تحریر/محمد لقمان زاہد
چھوٹے جانوروں کو ندی پار کرنا ہو تو وہ پانی میں تیزی سے چل کر نکل جاتے ہیں۔ مگر ہاتھی جب کسی ندی کو پار کرتا ہے تو وہ تیزی سے چلنے کی بجائے ہر قدم پر رک رک کر چلتا ہے، وہ ہر قدم نہایت احتیاط سے رکھتا ہوا آگے بڑھتا ہے۔ اس فرق کی وجہ یہ ہے کہ چھوٹے جانوروں کے لیے کوئی خطرہ نہیں، پانی کے نیچے مٹی نرم ہو یا سخت ان کا ہلکا پھلکا جسم با آسانی اس سے گزر جاتا ہے۔ مگر ہاتھی غیر معمولی طور پر بڑا جانور ہے۔ بھاری جسم کی وجہ سے اس کے لیے یہ خطرہ ہے کہ نیچے کی مٹی اگر نرم ہو تو اس کا پاؤں اس میں دھنس جائے۔ اس کے لیے اس سے نکلنا سخت مشکل ہو جائے گا۔ یہی وجہ ہے کہ ہاتھی جب تک یہ نہ دیکھ لے کہ نیچے سطح مضبوط ہے یا نہیں، وہ ایک قدم بھی آگے نہیں بڑھاتا۔ ہر بار جب وہ قدم رکھتا ہے تو اس پر اپنا پورا بوجھ نہیں ڈالتا۔ وہ ہلکا قدم رکھ کر پہلے اس کی نمی اور سختی کو آزماتا ہے۔ جب اندازہ کر لیتا ہے کہ زمین سخت ہے، اسی وقت اس پر اپنا پورا بوجھ رکھ کر آگے بڑھتا ہے۔
یہ طریقہ ہاتھی کو کس نے سکھایا؟ اللہ تعالی نے! اس کا مطلب یہ ہے کہ ہاتھی کے اس طریق عمل کو خدائی تصدیق حاصل ہے۔گویا زندگی کے لیے خدا کا بتایا ہوا سبق یہ ہے کہ جب راستے میں کسی خطرہ کا اندیشہ ہو تو اس طرح نہ چلا جائے جس طرح بے خطر راستہ پر چلا جاتا ہے بلکہ ہر قدم سنبھل سنبھل کر رکھا جائے۔ ”زمین“ کی قوت کا اندازہ کرتے ہوئے آگے بڑھا جائے۔
انسان کو خدا نے ہاتھی سے زیادہ عقل دی ہے۔ جہاں بارود کے ذخیرے ہوں۔ وہاں آدمی دیا سلائی نہیں جلاتا۔جس ٹرین میں پٹرول کے ڈبے لگے ہوئے ہوں۔ اس کا ڈرائیور بے احتیاطی کے ساتھ اس کی شنٹنک نہیں کرتا۔ مگر اسی اصول کو اکثر لوگ سماجی زندگی میں بھول جاتے ہیں۔ ہر سماج میں طرح طرح کے انسان ہوتے ہیں اور وہ طرح طرح کے حالات پیدا کرتے رہتے ہیں۔سماج میں کہیں ”دلدل“ ہوتاہے۔ اور کہیں ”پٹرول“ کہیں ”کانٹا“ ہوتا ہے ۔کہیں ”گڑھا“ عقل مند وہ ہے جو اس قسم کے سماجی مواقع سے بچ کر نکل جائے، نہ کہ ان سے الجھ کر اپنا راستہ کھوٹا کرے۔
جس آدمی کے سامنے کوئی مقصد ہو وہ راستے کی ناخوشگوار یوں سے کبھی نہیں الجھے گا کیونکہ وہ جانتا ہے کہ ان سے الجھنا اپنے آپ کو اپنے مقصد سے دور کر لینا ہے۔بامقصد آدمی کی توجہ آگے کی طرف ہوتی ہے۔نہ کہ دائیں بائیں کی طرف وہ مستقل نتائج پر نظر رکھتا ہے نہ کہ وقتی کارروائیوں پر وہ حقیقت کی نسبت سے چیزوں کو دیکھتا ہے نہ کہ ذاتی خواہشات کی نسبت سے ۔ لہٰذا آج ہی اپنی زندگی کا ایک مقصد متعین کیجیے۔ کاغذ قلم اٹھائیے! اور اس پر خوب صورت الفاظ میں زندگی کے مقصد کندہ کر کے کمرے کے بڑے دروازے پر لٹکا دیجیے۔ تاکہ آتے جاتے اس پر نظر پڑتی رہے۔ یوں نہ صرف یاددہانی رہے گی، بلکہ مقصد کے لیے تیاری کی فکر بھی تازہ رہے گی۔