182

یہاں ہر چیز مفت دستیاب ہے/ تحریر/ ڈاکٹر اریقہ نور

تحریر/ ڈاکٹر اریقہ نور

ہماری قوم کا ایک بڑا مسئلہ یہ بھی ہے کہ ہمیں ہر چیز مفت چاہیے ہوتی ہے اور جب وہ ہمارے دسترس میں آجاتی ہے تو ہم اس کی ناقدری کرنا شروع کردیتے بقول شخصے مال مفت دل بے رحم……

ابتداء سے شروع کریں تو مولوی کے کان میں اذان کہنے سے نمازہ جنازہ پڑھانے تک کے ہر چیز مفت،مذہبی واعظ کے مواعظ سے لے کر نماز، جمعہ عیدین تک مفت،ہم یہ چاہتے ہیں کہ ہمارا بچہ کسی ایسی جگہ تعلیم حاصل کرے جہاں اسے مفت تعلیم ملے، کسی ایسی جگہ ٹیوشن جائے وہاں اسے مفت پڑھایا جائے،اسی طرح ڈاکٹر کی اپوئنٹمنٹ سے لے کر ادویات تک ہمیں مفت چاہیے ہوتی ہیں الغرض یہ کہ زندگی کے جتنے بھی شعبے ہیں ہماری کوشش ہوتی ہے کہ ہمیں وہ چیز مفت مل جائے۔

اسی مفت خوری نے ہماری پوری قوم کو بوجھ بنا دیا ہے،ہم اب دنیا میں عجیب مخلوق گردانے جاتے ہیں۔یہی مفت خوری ، دست درازی کی عادت ڈالتی ہے اور دست درازی ایسی ذہنیت کے افراد تیار ہوتے ہیں جن کے پاس ہر چیز ہونے کے باوجود ذہن کبھی کسی کو کچھ دینے پر آمادہ نہیں ہوتا۔

اپنے وزیر اعظم کو ہی دیکھ لیجیے کسی بھی ملک فون کرتے ہیں تو آگے سے کہا جاتا ہے یہ مانگنے آگیا ہے۔اپنے وزراء اور ایلیٹ کلاس لوگوں کو دیکھ لیجیے، اربوں روپے ہونے کے باوجود زکوٰۃ کے پیسوں سے علاج کرواتے ہیں۔اپنے بیوروکریٹس کو دیکھ لیجیے اتنی وافر مقدار میں تنخواہوں کے باوجود بجلی، گیس اور پیٹرول، ڈیزل مفت لیتے ہیں۔

کسی کی توہین میرا ہر گز مقصود نہیں۔اگر آپ دین کی روح اور گہرائی میں اتریں اور قرآن کے ساتھ آپ علیہ السلام کے اقوال و افعال کا عمیق نظری سے مطالعہ کریں تو آپ کو معلوم پڑے گا ہمارے دین میں دینے والے کی قدر ہے، اس کی فضیلت بیان ہوئی ہے، الید العلیا خیر من ید السفلاء کہا گیا ہے۔
میری معلومات اور مطالعہ کے مطابق میں نے کوئی ایسی آیت یا حدیث نہیں دیکھی جس میں مانگنے والے کی فضیلت آئی ہو یا کم از کم اسے مستحسن ہی قرار دیا گیا ہو۔

اگر ہم مذہب سے ہٹ کر بھی بات کریں تو معزز قومیں اس فعل کو قبیح جانتی ہیں۔جاپان میں سیلاب کی مد میں پاکستان کی طرف سے دیے گئے چیک کو آج بھی انہوں نے فریم کروا کر محفوظ رکھا ہوا ہے اور غیرت اتنی کے باوجود حاجت شدیدہ کے استعمال نہیں کیا۔

ہمیں دیگر کئی ساری چیزوں کے ساتھ ساتھ اس دست درازی اور مفت خوری کی عادت کو چھوڑنا ہو گا تاکہ ہم بحیثیت قوم دوسروں کے محتاج اور دوسروں کی طرف نظر اٹھانے کے بجائے خود اپنے پاؤں پر کھڑے ہو سکیں۔

سو اپنے لیے ہی سہی خرچ کرنے کی عادت ڈالیے۔یہ آپ کو سکون بھی دے گا اور عزت نفس کی سلامتی بھی ممکن ہو سکے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں