زیادہ دور کی بات نہیں 2008 کی بات ہے کہ حالات ایسے تھے کہ سمجھ سے باہر تھے۔ ہم اس وقت نئے نئے لالہ موسیٰ شفٹ ہوئے تھے ۔ مالی طور پر حالات اتنے اچھے ناں تھے کہ دو وقت کی روٹی کھائی جاسکتی۔ میں دھم کلاس کا طالب علم تھا اور ساتھ میں سیلز مین بھی تھا عمیر جنرل سٹور پہ۔ آج بھی جب بچوں میں دیکھتا ہوں تو حیران رہ جاتا ہوں اور یہ عادت یا مسئلہ ہر نسل میں عموماً دیکھا جاتا ہے۔ کہ اماں نے بڑے لاڈ سے، محبت سے اور خلوص سے بھنڈیاں پکائیں اور جب بچوں کے سامنے رکھا سالن تو انھوں نے یہ کہ کر پلیٹ پرے اچھال ماری کہ اماں آپ کو پتا بھی ہے میں بھنڈی نہیں کھاتا پھر آپ نے بھنڈی بنا دی۔ میرا شمار بھی اسی طرح کے بچوں میں ہوتا تھا بھنڈی توری، شملہ مرچ، ٹینڈے وغیرہ کھانے میں بلکل پسند نہ تھے۔ جب بھی والدہ( اللہ پاک جنتوں میں گھر کرے) نے یہ سبزیاں پکانیں تو گھر میں ایک الگ ہی ماحول ہو جانا جو اکثر کھانا کھائے بغیر سونے پر ختم ہوتا تھا۔ 2008 کے شروع میں ہی ایک بار ایسا ہوا جو مجھے کبھی نہیں بھولے گا اور اس کے بعد کھانے میں عیب اور کھانا کھانے سے انکاری نہیں ہوئی چاہے وہ بھنڈی پکی ہو یا ٹینڈے اور یا پھر شملہ مرچ۔ حالات اتنے ٹائیٹ ہو گئے تھے کہ ایک وقت ایسا بھی آیا کہ گھر میں ناں روٹی تھی ناں سالن اور ناں اتنے پیسے کہ بندہ باہر سے لے آئے کل کی روٹی تھی اور سالن تھا نہیں تو اماں(اللہ جنتوں میں گھر کرے) نے گلاس میں پانی ڈالا اور اس میں لال مرچ اور نمک ملا کر گلاس ہلا کر دیا اور ہدایت دی کہ پتر آج ایہہ ای سالن اے روٹی پانی وچ ڈبو ڈبو کے نرم کر کے کھاو۔ اور یقین کریں اس دن اتنا رویا کہ بتانے سے قاصر ہوں اس دن احساس ہوا کہ جب کھانے کو کچھ ناں ہو تو سب نخرے ختم ہو جاتے ہیں اس دن کے بعد سے لے کر آج تک بھنڈی، شملہ مرچ اور ٹینڈے کھانے سے انکار نہیں کیا ۔ جو مل گیا الحمدوللہ۔ جو نہیں ملا اس کے لیے بھی الحمدوللہ۔ تب سے اب تک جب بھی دیکھتا ہوں کہ لوگ رزق ملنے پر انکاری اور نخرے کرتےہیں اور اکثر سامنے رزق پڑا ہو تو عیب نکالتے ہیں یا کسی بہانے کی وجہ سے کھانا نہیں کھاتے اور ادھر ہی پڑا پڑا وہ مشک مارنا شروع کر دیتا ہے تو یقین کریں بہت دکھ ہوتاہے۔ ان سے قدر پوچھیں جن کے پاس نہیں ہے ابھی سیلاب متاثرین کو ہی دیکھ لیں وہ ایک ایک نوالے کے لیے ترس رہے ہیں اور ہم ضائع کرنے سے باز نہیں آتے یا اللہ نہ کرے ہمارے سے چھن جاے تو اہمیت کا اندازہ ذیادہ بہتر طریقے سے لگ سکتا ہے۔ اللہ پاک ہمیں ہدایت دے کہ ہم رزق کو نخرہ اور ضائع کیے بغیر استعمال کریں آمین ۔ اور کوشش کریں کہ اپنے گھر والوں کو رزق کی قدر کے بارے میں بتائیں تاکہ ہمیں رزق کو کھوئے بغیر اس کی قدر کا احساس ہو جائے۔ شکریہ
122
- فیس بک
- ٹویٹر
- واٹس ایپ
- ای میل