیا فضیلت ہوسکتی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ساری زندگی مسجد نبوی کے امام و خطیب رہے۔خلفا راشدین اور کبار صحابہ رضی اللہ عنہم و تابعین عظام بھی امامت کا فریضہ ادا کرتے رہے۔
پتا چلا کہ امام تو ہادیٔ عالم صلی اللہ علیہ وسلم کا نائب بن کر مصلائے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر کھڑے ہوکر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے مشن کو آگے بڑھارہا ہے۔
ان کا ادب و احترام اور کی جائز ضروریات کا خیال رکھنا لوگوں کے لیے ضروری ہے۔
خدا کے لیے انہیں حقیر نہ سمجھا جائے اور ان کی دل سے قدر دانی کی جائے تاکہ ہماری نسلوں میں علم و فضل کی فصلیں تیار سکیں اور دین اسلام کی آب یاری ہوسکے۔

ایک گذارش ائمہ مساجد سے بھی ہے بھی کہ وہ خود دار بنیں۔
وہ معاشرے میں اپنے مقام و مرتبے سے با خبر رہیں۔وہ صرف نمازوں کے امام نہیں،بل کہ ان کے اعمال،اخلاق و کردار کے گہرے اثرات بھی لوگوں پر مرتب ہوتے ہیں۔
لوگوں کے اعمال و عقائد کی اصلاح کی ذمہ داری بھی اللہ نے ان کے کاندھوں پر ڈالی ہے۔
شیخ الحدیث مولانا ظفر احمد قاسم رحمہ اللہ کہا کرتے تھے کہ جو منصب جتنا اہم ہوتا ہے،اس کی ذمہ داریاں بھی اتنی ہی اہم ہوتی ہیں۔اگر ایک طرف امام کے عمدہ اخلاق اور اچھے افعال کا معاشرے پر مثبت اثر پڑتا ہے تو دوسری طرف اس کی چھوٹی سی غلطی بھی معاشرے میں بڑے شر و فساد کا دروازہ کھول دیتی ہے۔
اپنا کردار اجلا رکھیں،معاملات صاف رکھیں،دل میں کوئی طمع نہ رکھیں۔
شیخ مکرم رحمہ اللہ کا یہ جملہ بھی انتہائی اہم ہے۔
آپ فرماتے ہیں کہ بے طمع ہونا اتنی بڑی تلوار ہے جو بڑے بڑے لوگوں کی گردن کاٹ دیتی ہے۔
آپ بے طمع رہیں۔معاشرے کی دینی بہتری کے لیے خوب جدو جہد کریں،حق بات چھپائیں نہیں۔
جب رازق اللہ ہے تو امامت سے جڑے ہمارے دوستوں کو بھی یقین ہونا چاہیے کہ اگر ہماری یہاں سے چھٹی ہوگئی تو اللہ ہمیں کہیں اور اس سے بھی اچھی جگہ دیدے گا۔۔

حجة الاسلام مولانا قاسم نانوتوی صاحب رحمہ اللہ کا “مدرس و مدرسہ” کے حوالے سے بولا جانے والا زریں جملہ یہاں بھی منطبق ہوتا ہے۔
اگر بغیر کسی کوتاہی کے انتظامیہ امام کی چھٹی کرادے دے گی تو اللہ انہیں اس سے بہتر مسجد عطا فرمادیں گے اور اگر امام بلا وجہ مسجد چھوڑ دے گا تو انہیں،اللہ کریم اس سے بہتر امام دے دیں گے۔
اپنی ذاتی خامیاں دور کریں۔
انتظامیہ اور نمازیوں کے ساتھ خوام خواہ کا برا رویہ نہ رکھیں۔ان کے ساتھ ہم دردی،اخلاص اور پیار کے ساتھ پیش آئیں۔
اقبال کے شعر ذہن میں رکھیں،اس پر عمل بیرا ہوں تو دنیا کی امامت کے لیے تیار ہوجائیں۔
سبق پڑھ پھر صداقت کا،عدالت کا،شجاعت کا
لیا جائے گا تجھ سے کام دنیا کی امامت کا

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں