164

حرمتِ قرآن اور ہماری ایمانی قوت /تحریر/عبدالرؤف ملک کمالیہ

اسلام ایک آسمانی مذہب اور مکمل دین ہے جس کے قواعد و ضوابط الہامی ہیں آج سے ساڑھے چودہ سو سال پہلے خدائے لم یزل نے اپنے کلامِ مقدس میں یہ فیصلہ فرمادیا کہ “اَلکُفرُ مِلَّۃُُ وَّاحِدَۃُُ” دنیا کے جس خطے میں بھی غیرمسلم ہونگے انکا تعلق خواہ کسی بھی مذہب سے ہو اسلام کے مقابلے میں وہ سب یکجا اور متحد ہونگے جس کا عملی مظاہرہ آج ہم دیکھ رہے ہیں کبھی فرانس تو کبھی نیدرلینڈ کبھی انڈیا تو کبھی سویڈن مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو مجروح کرنے میں کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں کرتے۔ پوری انسانی تاریخ گواہ ہے اس دنیا میں آج تک کسی مسلمان نے انجیل، گیتا، رگ وید، تورات یا کسی بھی مذہب کی مقدس کتاب کو نہ تو کبھی نذرِ آتش کیا اور نہ ہی انکی بے حرمتی کی ہے تو پھر یہ زیادتی اور کھلواڑ مسلمانوں کے ساتھ ہی کیوں؟ شاید اسکے پیچھے بھی ہماری غیرت ایمانی کا مفقود ہوجانا ہے اسی یورپ نے مصلحت پسندی کا نام دے کر مسلمانوں کے ہاتھوں سے آلاتِ حرب چھین کر انہیں طبلہ و سارنگی، موبائل فون اور اسطرح کی دوسری خرافات میں اس قدر مشغول کردیا ہے کہ اب مسلمانوں کو جہاد جیسا عمل بھی دہشت گردی نظر آنے لگا ہے۔ مسلمانوں کیلیے اس سے زیادہ رسوائی اور کیا ہوگی کہ کبھی تو انکے ضابطہ حیات قرآنِ کریم کو بلاخوف وخطر سرکاری سرپرستی میں جلادیا جاتا ہے تو کبھی نبی مکرم (فِدَاہُ اَبِی وَاُمِّی) کے گستاخانہ خاکے بناکر مسلمانوں کے جذبات کو تار تار کردیا جاتا ہے۔ یورپی اقوام جو خود کو مہذب اور وسیع النظر سمجھتے ہیں آپ جتنا انکو قریب سے دیکھیں گے یہ لوگ اتنے ہی تنگ نظر، فتنہ پرور اور متعصب ہیں جس کا ثبوت عید کے دن سویڈن کی حکومت نے پیش کیا کہ مسجد کے سامنے ” قرآن کریم” کے مقدس صحیفے کو جلانے کی نہ صرف اجازت دی بلکہ اس انتشار انگیز اور قبیح فعل کو اپنی سرپرستی میں مکمل کروایا۔ سویڈن نے سرکاری سطح پر جس طرح قرآن کریم کی بےحرمتی کی ہے یہ ایک مسلّم حقیقت ہے کہ اس سے قرآن کریم کو زبر زیر تک کا فرق نہیں پڑا اور نہ پڑسکتا ہے کیونکہ اسکا محافظ خالقِ کون و مکاں ہے جس نے یہ گارنٹی دی ہے کہ “اِنَّا نَحۡنُ نَزَّلۡنَا الذِّكۡرَ وَاِنَّا لَهٗ لَحٰـفِظُوۡنَ”ہاں البتہ مغرب کا گھناؤنا اور متعصب چہرہ واضح ضرور ہوگیا ہے اور شاید اسطرح کے اسلام دشمنی حملے اسلام اور مسلمانوں پر کسی بڑے حملے کا پیش خیمہ بھی ہوں عین ممکن ہے کہ یہ اسلام دشمن عناصر مسلمانوں کی غیرتِ ایمانی کا مشاہدہ کررہے ہوں کہ ابھی انکی رگوں میں کتنا ایمان باقی ہے اور انکو میٹھے زہر کے انجکشن کی کتنی مقدار مزید دیے جانے کی ضرورت ہے کہ مسلمان اسلامی اقدار و روایات اور غیرتِ ایمانی کو فراموش کردیں۔ میں بطور مسلمان سویڈن میں قرآن پاک کی بے حُرمتی کی شدید الفاظ میں مذمت کرتا ہوں اور حکومتِ پاکستان سے یہ مطالبہ کرتا ہوں کہ سویڈن جیسے شرانگیز ملک سے تمام سرکاری و غیرسرکاری تعلقات منقطع ہونے چاہیئں اور ہماری غیرتِ ایمانی کا تقاضا بھی یہی ہے کہ قرآن کریم کی اس بےحرمتی کا ردِعمل شدید سے شدید دیا جائے کیونکہ بروزِ قیامت ہم اپنے اپنے دائرہ اختیار کے مطابق اسکے جوابدہ ہیں ہمارے لیے یہ واقعہ ایک معیار، پیمانہ اور کسوٹی بھی ہے کہ ہم اپنی اپنی ایمانی قوت کے مطابق اس افسوسناک واقعے کی پرزور مذمت کریں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں غیرتِ ایمانی اور جذبہ جہاد نصیب فرمائے کہ ہم ایسے گستاخوں سے آہنی ہاتھوں سے نپٹ سکیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں