تحریر: صائمہ یوسفزئی
یہ بھی تمام راتوں کی طرح ایک عام سی رات تھی جب کیرل جنت کی سیر کرنے گئی اس کے پاس ایک ایسا گیجٹ تھا جو ہر وقت ہر لمحہ اسکے پاس تھا لیکن اسے اس جادوئی طاقت کے بارے میں کبھی پتہ ہی نہیں چلا –
وہ ہمیشہ اپنے کزنز اور دوستوں کے ساتھ کھیل کود میں اتنا مگن رہتی کہ کب رات ہوئی ہوش ہی نہیں رہتا بس آنکھ موندی سو گئی.
کیرل اس دن بھی کزنز کے ساتھ مستی میں مگن تھی کہ اچانک اسکی آنٹی اور انکل بازار سے واپس لوٹے اور اسکے کزن اسے یہ کہتے ہوئے بھاگ گئے کہ باقی کھیل کل کھیلیں گے.
حالانکہ کیرل کی باری ابھی باقی تھی.
نہ جانے کیوں آج اسے یہ سب پہلے سے جدا لگا ورنہ ہوتا تو روز ہی ایسا تھا کہ جب وہ پزا کھانے جاتے یا شاپنگ کرتے تو کیرل سے چھپ جایا کرتے تھے یا کوئی بہانہ کر دیا کرتے.
آج جب آنٹی کی سخت بڑبراتی آواز سنی تو کیرل کا چھوٹا سا دل جیسے مرجھا سا گیا وہ اچانک ہنستے ہنستے سنجیدہ ہوگئی تھی.
تجسس اسے انکل آنٹی کے کمرے کے پاس لے گیا تھا جہاں وہ گرمی کی دوپہر میں ٹھنڈے اے سی کے مزے لے رہے تھے جہاں کیرل کا آنا ممنوع تھا.
کھڑکی سے کان لگائے تو کمرے کے اندر موجود چہکتی اسکی کزن روزا کی آواز سنائی دی واہ ماما کتنی پیاری گڑیا ہے مجھے تو یہ ڈول ہاؤس اور گڑیا بہت پسند آیا.
آنٹی اسے سمجھا رہی تھیں کیرل کے ساتھ کھیلنے کے بجائے اب تم اپنے کھلونوں سے کھیلنا میں نہیں چاہتی میرے بچے اس گرمی میں اس جاہل کے ساتھ وقت ضائع کریں.
کیرل بہت اداس ہوچکی تھی.
شام بھی ہونے والی تھی وہ بھاگتی ہوئی اوپر سیڑھیوں کی جانب دوڑتی چلی گئی اور اپنی ماں کو تلاش کرنے لگی.
اسکی ماں شاید ابھی عبادت سے فارغ ہوکر دعا مانگ رہی تھی بھاگتی ہوئی وہ اپنی ماں کی گود میں ایسے لپٹ گئی جیسے کئی دنوں کی تھکاوٹ ہو.
ماں نے بالوں میں انگلیاں پھیرتے پوچھا کیا ہوا میری کیرل پری اداس ہے شاید.
آگئی ماما کی یاد…
وہ کچھ نہیں بولی بس آسمان تکتے تکتے نہ جانے کیسے ایک بجلی جیسی روشنی پھیل سی گئی اور تمام منظر بدل گیا.کیرل ایک الگ دنیا میں تھی.
وہاں پھولوں کی پتیوں پر الگ الگ رنگ کی پریاں تھیں جو اسے دوستی کے لیے بلانے لگیں.
اور دیکھتے ہی دیکھتےاچانک اسے وہ سب گھیرے میں لیے ایک خوبصورت شیشے کے محل میں لے گئیں.
کیرل جیسے ہی دروازے پر پہنچی تو کیا دیکھا سب اسے ایک ڈزنی پرنسز کی طرح خوش آمدید کہتے ہوئے ویلکم کر رہے ہیں.
وہاں ہر طرح کے میٹھے اور چاکلیٹس سے اسکی تواضع ہورہی تھی.
محل کی پہلی منزل پر ہر وہ کھلونا تھا جو کیرل کو بہت پسند تھا.
پریاں کیرل کو ساتھ لیے محل کے ہر حصے کی سیر کروا رہی تھیں چھت پر پہنچتے ہی کیا دیکھا ایک یونی کورن کیرل کے قدموں میں آکر جھکا اور کہا پرنسز آپ کے لیے حاضر ہوں حکم کیجیے کہاں جانا ہے.
کیرل کو ستاروں کی سیر کا بہت شوق تھا وہ انہی چھونا چاہتی تھی بس کچھ ہی لمحوں میں وہ ستاروں کے جہان میں تھی جہاں سب سے پیارے ستارے گلٹزا نے اسے ویلکم کیا اور جیسے ہی کیرل کا ماتھا چھوا وہ گلٹرز میں نہا گئی.
اسے لگا جیسے وہ گلٹر سے بنی ہے گولڈن ڈریس شوز اور تاج پہنے وہ کسی پرنسز سے کم نہیں تھی چانک ایک میٹھی سی آواز نے اسے پلٹنے پر مجبور کر دیا اس نے دیکھا سب دوست اسے الوداع کہ رہے تھے اور دوبارہ آنے کا وعدہ کر کے کیرل یونی کورن سے کہتی ہوئی پلٹی کہ مجھے واپس پریوں کے پاس لے چلو مجھے ماما کے پاس جانا ہے.
کیرل مسکراتی ہوئی جب آنکھ کھول کر دیکھتی ہے تو ماما اسکا ماتھا چوم رہی تھیں.
یہ تو بالکل جنت جیسا ہے ماں.
وہ چہک کر بولی اور ماں ہنس دی.
کیرل پھر بولی ماما آپ کو پتا ہے میں جنت سے گھوم کر آئی ہوں.
ماں مسکرائی اسے گلے سے لگایا اور بولی.
میری پرنسز ہر ماں کی گود میں جنت کا راستہ ہوتا ہے بس ڈھوندنے کی دیر ہے.
اور ہر ماں کے لیے اسکی بیٹی پرنسز ہے.
کیرل کو سمجھ آگیا تھا کہ ٹھنڈے بیڈ روم اور کھلونوں سے زیادہ اہم اسکی ماما کی گود ہے جہاں جنت کا راستہ ہو اور اس کے پاس اسکے کزنز سے بھی قیمتی وہ گود موجود ہے۔