108

زمانے کی تلخیاں/تحریر/امیر حمزہ/نوجوان مذہبی اسکالر و کالم نگار

تحریر/امیر حمزہ

ہمیں آج کل بے جا تنقید اور خامیاں نکالنے اور اپنے آپ کو معتدل ثابت کرنے کا ایسا جنون سوار ہے کہ ہم محض اپنی صفائیاں دیتے دیتے لوگوں کی عزت تار تار کردیتے ہیں جو ہمارے لیے تو کوئی حیثیت نہیں رکھتا مگر اگلے کے لیے مایوسی کا باعث بنتا ہے ۔
جس پہ تنقید کی اسکو نقصان ہو یا نا ہو مگر تنقیدی مزاج مجھے کبھی آگے نہیں بڑھنے دیگا میری ترقی اور مقبولیت میں آڑ ہی رہے گا ۔
اور کس کا دل نہیں چاہتا کہ وہ آگے بڑھے اسکے لیے اس سے بڑھ کر اس معاشرے میں کوئی ہتھیار نہیں کہ ہم اگر والد ہیں تو اپنے بچوں کو حوصلہ دیں انکی برے کاموں کو بھی احسن طریقے سلجھائیں اور اگر استاذ ہیں تو محبتیں بانٹیں اور اچھے انداز میں طالب علم کو آگے بڑھنے کے لیے حوصلہ دیں ہمت دین ایک دن وہ ضرور آپکی امیدوں پہ پورا اترے گا ۔

اس مزاج کا ہمیں سب سے بڑا نقصان یہ ہوتا ہے کہ
اس مزاج کے آدمی سے بہت کم لوگ مَحَبّت کرتے ہیں اس کے مخلص دوست بھی نہ ہونے کے برابر ہوتے ہیں آئے دن اس کا کسی نہ کسی سے جھگڑا رہتا ہے ایسا شخص اگر سیٹھ ہو تو ملازم، شوہر ہو تو بیوی، ساس ہو توبَہُو، والد ہو تو اولاد، استاد ہو تو طَلبہ، امام ہو تو مُقْتدی، بے جا تنقیدوں اور نکتہ چینیوں کی وجہ سے پریشان اور بےزار رہتے ہیں۔
اور یہ حضرات تو تنقید کو اپنا فرض سمجھتے ہیں جیسا کہ
شوہر اور تنقید لازم ملزوم ہوں
مُعاملہ کپڑوں کی استری کا ہو یا کہ گھر کی صفائی کا، سالن میں نمک مرچ کم زیادہ کا ہو یا چائے اور کافی کے پھیکا رہ جانے یا میٹھا تیز ہونے کا، الغرض کئی معاملات میں بعض شوہروں میں یہ عادت ہوتی ہے کہ وہ اپنی بیوی پر طرح طرح سے تنقیدیں کرتے اور اللہ کی بندی کا دل دُکھاتے رہتے ہیں۔
بعض ابے بھی اسی مزاج کے ہوتے ہیں والد اور تنقید کا بھی بعض اوقات یہی رشتہ ہوتا ہے جو شوہر اور بیوی کا ہوتا ہے
اولاد گھر دیر سے آئے، اسکول یا ٹیوشن نہ جائے، امتحان میں اس کا رِزَلٹ اچھا نہ آئے، پڑھائی میں اس کادل نہ لگے، کام کرنے جائے تو کچھ دن کام کرکے پھر چھوڑدے، ان تمام معاملات میں پُوچھ گچھ کرنا اور اولاد کی بےپروائی ، سُستی اور غلطی کے ظاہر ہونے پر اسے مناسب انداز میں سمجھانا اگرچہ والد کا حق ہے، مگر بعض نادان باپ ایسے مواقع پر اَصْل وجہ کو معلوم کئے بغیر اپنی اولاد پر چڑھائی کرتے، اسے ڈانٹتے، دوسروں کے سامنے طعنے دیتے اور اپنی ہی اولاد کی غیبتیں کرتے نظر آتے ہیں۔ اسی طرح اولاد اگر کوئی کام دُرُسْت بھی کرے تب بھی بعض والد اُس کے اس کام میں خرابیاں نکالتے، اس پر تنقیدیں کرتے اور ایسا ظاہر کرتے ہیں کہ گویا اولاد کو کام کرنا ہی نہیں آتا۔
اور اکثر و بیشتر استاد اور تنقید کا بھی آجکل۔یہی رشتہ ہے
بعض اوقات طالبِ علم کی چھوٹی چھوٹی غلطیوں پر اچّھے اور مناسب انداز میں اس کی ذِہن سازی، وقت کی قدر اور پڑھائی کی اہمیت اس کے ذہن میں بٹھانے کے بجائے کئی استاد طالبِ علم پر تنقیدیں کرتے، بلااجازتِ شرعی دوسرے طَلَبہ کے سامنے اس کی بےعزّتی کرتے اور اس کے مستقبل کو بجائے سنوارنے کے برباد کردیتے ہیں
ایسے ہی بعض لوگ اپنے ماضی کے غلط کردار سے توبہ کرچکے اور اچّھے راستے پر گامْزن ہوچکے ہوتے ہیں، جب وہ کسی ایسے شخص سے ملتے ہیں جو ان کے ماضی پر مُطّلع ہوتا ہے تو بَسا اوقات وہ کہتا ہے ”میں تم کو جانتا ہوں کہ تم پہلے کیا تھے“، یوں اسے اس کی گزشتہ زندگی کےگناہوں پر عار دِلا رہے (شرمندہ کررہے) ہوتے ہیں، ایسے لوگ اس روایت سے عبرت حاصل کریں، حضور نبی اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: جس نے اپنے بھائی کو ایسے گناہ پر عار دلایا جس سے وہ توبہ کرچکا ہے، تو مرنے سے پہلے وہ خود اس گناہ میں مبتلا ہوجائے گا۔ (ترمذی،ج4،ص 227،
کوئی شخص بازار سے کوئی چیز خرید کر لاتا ہے تو بسا اوقات وہ چیز قیمت اور کوالٹی کے اعتبار سے بِالکل دُرُسْت ہوتی ہے مگر پھر بھی دوست یا گھر والے اس پر تنقیدیں کرتے ہیں کہ مہنگی خریدی ہے، آپ کو خریدنا بھی نہیں آتا، دوسری جگہ سے خرید لیتے، وہاں کم قیمت میں مل جاتی، یا اس چیز میں خامیاں تلاش کرکے کہہ دیا جاتا ہے کہ ہلکی کوالٹی کی ہے
میسج، واٹس ایپ اور گروپ میں بعض اوقات کسی کی طرف سے کوئی تحریر آتی ہے، اس میں پروف ریڈنگ کی کوئی غلطی ہوتی ہے، جسے بنیاد بناکر لوگ اس شخص پر خوب تنقید کرتے ہیں عار دلاتے ہیں ایک دن وہ ایسا مایوس ہوتا ہے کہ لکھنا ہی چھوڑ دیتا ہے ۔
اس لیے یارو کچھ خیال کرنا چاہیے اگر ان تمام رشتوں میں سے ہم کسی بھی رشتے سے منسلک ہیں تو ہمیں کسی طریقے سے سمجھانا چاہیے نہ کہ بے جا تنقید کر کے
اللہ رب عزت سب سے پہلے تو خود مجھے عمل کی توفیق بخشیں اور باقی تمام قارئین کو سلامت رہیں جزاکم اللہ۔
اس تصویر اور،تحریر کا تقریبا کوئی ربط نہیں اب اس بھی تنقید نہ کرنے لگ جانا ۔خوش رہیں ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں