130

مفتیِ اعظم الوداع!/تحریر/ڈاکٹرعلامہ مولانا محمد جہان یعقوب

ڈاکٹرعلامہ مولانامحمدجہان یعقوب
(انچارج شعبہ تصنیف وکلیہ ابلاغ عامہ،جامعہ بنوریہ عالمیہ)

زمینی حقائق سے ہم آغوش،شبِ دیجورکے سناٹوں کوچیرنے والی گرج دار آوازکا حامل حق کا حدی خواں،دھیمے سروں میں دل میں اتر جانے والی بات کہنے کا سلیقہ اورفہمیدہ لب ولہجے کاحامل واعظ، مسند درس وتدریس کا شہنشاہ،ٹھوس دلائل سے بات کرنے والا مدرس، اقلیمِ افہام وتفہیم کا بادشاہ ،سیاسی حرکیات پر عبوررکھنے والا مدبر،اعلیٰ انتظامی صلاحیتوںکا حامل انتھک محنت وریاضت اورمقصد کی سچی لگن رکھنے والا منتظم، کھری، دو ٹوک اور ستائش و صلے سے بے نیازحق گوئی کا ڈھنگ رکھنے والا عالم دین؛ اوراچھوتی تشبیہات،انوکھے استعارات اور اجنبی تعبیرات سے پاک چنیدہ ،صاف شستہ ،سنجیدہ اور سادہ اسلوبِ تحریرکاحامل ادیب ومصنف ہمیشہ کے لیے خاموش ہوگیا۔اس کے فراق میں دارالعلوم کراچی کے درودیوارآج بھی تصویرِ حزن وملال ہیں، دارالعلوم کی پرشکوہ عمارت غم میں ڈوبی ہوئی ہے،دارالافتاء حقِ فتوی ادا کرنے والے فقیہ کی رحلت پر ماتم کناں ہے،اہتمام وانصرام کا کوہ ہمالیہ اشک شوئی کے لیے کسی ثانی مفتی اعظم کامتلاشی ہے،کیونکہ آج کے بعد دارالعلوم کی فضاؤں میں وہ گرج دار آواز کا طنطنہ نہیں رہا۔
مفتی صاحب اپنے وقتِ موعود پر چلے گئے،یہ کہاجائے تو بیجا نہ ہوگا کہ اکابر علمائے اہلِ سنت کے سلسلةالذہب کی کڑی کا ایک بیش قیمت موتی افق کے اس پار چلا گیا۔ ایسی ہستیوں کی رحلت کا خلا اور جدائی کا زخم بھرتے بھرتے ہی بھرتا ہے، یہ ہستیاں توایسی ہیں جن کی مثال اِس قحط الرجال کے دور میں ناممکن نظر آتی ہے۔یتیم تو ان کی رحلت سے تمام امتِ مسلمہ بالخصوص اہالیانِ وطن ہوئے ہی ہیں، مگر اہلِ سنت مکتبِ فکر کے لیے یہ بہت بڑا دھچکا ہے،ان کے لیے بھی جومفتی اعظم پاکستان مفتی محمد رفیع عثمانی کی آرا ٔسے بعض اوقات مؤدبانہ، فرزندانہ اختلاف بھی کیا کرتے تھے کہ علمی اختلاف کی طرح بھی انہی اکابر نے ڈالی ہے اوران کے لیے بھی جن کو اختلاف شجرِ ممنوعہ اور عقیدت کے خلاف لگتا تھا۔
ان کا وجود شجرِ سایہ دار کی طرح تھا، جس کے سائے سے بڑے بڑے علما،حتیٰ کہ شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی بھی فیض یاب ہوتے تھے، مفتی صاحب انہیں بڑے بھائی ہی کا نہیں، والد کا مقام دیا کرتے تھے اور ہر معاملے میں ان کی رائے کو مقدم رکھتے تھے۔یہ تعلق سترسال سے اوپر کا شعوری تعلق تھا، جو وقت کے ساتھ ساتھ بڑھتارہا۔شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی، اپنے بڑے بھائی کو والد کی جگہ دیتے تھے، کیاقابلِ رشک علمی جوڑی اور مثالی جوڑ تھا، کیا ہی عقیدت ومحبت کی مورتیاں تھیں یک جان دو قالب کی مثال!
پیدائش:
مفتی اعظم پاکستان مفتی محمد رفیع عثمانی 21 جولائی 1936 میں ہندوستان کے صوبہ اترپردیش کے ضلع سہارنپور کے مشہور قصبہ دیوبند میں تحریک پاکستان کے سرکردہ رہنما مفتی اعظم پاکستان مفتی محمد شفیع رحمہ اللہ کے گھرپیدا ہوئے۔آپ کا نام محمد رفیع،حکیم الامت مجدد ملت مولانا محمد اشرف علی تھانوی نے رکھا تھا۔آپ کے والددارالعلوم دیوبند کے فاضل،استاد اور مفتی تھے ،آپ کے دادا مولانا محمد یاسین بھی دارالعلوم دیوبند کے استاتذہ میں سے تھے۔
ابتدائی تعلیم و حفظ قرآن:
ابتدائی تعلیم اور حفظ قرآن کا آغاز دارلعلوم دیوبند سے کیا،بغدادی قاعدہ، علم و عرفان کے مرکز دارالعلوم دیوبند کے دارالافتاء میں اپنے والدمفسر قرآن مفتی اعظم مفتی محمد شفیع سے پڑھا اورنصف قرآن کریم دار العلوم دیوبند میں حفظ کیا۔ یکم مئی 1948 کواہلِ خانہ کے ساتھ ہجرت کر کے پاکستان آگئے اس وقت ان کی عمر بارہ برس تھی۔جب وہ اپنے بزرگوں کے ساتھ ہجرت کرکے پاکستان کی طرف آرہے تھے تو انہوں نے وہ خونی مناظر اپنی آنکھوں سے دیکھے جنہیں ہندو اور سکھ، بلوائیوں نے مسلمانوں کے خلاف برپا کر رکھا تھا۔حفظ قرآن کی تکمیل مسجد باب السلام، آرام باغ میں ہوئی، اور آخری سبق فلسطین کے مفتی اعظم مولانا سید امین الحسینی نے پڑھایا ۔
دینی تعلیم :
1951 میں دار العلوم کراچی میں ان کا داخلہ ہوا، اور 1960 میں انہوں نے ”درس نظامی”میں سند فضیلت اوراس کے بعد دار العلوم کراچی سے تخصص فی الافتاء کی سند حاصل کی۔ آپ نے صحیح بخاری مولانامفتی رشید احمد لدھیانوی سے، صحیح مسلم مولانا اکبر علی سہارنپوری سے، موطا امام محمد اور سنن نسائی مولانامفتی سحبان محمود سے، سنن ابو داؤدمولانا رعایت اللہ سے اور جامع ترمذی مولانا سلیم اللہ خان سے پڑھی۔
اس کے علاوہ آپ کو مندرجہ ذیل مشائخ سے اجازتِ حدیث حاصل تھی :
سابق مدرس مسجد حرام شیخ محمد حسن ابن محمد مشاط مکی مالکی ، مولانامحمد ادریس کاندھلوی ، شیخ الحدیث مولانامحمد زکریا کاندھلوی ، علامہ ظفر احمد عثمانی ، مولانا قاری محمدطیب قاسمی ، شیخ ابو زاہدمولانا محمد سرفراز خان صفدر ، شیخ یاسین فادانی مکی ، شیخ احمد کفتارو مفتی جمہوریہ سوریہ ، شیخ عبد اللہ ابن احمد ناخبی رحمہم اللہ تعالیٰ!
1378ھ میں، انھوں نے جامعہ پنجاب سے”مولوی” اور ”منشی فاضل” کے امتحانات پاس کیے۔
تدریس:
فراغت کے بعدجامعہ دارالعلوم کراچی سے ہی تدریس کا آغاز کیااوردار العلوم کراچی میں 1380ھ سے 1390ھ تک درس نظامی کی اکثرکتابیں پڑھائیںاور 1391ھ سے حدیث میں صحیح مسلم اور افتا ء کی کتابیں پڑھائیں اور طلبائے فقہ کی تربیت کی۔اس ذمے داری کو آپ نے نہایت جاں فشانی اور عرق ریزی سے نبھایا ، آپ نے قلیل مدت میں اپنی خداداد صلاحیتوں کی بدولت درسِ نظامی کے تقریبا ًتمام علوم و فنون کی کتابوں کی تدریس کا مرحلہ بڑی خوش اسلوبی کے ساتھ طے کیا ۔
آپ جامعہ دارالعلوم کراچی میں منصبِ صدارت کے ساتھ ساتھ درسِ مسلم شریف اور تخصص فی الافتا کے شرکا کو وقت دیتے رہے، نیز اہم مسائل اور استفتاء ات کے جوابات دینا اور ان کی تصدیق اور تصویب کرنا بھی آپ کے اہم مشاغل میں سے رہا ، ان سب کے علاوہ آپ کئی اصلاحی و تعلیمی تنظیموں کے سرپرست اور کئی اداروں کی مجلسِ شوری کے فعال رکن بھی رہے۔اپنے ملک و ملت کے لیے سیاست و انتظام ، عدالت و قضا ، معیشت واقتصاد اور تعلیم کے میدان میں آپ نے قابلِ قدر خدمات انجام دی ہیں ، آپ نے متعدد سرکاری و غیر سرکاری عہدوں پر رہ کر گراں مایہ خدمات انجام دی ہیں۔
تصوف و سلوک:
فقہِ ظاہر میں ممتاز مقام حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ آپ فقہِ باطن میں بھی بہت اہتمام سے مشغول رہے ، چنانچہ حکیم الامت حضرت مولانا محمد اشرف علی تھانوی کے خلیفۂ خاص عارف باللہ حضرت ڈاکٹر عبدالحیٔ عارفی سے آپ کا اصلاحی تعلق رہا ، شیخ کے فیوض و برکات اور ان کے ارشادات اور اصلاحی مشوروں پر مکمل عمل پیرا ہو کر آپ نے سلوک کی منازل طے کیں اور اپنے شیخ کی نظر میں خصوصی مقام پا کر خلعتِ خلافت سے نوازے گئے ، اس نعمت کو آگے منتقل کرنے کے لیے دیگر علمی و انتظامی مصروفیات کے باوجود عامة الناس کی اصلاح و تربیت کی ذمے داری بھی آپ نے بڑے حوصلے اور تدبر کے ساتھ انجام دی۔
صدارتِ دارالعلوم کراچی:
1986 ء میں دارالعلوم کراچی کے دوسرے صدرحضرت ڈاکٹرمولانا محمد عبد الحئی عارفی کی وفات کے بعد،مفتی محمدرفیع عثمانی ان کے جانشین اور دار العلوم کراچی کے تیسرے صدر بنائے گئے،یوںدارالعلوم کے انتظام وانصرام کابوجھ بھی آپ کے کندھوں پر آیا، آپ کی شبانہ روز انتھک جدوجہد ہی کانتیجہ ہے کہ دارالعلوم کراچی کا شمار آج پاکستان کی منفرد ، منظم اورچندبڑی جامعات میں ہوتا ہے۔ آپ نے اپنے والد گرامی کی جانشینی کا حق ادا کرتے ہوئے اس ادارے کی عظمت کو مزید چار چاند لگائے، اسے علمی، روحانی مرکز اور عظیم دانش گاہ بنا دیا۔
دیگر عہدے ومناصب:
وہ جامعہ کراچی کے سنڈیکیٹ ممبر اور وفاق المدارس العربیہ کی مجلس انتظامیہ کے رکن اور نائب صدر تھے ۔وہ پاکستان علما ء کونسل، اسلامی نظریاتی کونسل، رؤیت ہلال کمیٹی اور حکومت سندھ کی زکو ٰةکونسل کے رکن ،شرعی عدالتی بنچ عدالت عظمیٰ پاکستان کے مشیر اور این ای ڈی یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی کے سنڈیکیٹ کے بھی رکن تھے۔
انہوں نے وفاق المدارس العربیہ کی مجلسِ منتظمہ و مجلسِ ممتحنہ کے رکن کی حیثیت سے بھی خدمات انجام دیںاور بعد میں اس کے سرپرست بنائے گئے۔انہوں نے 5 اکتوبر2017 تا16جون 2021 وفاق المدارس کے نائب صدر کے طور پر خدمات انجام دیں ۔
مفتی اعظم پاکستان کا خطاب :
مفتی اعظم ولی حسن ٹونکی رحمہ اللہ کے بعد اعلیٰ ترین علمی خدمات پر مشاہیر علمائے کرام نے مفتی اعظم پاکستان کا عہدہ آپ کے سپرد کردیا ،آپ کانام عبدالرحمٰن باوا نے پیش کیا اور تمام علمائے کرام نے اس کی تائید کی۔واضح رہے کہ مفتی اعظم اگرچہ پاکستان میں کوئی باقاعدہ سرکاری یا رسمی عہدہ تو نہیں ،لیکن اپریل1992 میں وقت کے کبار اہلِ علم نے متفقہ طور پر مفتی محمد رفیع عثمانی کو مفتی اعظم کا اعزاز بخشا تھا،ان سے پہلے مفتی ولی حسن ٹونکی کو یہ لقب حاصل تھا۔ قبل ازیں قیام پاکستان کے وقت سے مفتی محمد شفیع مفتی اعظم کہلاتے تھے۔
تصانیف:
آپ اعلیٰ درجے کی ادبی اور تحریری صلاحیتوں سے مالامال ، محتاط قلم کے مالک اور صاحبِ طرز مصنف تھے ، آپ کے قلم میں حسنِ ترتیب اور موضوع کا بہترین احاطہ پایا جاتا ہے ، آپ کی ہر تحریر اعتدال وتوازن ، جچے تلے اندازِ بیان ، دلائل اور حقائق کے بالترتیب بیان کا حسین اور عمدہ نمونہ ہوتی تھی ، قدیم و جدید بیشتر موضوعات پر آپ کی تصنیفات ہیں ۔مفتی محمدرفیع عثمانی نے عربی اور اردو میں تقریبا 27 کتابیں تصنیف کیں ۔ 1988ء سے1991 ء تک انہوں نے ایچ یو جے آئی سے متعلق اپنی یادوں کو دارالعلوم کراچی کے اردو ماہانہ’ البلاغ’ کے علاوہ روزنامہ ‘جنگ’ اور ماہنامہ’ الارشاد’ میں شائع کروا یا ،جو بعد میں ”یہ تیرے پراسرار بندے” کے عنوان سے مستقل کتابی شکل میں شائع ہوئیں۔اس کے علاوہ بھی مفتی صاحبکی بہت ساری تصانیف ہیں، جن میں سے چندکے نام درج ذیل ہیں :
احکام زکو ٰة۔ علاماتِ قیامت اور نزول مسیح علیہ السلام ۔لتعلیقات النافع علی فتح الملہم۔ بیع الوفائ۔ یورپ کے تین معاشی نظام جاگیرداری ،سرمایہ داری، اشتراکیت اور ان کا تاریخی پس منظر ۔شرح علم الصیغہ۔اسلام میں عورت کی حکمرانی ۔حیات مفتی اعظم (مفتی محمد شفیع رحمہ اللہ)۔کتابتِ حدیث عہد رسالت ۖ و عہد صحابہ میں ۔میرے مرشد حضرت عارفی (حکیم محمد عبدالحئی عارفی)۔نوادرالفقہ۔ضابطة المفترعات۔ سرزمین انبیا ء میں۔امدادالفتاویٰ۔درسِ مسلم ، اختلاف رحمت، فرقہ بندی حرام۔دو قومی نظریہ۔فقہ میں اجماع کا مقام وغیرہ!
اس کے علاوہ مفتی اعظم نے بہت سارے مقالے بھی لکھے ،بہت ساری کتابوں کی تعلیقات بھی لکھیں۔ ان کے تلامذہ نے ان کے دروس اور بیانات کو اپنے الفاظ میں نقل کرکے کتابیں لکھی ہیں ۔
مفتی اعظم کی قیمتی باتیں:
ایک بیان میں فرمایا:”سلام کرنا سنتِ مؤکدہ ہے، اس سے بہت محبتیں بڑھتی ہیں، بڑے اجر و ثواب کا کام ہے۔ حضور ۖنے اس کی جگہ جگہ تاکید بھی فرمائی ہے۔ سلام کا جواب دینا واجب ہے، مسلمان کا حق ہے کہ جب وہ سلام کرے تو اس کو جواب بھی دیا جائے، مگر اب لوگ نہ سلام کرتے ہیں اور نہ جواب دیتے ہیں، بلکہ صرف مصافحہ کرتے ہیں، حالانکہ مصافحہ کرنا نہ سنتِ مؤکدہ ہے اور نہ واجب ہے، بلکہ مستحب ہے، وہ بھی اس شرط کے ساتھ کہ جس سے مصافحہ کررہے ہیں اس کا راستہ نہ رُکے، اس کو ناگواری اور تکلیف نہ پیش آئے، اس کے کسی کام میں حرج نہ ہو، ساتھ والے کسی آدمی کو دھکا نہ لگے، ان تمام شرائط کے ساتھ مصافحے کی اجازت ہے، مستحب بھی ہے اور اس کا بھی بڑا ثواب ہے۔”
ایک موقع پر فرمایا:”طلبہ کے لیے نصیحت یہ ہے کہ وہ ہر سنت پر عمل کریں، اپنی زندگی کو سنت کے سانچے میں ڈھالیں۔ اس سے بہتر کوئی طریقہ زندگی نہیں ہوسکتا۔ اہتمام سے حضور ۖ کی سنتوں کا علم حاصل کریں اور اس پر عمل کرتے جائیں۔ کسی اللہ والے بزرگ سے اپنا اصلاحی تعلق قائم کریں۔”
بچوں کی تربیت کے حوالے سے فرمایا:”والدین اپنے بچوں کو ہر ہر کام کھانے پینے، سونے جاگنے ، بیت الخلاآنے اور جانے ، صفائی ستھرائی ، بات چیت میں سنت پر عمل کرنے کا عادی بنائیں۔ بچوں کی تربیت گھر میں کم ہوتی ہے، لہٰذا اساتذہ کو بھی بچوں کی تربیت کا اہتمام کرنا چاہیے۔ اساتذہ جتنا دین پڑھاتے ہیں، اس سے زیادہ سکھائیں۔”
ایک بیان میں فرمایا:”آج کل ہمارے مدارس میں بکثرت ایسا ہورہا ہے کہ دین سکھایا نہیں پڑھایا جاتا ہے، حالانکہ اصحابِ صفہ کے چبوترے پر حضور ۖدین سکھاتے بھی تھے اور پڑھاتے بھی تھے۔ دارالعلوم دیوبند میں اکابر دیوبند دین سکھاتے بھی تھے اور پڑھاتے بھی تھے۔ اب ہمارے مدارس میں دین سکھایا نہیں، بلکہ صرف پڑھایا جاتا ہے۔ سلام تک سنت کے مطابق نہیں کرتے، صف بندی میں بھی سنت کا اہتمام نہیں کرتے، وضو کرنا اور کھانے پینے کا کام بھی سنت کے مطابق کرنے کی عادت ہی نہیں ہے۔ اس کی فکر کی جائے۔ اساتذہ کی بہت بڑی ذمے داری ہے۔تربیت کا سب سے زیادہ بہتر طریقہ یہ ہے کہ اساتذہ خود اپنے اعمال کو درست کریں۔ جب خود کا عمل درست ہوگا تو طلبہ بھی اس کا اہتمام کریں گے۔ طلبہ کو زبان اور عمل دونو ںسے توجہ بھی دلاتے رہیں۔”
ایک موقع پر فرمایا:”مدارس میں داخلے کے وقت لوگ سمجھتے ہیں کہ بس اللہ تعالیٰ کا راستہ یہی ہے،یا بعض حضرات یہ خیال کرلیتے ہیں کہ صرف تبلیغ ہی اللہ تعالیٰ کا راستہ ہے،حالانکہ اللہ تعالیٰ تک پہنچنے کے راستے انسانوں کی سانس سے بھی زیادہ ہیں۔مثلاً:ایک آدمی عیادت کے لیے جائے،اس کے بارے میں حدیث شریف میں آتاہے کہ اگر صبح عیادت کرتا ہے تو ستر ہزار فرشتے رات تک اس کے لیے دعا کرتے ہیں ۔جب عیادت کا یہ ثواب ہے تو ڈاکٹر کاکتنا ثواب ہوگا۔اگر حسنِ نیت کے ساتھ شرعی حدود میں رہ کر یہ کام کیاجائے تو یہ بھی اللہ تعالیٰ تک پہنچنے کاایک راستہ ہے،اسی طرح جہاد ہو،تبلیغ ہو یا تعلیم وتدریس ہو ،جب یہ شرعی حدود میں ہوں تو یہ سارے ہی اللہ کے راستے ہیں اور جب حدود سے تجاوز ہو تو فساد بن جائے گا۔”
نمایاں اوصاف
والدگرامی کی جانشینی:
