Silent Mujahid/Tahrir/Hafiz Zeeshan Ahmed/Karachi 85

حسدکے نقصانات/تحریر/عبد الوحید عثمانی

حسد سے مراد وہ کیفیت ہے جس میں ایک انسان کسی دوسرے انسان کے پاس اللہ تعالی کی عطا کی ہوئی نعمت پر خوش نہیں ہوتا ، بلکہ یہ خیال کرتا ہے کہ کاش اس کے پاس یہ نعمت نہ ہوتی یا کاش دوسرے سے یعنی چھین لی جائے ،
لیکن اگر کوئی شخص یہ سوچتا ہے کہ جو نعمت دوسرے کسی شخص کے پاس ہے کاش میرے پاس ہوتی تو اسکو رشک کہا جاتا ہے،
قران و حدیث میں حسد کو پسند نہیں کیا گیا لیکن رشک کی اجازت دی گئی ہے حسد کرنے والے کو حاسد کہتے ہیں ارشاد باری تعالی ومن شرّ حاسدِِ اذاحسد
ترجمہ :اور حسد کرنے والے کے شر سے جب وہ حسد کرنے لگے ،
سب سے پہلے ابلیس نے حضرت آدم علیہ الصلوۃ والسلام سے حسد کیا اور اللہ تعالی کے حکم کے باوجود حضرت آدم علیہ السلام کو سجدہ نہیں کیا
جو شخص اپنے کسی مسلمان بھائی کے علم و فن دولت و ثروت یا منصب سے حسد کرتا ہے وہ ابلیس کے پیروکاروں میں شمار ہوتا ہے ،
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا حسد سے بچو حسد نیکیوں کو اس طرح کھا جاتا ہے جس طرح آگ لکڑی کو کھا جاتی ہے ،
رشک کرنا حرام نہیں ہے بلکہ اللہ تعالی کی عطا کردہ نعمتوں اور کسی اچھی عادت اور عمل کو رشک کی نگاہ سے دیکھنا جائز ہے ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے رشک کے جائز ہونے کے حوالے سے ارشاد فرمایا رشک کے قابل تو دوہی آدمی ہیں ایک وہ جسے اللہ نے قران دیا اور اس کی تلاوت رات دن کرتا رہتا ہے اور دوسرا وہ جسے اللہ تعالی نے مال دیا ہو اور وہ اس کو اللہ کی راہ میں دن رات خرچ کرتا رہا
حسدکے نقصانات
حسد کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ حاسد خود محنت نہیں کرتا اگر وہ محنت کرتا تو اس کے پاس بھی اللہ تعالی کی نعمتیں ہوتی اور وہ حسد کی آگ میں نہ جلتا ،
دوسری وجہ دعا نہ کرنا ہے اس کے علاوہ دشمنی کے جذبات حُبّ دنیا ہر وقت مال اور عہدے کی لالچ بھی مست رہنا حسد کی بنیادی علامات ہیں ،
حسد کا تعلق دل سے ہے افعال سے نہیں لہذا جو شخص کسی بھی مسلمان کی برائی چاہے وہ حاصل ہے حاسد اپنا سب سے بڑا نقصان یہ کر رہا ہوتا ہے کہ اللہ تعالی کی وہ نعمتیں جو اس نے انسان پر کی ہیں ان کو نہ پسند کر کے اللہ تعالی کی نافرمانی کا مرتکب ہو رہا ہوتا ہے ،
اور حسد کی آگ میں بعض اوقات اس قدر انسان جلتا ہے اور اس حد تک گر جاتا ہے کہ قتل و غارت پر بھی اتر آتا ہے ،
جس طرح قابیل نے حسد کرتے ہوئے اپنے بھائی ہابیل کو قتل کر دیا تھا انسان جب اس طرح کی گھٹیا حرکت کرتا ہے تو دنیا آخرت میں ناکام ہو جاتا ہے معاشرے کو مثبت کے بجائے منفی جذبات اور عوامل کی طرف دھکیل دیتا ہے یوں اپنی تخلیق کا مقصد کھو بیٹھتا ہے اور مایوسی کی دل دل میں دھنستاچلا جاتا ہے جیسا کہ یہودِ مدینہ محض حسد کی وجہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے سے محروم رہے ، آج کے معاشرے کی ایک بڑی تعداد حسد کی بیماری کے اندر بہت زیادہ مبتلاء ہے
اسی وجہ سے اج معاشرے کے اندر بدامنی بد اخلاقی بدزبانی نفرت انگیزی جیسی مہلک بیماریاں عام ہوتی جارہی ہیں
ہمیں چاہیے کہ ہم اپنا محاسبہ کریں خصوصا جب رات کو سونے کے لیے بستر پر جائیں تو پورے دن کا تجزیہ کریں کہ میں نے دل میں کسی شخص کے بارے میں حسد تو نہیں رکھا اگر خود کو اس طرح کے جذبات کا مرتکب پائیں تو اللہ تعالی کی بارگاہ میں توبہ و استغفار کریں اس پر اللہ تعالی کے فضل و کرم کو دیکھیے اپنےلیے خیر وبرکت کی دعا کریں ،
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہر رات کو سونے سے پہلے حسد سے اللہ تعالی کی پناہ مانگ کر سوتے تھے آپ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم سورہ فلق اور سورةبالناس اور آیت الکرسی پڑھتے اور اپنے ہاتھ پر پھونک مار کر پورے جسم پر مل لیتے تھے
ہمیں چاہیے کہ قران و سنت کی تعلیمات پر عمل کرتے ہوئے اسد سے بچی تاکہ دنیا اخرت میں کامیاب ہو سکے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں