1965میں مسٹر اجوانی ایک دواساز کمپنی میں بطور سیلز مین مقرر ہوئے,انہوں نے دوسروں سے تین گنا زیادہ تنخواہ کا مطالبہ کیا اور سفر کے لیے ٹرین کی بجائے جہاز کے ٹکٹ کی مانگ کی,جس پر ڈائریکٹر نے کہا کہ یہ تو بہت زیادہ ہے, جس پر اجوانی نے جواب دیا کہ میں کام بھی زیادہ دوں گا, جس پر ان کو ایک موقع دینے کا فیصلہ ہوا اور انڈیا کے گجرات کا علاقہ حوالے کیا گیا۔
انہی دنوں میں گجرات کی ایک لیڈی ڈاکٹر کا بہت چرچہ تھا, مگر وہ لیڈی کسی بھی مرد سیل مین کو آڈر نہیں دیتی تھی اور یہ بات سبھی دواساز کمپنیاں جانتی تھیں ,لیکن مسٹر اجوانی نے اس سےلیڈی سے آڈر لے کر آنے کا اعلان کیا تو سبھی مذاق اڑانے لگے اس نے کسی کا بات کا برا نہیں منایا منایااور اپنے پہلے سفر گجرات کے روانہ ہوگئے,اتفاق سے ساتھ والی سیٹ ایک بزرگ خاتون کی تھی,جن کو بہت زیادہ کھانسی تھی اور کف بھی آرہی تھی مسٹر اجوانی اپنی عام اخلاقی عادت کی وجہ وجہسے وجہسےاپنا رومال ان انکے سامنے کیا اور کف کو اس اس میں لے لیا اور جاکر خود ہی رومال دھو لیا , مسٹر اجوانی جب ائیر پوڑٹ سے ہوٹل جانے کے لیے نکلے تو اسی بزرگ خاتون کو کسی کسی کی کی راہ تکتے دیکھا تو پوچھ لیا کہ اگر وہ چاہیں تو توانہیں ان کے گھر پر پہنچا کر ہوٹل ہوٹل چلے جائیں گے , بزرگ خاتون مسٹر اجوانی کے اخلاق اخلاق سے بہت زیادہ زیادہمتاثر ہوئی اور رات کے کھانے کی دعوت دی جسے انہوں نے قبول کرلیا,,رات کے کھانے پر بزرگ خاتون کی بیٹی بھی بھی تھیں جو شہر شہرکی بڑی لیڈی ڈاکٹر تھیں جو بہت زیادہ مشکور تھیں کہ کہانہوں نے نےمیری ماں کی کی مدد کی,لیڈی کو جب جب علم ہوا کہ کہ یہ دوا ساز کمپنی کے سیلز مین ہیں تو وہیں پر ایک بہت بڑا آڈر لکھوا دیا اور اورکہا کہ اب سے ہم آپ کے مستقل مستقل گاہک ہیں۔,مسٹر اجوانی نے اس آڈر کی اطلاع ہیڈ کواٹر کی مگر مگرانہیں یقین نہ آیا , , لیکن جب سائن شدہ چیک پہنچاتو سبھی حیران حیران ہوگئے ۔کافی عرصہ بعدکسی نے مسٹر اجوانی سے سوال کیا کہ تجارت میں کامیابی کاراز کیا ہے تو انہوں نے صرف دومختصر جملوں جواب دیا کہ میٹھی زبان اور اچھے اخلاق۔
مگر ہمارے بازار کایہ المیہ ہے کہ اس میں بہت کم باخلاق تاجر ہیں جو گاہک کی نفسیات کا خیال رکھتے ہیں , کیونکہ گاہک اچھی چیز کے ساتھ اچھے رویہ کو بھی پسند کرتا ہے اور ایسی دوکان پر باربا جانا پسند کرتا ہے جہاں پر اس کی بات کو اچھی طرح سے سنی جائے ، اس کے ساتھ اچھے اخلاق سے بات کی جائے اور اگر کوئی شکایت ہو تو اس پر دوکاندار کی طرف سے مثبت رویہ ہو مگر افسوس کہ وہ تجارتی اخلاق سے بالکل ناواقف اور ناآشنا ہوتے ہیں ،حالانکہ اچھے اخلاق والے کے جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے فرمایا:کہ نرمی برکت کا سبب ہے اور زیادتی(بدخلقی) نحوست ہے ۔ اس حدیث مبارکہ میں تجار کے لیے بڑا واضح حکم ہے کہ اپنے رویہ کو اچھا رکھیں ،جہاں پر اس کا دنیاوی فائدہ ہے کہ کاروبار میں برکت ہوگی یقینا جو اضافہ کا سبب ہوگا اور اخروی بھی بہت بڑا فائدہ ہے کہ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی تعلیمات پر عمل کا موقع بھی ملے جو یقینا آپ کی قربت کا سبب بنے گا.
127