حضرت مولانا مفتی محمد رفیع عثمانی اپنے والد گرامی مفتی اعظم پاکستان حضرت مولانا مفتی محمد شفیع قدس اللہ سرہ العزیز کے فرزند و جانشین ہونے کے ساتھ ساتھ ان کی علمی، دینی اور سیاسی روایات کے امین و پاس دار بھی تھے اور ان کی مختلف النوع سرگرمیاں دیکھ کر حضرت مفتی اعظم کی یاد تازہ ہو جایا کرتی تھی۔
عبادت کا حال:
آپ ان برگزیدہ ہستیوں میں سے تھے، جنہیں اللہ رب العزت نے عبادت کا خاص ذوق عطا فرمایا تھا ، بڑھاپے کی حالت میں بھی جس خشوع و خضوع اور بے نظیر اہتمام کے ساتھ آپ طویل قیام و قرأت پر مشتمل نوافل ادا کرتے تھے وہ قابلِ دید ہونے کے ساتھ قابلِ رشک بھی ہے ، ہر وقت زبان پر ذکر و اوراد کے کلمات جاری رہتے ، روزانہ کے معمولات ، تلاوت ، مناجات ، تسبیحات اور خصوصاً ادعیۂ ماثورہ کی بڑی پابندی فرماتے اورسفر ہو یا حضر کسی بھی صورت میں ناغہ نہیں ہونے دیتے تھے۔
ذوقِ مطالعہ:
آخرِ عمر میں بھی طلبِ علم میں انہماک اور ذوقِ مطالعہ کی صفت درجۂ کمال کو پہنچی ہوئی تھی ، اکثر و بیشتر مطالعے میں رات کے ایک دو بج جاتے اور بسا اوقات رات کی طوالت کا بالکل پتا بھی نہ چلتاتھاکہ اچانک اذانِ فجر کی آواز رات کے ختم ہونے کا احساس دلاتی۔
مفتی صاحب کی ایک اہم خوبی:
مولانا زاہدالراشدی لکھتے ہیں:مفتی صاحب متعلقہ امور میں مشورہ کرتے تھے اور مشورہ قبول بھی کرتے تھے اور حوصلہ افزائی کا معاملہ کرتے تھے۔ میں نے امریکا کے ایک سفر میں ان سے گزارش کی کہ ہمیں اپنے فضلا اور منتہی طلبہ کو موجودہ عالمی فکری و تہذیبی ماحول سے روشناس کرانے اور آج کے علمی، فکری اور ثقافتی مسائل پر ان کی تیاری کرانے کا اہتمام کرنا چاہیے، بالخصوص بین الاقوامی قوانین و معاہدات اور ان کے عملی و تہذیبی اثرات سے انہیں آگاہ کرنا چاہیے جو ہمارے ہاں عام طور پر نہیں ہوتا۔ انہوں نے میری اس گزارش سے نہ صرف اتفاق کیا بلکہ مجھے دو تین بار اس بات کا موقع فراہم کیا کہ جامعہ دارالعلوم کراچی میں تخصص فی الدعوة والارشاد کے شرکا کے سامنے مختلف نشستوں میں اپنے ذوق کے مطابق عالم اسلام اور مغرب کی فکری و تہذیبی کشمکش کے حوالے سے اپنا نقطۂ نظر تفصیل کے ساتھ بیان کر سکوں۔
خطابت کااہم پہلو:
اللہ تعالیٰ نے آپ کو حسنِ خطابت سے بھی نوازا تھا ، آپ کے خطبات و بیانات شریعت و طریقت کا حسین امتزاج ہوتے ، جن میں عالمانہ تحقیق ، فقیہانہ نکتہ وری کے ساتھ ساتھ ایک بلند پایا صوفی ، مصلح اور مربی کی سوچ بھی جلوہ نما ہوتی تھی۔مولانا زاہدالراشدی لکھتے ہیں:مفتی صاحب مرحوم کے ذوق کا یہ پہلو میرے لیے ہمیشہ باعث توجہ رہا ہے کہ وہ علمی و دینی مجالس میں روایتی خطاب کے بجائے عوام اور علما دونوں کے لیے راہنمائی کا کوئی نہ کوئی پہلو ضرور اجاگر کرتے تھے جن میں سے بعض باتوں کا میں اپنے مختلف کالموں میں ذکر کر چکا ہوں۔ موقع محل کے مطابق ضرورت کے امور کو محسوس کرنا اور اس کے مطابق راہنمائی کرنا ان کا خاص ذوق تھا جو یقینا علما کرام کے لیے مشعلِ راہ ہے۔ وہ تربیت و اصلاح کی طرف بطور خاص توجہ دیتے تھے اور جہاں اس حوالہ سے کوئی کمی یا کوتاہی دیکھتے اُسے نظرانداز کرنے کے بجائے اس کی نشان دہی کر کے اصلاح کی طرف متوجہ کرتے تھے۔
آپ کے علم و فضل سے دنیا کے بہت سے ممالک کے مسلمانوں کو استفادے کا موقع ملا ، وقتاً فوقتاً آپ کو جن علاقوں کا دورہ کرنے کا موقع ملا، ان میں: برِ اعظم ایشیا ، برِ اعظم افریقہ ، برِ اعظم یورپ ، برِ اعظم امریکا کے تقریبا ًتمام ممالک شامل ہیں۔
