تحریر/ روحان دانش
”اے لوگو! سنو او ر اطاعت کرو“، حضر ت عمر ؓ نے لوگوں کے درمیان خطبے کا آغاز کیا۔
”اے عمر! ہم سنیں گے اور نہ اطاعت کریں گے۔“ ابھی آپ نے اتنا ہی کہا تھا کہ مجمع میں سے ایک عام آدمی نے کھڑے ہو کر کہا۔
”کیوں؟“ اے اللہ کے بندے! حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس شخص سے نرمی سے پوچھا۔
”جب تک یہ نہ بتاؤ گے کہ یہ جو تم نے کپڑا پہنا ہوا ہے وہ بیت المال سے لوگوں میں تقسیم ہونے والے اس حصے سے زیادہ کیوں ہے جو دوسروں کو ملا تھا “۔ اس آدمی نے جواب دیا۔
یہ ا س شخص کا احوال ہے جو بائیس لاکھ اکاون ہزار اور تیس (22,51,030) مربع میل پر پھیلی اسلامی مملکت کا حکمران تھا۔وہ عمر ؓ کہ جس نے اپنی سلطنت و حدود سلطنت کا انتظام، رعایا کی جملہ ضروریات کی نگہداشت اور دیگر امور سلطنت کو اس خوش اسلوبی اور مہارت و ذمہ داری کے ساتھ نبھایا کہ وہ ان کی عبقریت کی دلیل ہے۔آپ نے اپنی مہارت، شجاعت اور عسکری صلاحیت سے ساسانی سلطنت اور شہنشاہیت کو دو سال سے بھی کم عرصہ میں زیر کر لیا اور اسی عرصے میں بازنطینی سلطنت کا تقریباً ایک تہائی حصہ بھی اسلامی سلطنت کے زیر نگین آ گیا۔ انھیں کے دور خلافت میں عراق، مصر، لیبیا، شام، ایران، خراسان، مشرقی اناطولیہ، جنوبی آرمینیا اور آس پاس کے کئی ایک علاقےفتح ہو کر مملکت اسلامی میں شامل ہوئے۔ عمر بن خطاب ہی کے دور خلافت میں پہلی مرتبہ یروشلم فتح ہوا۔ مگر آپ ؓ اس غریب شخص کے ٹوکنے پر غصے ہوئے نہ ناراضی کا اظہار فرمایا۔ وہ آدمی گرفتار ہوا نہ اسے کسی نے زدو کوب کیا بلکہ فرمایا مجمع میں میرا بیٹا عبد اللّٰہ موجود ہے،وہ اس کا جواب دے گا۔
”بیٹا! بتاؤ کہ تیرا باپ یہ کپڑا کہاں سے لایا ہے ورنہ قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے میں قیامت تک اس منبر پر نہیں چڑھوں گا۔“ عمر گویا ہوئے۔
عبداللّٰہ نے بتایا کہ بابا کو جو کپڑا ملا تھا وہ ہم سب کو ملنے والے حصے کی طرح اس سے بہت ہی کم تھا کہ اس میں سے ان کا پور ا لباس تیار ہوپاتا جب کہ ان کے پہننے کا لباس کافی خستہ حال ہو چکا تھا۔ اس لیے میں نے اپنے حصے میں آنے والا کپڑا اپنے والد کو دے دیا۔ یہ سن کر وہ شخص اور سامعین مطمئن ہوگئے۔ اس آدمی نے کہا: ”اے امیر المومنین! اب سنوں گا اور اطاعت کروں گا۔ “
آج یہ جرات اظہار ہم سے کیوں رخصت ہو گئی؟ وطن عزیز کی بات کی جائے تو اسلام کے نام پر بننے والے اس ملک میں خواص و عوام میں صورت حال انتہائی مایوس کن ہے۔ یہاں ایک طرف تو ہر سیاسی رہنما خود کو احتساب سے بالا سمجھتا ہے اور دوسری طرف عوام اور بالخصوص سیاسی جماعتوں کے اراکین اپنے اس استحقاق کا یقین ہی نہیں رکھتے ہیں کہ وہ اپنے سیاسی لیڈران سے اس طرح کا سوال کر سکتے ہیں !! بس بلا امتیاز صحیح و غلط ایک تقلید ہے جو مسلسل بجا لائی جاتی ہے، کوئی عمل یا گفتگو غلط ہے یہ بات روز روشن کی طرح بھلے کتنی ہی عیاں کیوں نہ ہو، اب اس کا دفاع کرنا ان کا لازمی فریضہ ہے۔
میرا مقصد کسی جماعت یا اس کے اراکین کی دل آزاری ہے نہ کسی کو سیاسی کنارہ کشی یا غیر وابستگی کا مشورہ دینا مقصود بلکہ میری دلی تمنا اور سیدنا عمر بن خطاب فاروقِ اعظم کی سیرت کا یہ جمہوری واقعہ یاد دلانے کا خالصتا مقصد بس ایک دعوت فکر ہے کہ ہم اپنی اپنی سیاسی وابستگی کو قائم رکھتے ہوئے اور جماعت کے اندر رہتے ہوئے بھی اپنے رہنماؤں سے ان کے اعمال پر ان سے سوال کر سکتے ہیں اور کرنا بھی چاہیے۔
یہاں میں اپنے نون لیگ اور پی پی پی کے دوستوں سے پوچھتا ہوں کہ کیا اُن میں سے کسی نے اپنی جماعت کے ذمہ داران کو یہ باور کرایا کہ ہمہیں یہ حق قطعا حاصل نہیں کہ لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ کا اقرار رکھنے والے کسی مسلمان کی مسلمانی پر سوال اٹھائیں؟
اسی طرح میں اپنے پی ٹی آئی کے دوستوں سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ کتنے ہیں جنہوں نے اپنی جماعت کے قائد سے یہ سوال پوچھا ہو کہ آپ اپنی یا اپنے نظریے کی مخالفت پر کیونکر کسی کو مشرک ہونے کی سند دے سکتے ہیں؟
میں پھر اپنی اس بات کو دہرانا چاہتا ہوں کہ میں یہ قطعا نہیں کہہ رہا کہ آپ اپنی من چاہی یا آپ کے سیاسی نظریات سے قریب تر جماعت سے لا تعلقی اختیار کر لیں یا بغاوت کریں اس کی چنداں ضرورت نہیں لیکن اس امر کی شدید ضرورت ہے کہ آپ اپنی جماعت میں رہتے ہوئے کلمہ حق کہیں بصورت دیگر خود سوچیں کہ کیا آپ کی سیاسی جہد کو ایک مقصد کے لیے کوشش سے عبارت کیا جا سکتا ہے ؟ کیا یہ جنگ جو آپ لڑ رہے ہیں، جس کے لیے آپ اپنی توانائیاں، اپنامال اور وقت خرچ کر رہے ہیں، اسے ایک نظریاتی لڑائی کہا جا سکتا ہے ؟ جبکہ آپ غلط بات کو بھی غلط نہ کہیں، کیا کسی بڑے سے بڑے رہنما کے لیے بھی شخصیت پرستی کو جائز قرار دیا جا سکتا ہے؟ اگر اس کی اجازت ہوتی اور یہ آزاد انسانوں کا وطیرہ ہوتا تو پھر اس عقیدت کا حق دار اصحاب رسول سے زیادہ کون ہو سکتا ہے جن کو زبان نبوت سے یہ سند جاری ہوئی کہ میرے صحابہ ستاروں کی مانند ہیں جس کی بھی پیروی کرو گے ہدایت پا جاؤ گے۔
عمران خان صاحب بہت خوبصورت بات کہتے ہیں کہ وہ حقیقی آزادی کی جدوجہد کر رہے ہیں۔ اِسی طرح اُن کا ایک اور جملہ بھی ملک و بیرون ملک پاکستانیوں میں مقبول عام ہوا ہے کہ کیا ہم کوئی غلام ہیں؟ مگر حقیقی آزادی کے اِس کلچر کی انھیں خود اپنی جماعت میں بھی تو حوصلہ افزائی کرنا چاہیے۔
ہم دیکھتےاورسنتے ہیں کہ سیاسی جلسوں اور تقاریر میں اللہ اور اس کے حبیب رسول ﷺ کا ذکر ہوتا ہے، آنحضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی محبت کا آپ کی سیرت کا ذکر ہوتا ہے اور بحثیت مسلمان ہونا بھی چاہیے مگر اس ذکر کو گلے سے نیچے بھی تو اترنا چاہیے۔ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی حیات سے تو ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ آپ نے اپنے وقت کے طاغوت کو للکارا، وقت کی معروف سیاسی وسماجی شخصیات و اقدار کے سامنے پورے شدومد سے کھڑے ہوگئے مگر قربان جائیے آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی ذات اقدس پر کہ ان کی جانب سے اپنے بدترین مخالفین اور جان کے دشمنوں کے لیے ایک بھی شخصی اور ذاتی گفتگو کی مثال پیش کرنے سے تاریخ عاجز ہے۔ بسب میں یہ سمجھنے سے قاصر ہوں کہ ایسے عظیم ترین نبی ﷺ کی نام لیوا قوم آج کیوں اس حد تک نفرتوں کی دلدل میں گھر گئی ہے۔ بقول اقبال:
فرقہ پرستی ہے کہیں اور کہیں ذاتیں ہیں۔
سیاسی اشرافیہ اور کارکنوں کو اس امر کا ادراک کرنا ہوگا کہ ایسا سیاسی ماحول انتہائی خطرناک نتائج کا حامل ہے۔ ایک طرف سے اپنے مخالفین کو مشرک کہ دیا جاتا ہے تو دوسری طرف کوئی کسی کی مسلمانی پر ہی حرف سوال اٹھا لیتا ہے۔ یہ سب کیا ہے آخر؟ ایسا بولتے اور کہتے ہوئے آپ کو یہ خیال کیوں نہیں آتا کہ مبادا اِرادی یا غیر ارادی طور پر آپ کے ایسے بڑے اور بھاری الفاظ کا استعمال رائے سے آگے جسارت کے زمرے میں آجائے ؟ یا ایسی باتیں بول کر نعوذ باللہ آپ سے خدائی اختیار پر زبان اندازی ہو رہی ہو ؟ بقول شاعر:
کعبے کس منہ سے جاؤ گے غالب
میں اپنے ملک کے تمام سیاسی رہنماؤں اور ان کے ترجمانوں سے دست بستہ عرض کرتا ہوں کہ خدارا سیاست تقسیم کی نہیں تعمیر کی کریں۔ اختلاف ضرور رکھیں پر یہ اختلاف، یہ تنقید، تنقید برائے اصلاح ہو نا کہ تنقید برائے تنقید اور تنقید برائے ضد کہ اپنے رہنماؤں اور جماعت کی تو غلط بات کے لیے بھی تاویلات کرنی ہیں مگر اپنے مخالف شخص یا سیاسی رہنما کی صحیح بات کو بھی صحیح نہیں کہنا۔ وسعت قلبی کو اختیار کیجیے، غلط کو غلط کہیے اور ضرور کہیے، ثابت بھی کیجیے۔ عدل،سماجی انصاف اور قانون کی عملداری کی لڑائی ضرور لڑیے مگر اس کے لیے عدالت اور پارلیمنٹ کا میدان موجود ہے۔ پوری تیاری سے عدالت جائیے، پارلیمنٹ میں مقابلہ کیجیے اور جس نے بھی ملک و قوم کا نقصان کیا ہو، وہ آشکار ہو اور عوام سے بھی کہیے کہ ملک و قوم کے ساتھ جس نے بھی بے ایمانی کی ہے اسے وہ بیلٹ بکس کے ذریعے مسترد کردیں مگر خدارا اِس مقصد کے حصول کے لیے تعلقات میں، میل جول میں نفرتوں کو رواج مت دیجیے سیاسی مخالفت کو بیلٹ بکس سے باہر نکل کر ہمارے گھروں، ہماری شادیوں اور تقریبات میں داخل مت کیجیے۔ اس سیاسی تقسیم کو ہماری سماجی اور معاشرتی زندگی کو تقسیم اور تعصب زدہ بنانے کا سبب نہیں بننا چاہیے۔ نفرت گناہ سے کیجیے گناہگاروں سے نہیں۔ اپنی گفتگو کو ایک دائرے کا پابند کیجیے اور اپنے سیاسی کارکنوں میں اسی طرز عمل کی ترویج کیجیے۔ عوام اور بالخصوص اپنے سیاسی ورکرز کو پابند کییجیے کہ ہم میں سے کوئی کسی کی ذات پر، اس کے گھر والوں پر بات نہیں کرے گا۔ اس کے اسلام پر بات نہیں کرے گا۔ آوازیں نہیں کسے گا، برے القابات سے پکارے گا نہ مذاق اڑائے گا۔ میں اس امر پر انتہائی دکھی ہوں کہ لا الہ الا اللہ کی اقراری وہ قوم جسے براہ راست قرآن و حدیث میں برے القابات اور مذاق اڑانے سے منع کیا گیا ہے، آج اس کی سیاست بس انھی غیر اخلاقی اطوار کی صورت اختیار کر کے رہ گئی ہے۔
ارشادِ باری تعالی ہے: نہ مرد مَردوں کا مذاق اُڑائیں کہ ممکن ہے کہ یہ ان سے بہتر ہوں اور نہ عورتیں عورتوں کا مذاق اڑائیں کہ ممکن ہے کہ یہ ان سے بہتر ہوں اور آپس میں ایک دوسرے کو عیب نہ لگاؤ اور نہ کسی کو برے لقب دو ایمان کے بعد برے نام سخت برائی ہے اور جو توبہ نہ کریں وہی ظالم لوگ ہیں۔ (الحجرات – 11)
بقول ِ علامہ اقبال:
منفعت ایک ہے اس قوم کی’ نقصان بھی ایک
ایک ہی سب کا نبی’ دین بھی’ ایمان بھی ایک
حرم پاک بھی’ اللہ بھی’ قرآن بھی ایک
کچھ بڑی بات تھی ہوتے جو مسلمان بھی ایک