بے نفسی اورعجز و انکساری:
ایک نوجوان طیارے میں کراچی کا سفر کر رہا تھا، برابر والی سیٹ پر ایک سفید ریش بزرگ بیٹھے ہوئے تھے۔ کچھ دیر بعد نماز کا وقت ہوا تو بزرگ نے سیٹ پر بیٹھے بیٹھے نماز شروع کر دی۔ جب وہ نماز پوری کرچکے تو نوجوان نے ان سے کہا کہ اس طرح نماز نہیں ہوتی۔ بزرگ کا جواب تھا: علما سے سنا ہے کہ پڑھ لینی چاہیے۔ فلائٹ کراچی ایئر پورٹ پر اتری تو نوجوان کا بڑا بھائی اس کے استقبال کے لیے موجود تھا، لیکن وہ اپنے چھوٹے بھائی کے بجائے لپک کر سیدھا ان بزرگ کی طرف گیااور بہت ہی احترام سے ان سے ملاقات کی۔ جب بزرگ رخصت ہوگئے تو نوجوان نے اپنے بڑے بھائی سے پوچھا : جن سے آپ مل رہے تھے، وہ کون تھے؟ جواب ملا :یہ مفتی اعظم پاکستان، مفتی محمد رفیع عثمانی تھے۔
اندازہ لگا لیجیے! اپنے ہم سفر نوجوان کو شرمندگی سے بچانے کے لیے” علما سے سنا ہے” کا جواب دینے والی شخصیت کون تھی؟وہ خود ملک کا سب سے بڑا مفتی ہونے کے باوجود کس تواضع و انکساری سے بات کر رہے تھے۔
محمد ابوبکرحنفی شیخوپوری لکھتے ہیں :غالبا ً 2002 ء کی بات ہے،جامعہ اسلامیہ امدادیہ چنیوٹ میں جلسہ تھا،جس کے مہمان خصوصی مولانا مفتی محمدرفیع عثمانی رحمہ اللہ تھے، جو ان دنوں شیخ الحدیث مولانا نذیر احمد صاحب رحمہ اللہ بانی جامعہ اسلامیہ امدادیہ کی خصوصی دعوت پر پنجاب کے دورے پر تشریف لائے تھے،ظہر کے بعد کا وقت تھا اور مسجد کے صحن میں اسٹیج لگایا گیا تھا،اسٹیج پر آسمان علم و حکمت کے تین درخشاں ستارے،مرجع الخلائق ہستیاں اور محبوب العوام والخواص شخصیات مولانا مفتی محمد رفیع عثمانی،سفیر ختم نبوت مولانا منظور احمد چنیوٹی اور شیخ الحدیث مولانا نذیر احمد جلوہ گر تھیں،شیخ الحدیث مولانا نذیر احمد نے حضرت چنیوٹی کو خاندانِ عثمانی کا تعارف کروانے اور حضرت مفتی صاحب کو دعوت دینے کی ذمے داری سونپی،چنانچہ حضرت چنیوٹینے بڑی تفصیل سے حضرت مفتی صاحب کے خاندان کا تعارف کروایا،اس دوران حضرت مفتی صاحب سر جھکائے بیٹھے رہے،جب خطاب کے لیے کرسی پر تشریف لائے تو بڑے پن کا مظاہرہ کرتے ہوئے حضرت چنیوٹی کے علم وفضل کے سامنے خود کو ہیچ قرار دیا اور علم و عمل اور فضل و تقوی کا پہاڑ ہونے کے باوجود بہت زیادہ عجز و انکساری کا مظاہرہ کیا۔
پاکستان کی محبت:
مفتی محمد رفیع عثمانی کے والد ماجدمفتی محمد شفیع دارالعلوم دیوبند کے مفتی، نامور عالم دین اور تحریک پاکستان کے ممتاز رہنمائوں میں شامل تھے، یہ صفات مفتی صاحب میں بھی والد محترم سے بدرجہ اتم منتقل ہوئیں ،دین اسلام اور پاکستان کی محبت ان کے خون میں شامل تھی، یہی وجہ ہے کہ وہ آخر دم تک دین اسلام کی ترویج اور پاکستان کی سلامتی کے لیے اپنا کردار ادا کرتے رہے ۔
مفتی اعظم پاکستان مفتی رفیع عثمانی نے اپنی ساری عمر قوم کے جوانوں کو علم و ادب اور قرآن و سنت سکھانے اور پڑھانے میں کھپا ڈالی، آپ کے ہزاروں شاگرد آج بھی دنیا کے کونے کونے میںعلم کی شمع کو فروزاں کیے ہوئے ہیں،آپ نے فرقہ واریت کی ہمیشہ مذمت کی اور ایک کتاب بھی لکھی،جس کانام ہے:اختلاف رحمت، فرقہ بندی حرام، آپ قوم کے جوانوں کو تفرقوں میں بانٹنے کی بجائے انہیں علم کے حسن سے سنوار کر ایک لڑی میں پرونے کے قائل تھے، آپ ساری عمر پاکستانی قوم میں اتحاد و اتفاق کی دعوت عام کرتے رہے۔دارالعلوم کراچی سے آسمانی علوم کے ساتھ ساتھ تشنگانِ علم کو پاکستان کی محبت کے جام بھر بھر کر پلائے، انہوں نے پاکستان کی تعمیر و ترقی میں کردار ادا کرنے کے لئے ہمیشہ اپنے آپ کو فرنٹ لائن پر رکھا، جامعہ دارالعلوم کورنگی میں ہر سال 14 اگست کے موقع پر علما و طلبا باقاعدہ پریڈ کرکے سبز ہلالی پرچم کو سلامی پیش کرتے ہیں۔ وہ خود پیرانہ سالی کے باوجود اس تقریب کی زینت بنا کرتے تھے۔ ہر معاملے میں شدت پسندی سے مکمل اجتناب اور ہمیشہ اعتدال و میانہ روی کا دامن تھامے رہنا ان کا وتیرہ تھا۔ بین المسالک ہم آہنگی، مذہبی رواداری اور اتحاد و اتفاق کے وہ پرزور داعی تھے۔ جس کی جھلک ان کے متعلقین و شاگردوں میں دیکھی جا سکتی ہے۔
دینی افراد وجماعتوں کی سرپرستی:
مفتی اعظم نے جمہوری سیاست میں خود کبھی حصہ تو نہ لیا ،لیکن انہوں نے جمہوری سیاست میں حصہ لینے والے علما کو ہمیشہ احترام کی نظروں سے دیکھا۔دین کے ہر کام کو خود بھی کرتے اور دینی کاموں میں مصروف جماعتوں اور شخصیات کی سرپرستی بھی خوب کرتے رہے۔ آپ پاکستان میں نظام اسلام کے نفاذ کے سب سے بڑے داعی تھے۔
اندازِتدریس:
آپ اپنی قوتِ تفہیم کی بدولت مشکل ترین اور دقیق ترین مباحث کو ایسے آسان اور عام فہم انداز میں بیان کرتے تھے کہ ہر طالب علم بخوبی مستفید ہو جاتا۔حلِ کتاب پر خاص توجہ ، غیر ضروری نکات و مباحث سے اجتناب ، صحتِ عبارت و تلفظ پر خصوصی نظر ، متنِ حدیث سے متعلق قدیم و جدید فقہی مسائل اور ان کے پسِ منظر کے ساتھ
موجودہ حالات کے تناظر میں مختلف فکری ، سیاسی اور معاشی تحریکات اور جدت پسندانہ نظریات کا ٹھوس، مدلل اور سنجیدہ علمی انداز میں تجزیہ ، موقع بموقع اپنے مخصوص دل کش انداز میں مختلف علمی و تفریحی نشاط آفریں لطائف سے طلبہ کو محظوظ کرنا آپ کے درس کی خصوصیات ہیں۔کتاب میں مصنف یا کسی بزرگ کا اسمِ گرامی آتا تو نہایت احترام کے ساتھ ان کا نام لیتے ، خصوصا نبیِ کریمۖ کا نامِ نامی آنے پر یہ تعظیمی کیفیت مزید بڑھ جاتی ، واضح تلفظ کے ساتھ پورا ”صلی اللہ علیہ وسلم ”ہر مرتبہ خود پڑھتے اور طلبہ کو بھی صحیح تلفظ کے ساتھ اس کے پڑھنے کی تلقین کرتے اور اس میں فرو گذاشت نہیں ہونے دیتے ، اس معاملے میں آپ نہایت حساس اور بے لچک تھے۔
فتویٰ دینے میں آپ کا طریقِ کار:
فتویٰ دینے میں آپ کا طریق کار وہی تھا جو آپ کے عظیم والدِ ماجد کا تھا ، افتایٔ میں آپ نہایت محدثانہ احتیاط اور اعلیٰ درجے کی فقیہانہ روا داری سے کام لیتے تھے ، جواب قرآن وسنت اور فقہائے کرام کی تعبیر کے مطابق واضح عبارت کے ساتھ دیتے ، جواب میں نہایت غور و فکر سے کام لیتے ، یہی وجہ ہے کہ کبھی ایک ایک فتوے میں کئی کئی دن لگ جاتے۔ آپ نے ہزارہا فتوی جاری فرمائے ہیں ، ١٤٢٠ ھ کے اعداد و شمار کے مطابق آپ کے خود نوشت فتاویٰ کی تعداد 1143 اور تصدیق کردہ فتاویٰ کی تعداد 7624 اور مجموعی تعداد8767 ہے۔
طلبہ کے ساتھ خصوصی شفقت:
آپ طبعی طور پر نہایت رقیق القلب تھے ، ہر رقت آمیز منظر ، واقعہ اور خبر پر آپ کا آبدیدہ ہو جانا آپ کی طبعی خاصیت رہی ، اسی وجہ سے آپ ہر عام و خاص اور خصوصاً طلبہ کے ساتھ نہایت شفقت کا معاملہ فرماتے۔
جنازے کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے طلبہ کے ساتھ خصوصی شفقت کا ذکر کرتے ہوئے آپ کے صاحبزادے مولانا مفتی محمد زبیر اشرف عثمانی نے یہ واقعہ سنایا:ایک مرتبہ حضرت مفتی صاحب رحمہ اللہ کے پاس کچھ طلبا آئے اور انہوں نے کھانے کے متعلق شکایت کی،رفقا کاخیال تھا کہ مفتی صاحب شکایت سن کر ہمیں کچھ کہیں گے توہم ان سے اور طلبہ سے معذرت کر لیں گے، لیکن اُن کی توقعات کے برعکس، مفتی صاحب اپنے دفتر سے مطعم تشریف لائے اور عملے کے سر پر کھڑے رہے کہ ان کے لیے باہر سے کھانا لایا جائے،جب تک کھانا نہیں آیا اور طلبا نے نہیں کھالیا، اس وقت تک مفتی صاحب بے چینی کی حالت میں کھڑے رہے۔
شگفتہ مزاجی:
فطری طور پر آپ شگفتہ مزاج ، ہشاش بشاش اور ظریفانہ طبیعت کے مالک تھے ، اعتدال و توسط ، وقار ومتانت ، حسنِ انتظام اور نفاستِ طبع ، مردم شناسی اور اہلیت کی قدردانی ، اصول و قوانین کی پاس داری ، اصابتِ رائے اور فکری استقلال آپ کی امتیازی خصوصیات ہیں ۔
ہر شعبے میں اتباعِ سنت کا اہتمام ، ورع وتقوی اور بطورِ خاص حقوق العباد اور مالی معاملات میں آپ کا تقویٰ قابلِ تقلید ہے۔
علمی و دینی محسنوں سے بے پناہ محبت:
آپ کی خاص عادت یہ تھی کہ آپ اپنے تمام بزرگوں اور علمی و دینی محسنوں سے بے پناہ محبت کرتے ، خصوصا ًحضرت حکیم الامت مولانامحمد اشرف علی تھانوی ، حضرت ڈاکٹر عبد الحیٔ عارفی اور اپنے والدِ ماجد سے آپ کی والہانہ محبت قابلِ رشک ہے۔یہی وجہ ہے کہ آپ اپنے بزرگوں اور اساتذہ کو ایصالِ ثواب کا خصوصی اہتمام فرماتے ، ہر مہینے کم از کم ایک ختمِ قرآن کر کے اپنے والدین کے لیے ایصالِ ثواب کرتے ، اس کے علاوہ رمضان ، تراویح وغیرہ میں جتنی تلاوت ہوتی اس کا اپنے مرشدوں کو ایصالِ ثواب کرنے کااہتمام تھا۔ جب بھی حج و عمرہ کرنے جاتے تو ایک عمرہ والد صاحب اور ایک والدہ صاحبہ کی طرف سے بھی کرتے اور تمام اساتذہ و مشائخ اور محسنین کی طرف سے طواف کیا کرتے تھے۔
اقلیم افہام وتفہیم کے بادشاہ :
مرقعِ نفاست ،نستعلیق بدن، کتابی چہرہ، پروقار چال ڈھال، ستواں ناک پر تمکنت سے ٹکائی ہوئی عینک، علمی رعب ودبدبہ ،شاہانہ مزاج، فقیرانہ رویہ، نازک طبیعت مفتی اعظم پاکستان،حضرت مولانا مفتی محمد رفیع عثمانی تدریس کے شہنشاہ اور اقلیم افہام وتفہیم کے بادشاہ تھے ،چنیدہ الفاظ، تراشیدہ مفاہیم،فہمیدہ لب ولہجہ ،اعلیٰ ذوق ،ارفع معیارگویا اُن کاخاصہ تھا۔ان کی طبیعت میں مؤمنانہ گداز بھی تھا اور حق کی سربلندی کے لیے مجاہدانہ جنون بھی،وہ روحانیت کی راہوں کے فقیر منش مسافر بھی تھے اور علم و تحقیق کی کٹھن منزلوں کے متلاشی بھی۔ان کی گفتگو ہیجان غصے،اشتعال اور غضب سے خالی ہوتی تھی۔نفرت اس پاکباز شخص کے جذب و احساس میں کبھی گھر نہ کر سکی۔آپ کاہر لمحہ ٔحیات ایک مقصد، ایک مشن اور ایک عشق کی بھٹی میں سلگتا رہا۔آپ جیسی متحرک فعال سرگرم اور جنوں شعار زندگی کم لوگوں کو نصیب ہوتی ہے۔
شرکائے جنازہ سے شیخ الاسلام کابیان :
حضرت مفتی اعظم صاحب رحمہ اللہ کے جنازے سے قبل شیخ الاسلام مولانا مفتی محمد تقی عثمانی دامت برکاتہم العالیہ نے اپنا درددل بیان فرمایا،انہوں نے کہا کہ میری اپنے بڑے بھائی مرحوم سے پچہتر سالہ رفاقت رہی،تعلیم سے لے کرعملی زندگی کے ہر مرحلہ پر ہمارا ساتھ رہا،آج وہ اس دنیا سے رخصت ہورہے ہیں جو یقینا ہم سب کے لیے بہت بڑے صدمے کا سبب ہے، مفتی تقی عثمانی نے مزید کہا کہ آج یہاں دارالعلوم میں ان کی نماز جنازہ میں پاکستان کے چاروں صوبوں اور آزاد کشمیر سے ہزاروں کی تعداد میں علمائے کرام تشریف لائے ہیں جو درحقیقت مفتی صاحب مرحومکی خدمات کا اعتراف بھی ہے، میرا ان کے ساتھ تعلق 75 سال پر محیط رہا، زمانہ طالبعلمی سے لے کر درس و تدریس، سفر وحضر میں بھی ہم اکٹھے رہے ،انہوں نے کہا اللہ تعالیٰ نے مفتی اعظم پاکستان کو بے شمارر صلاحیتوں سے نوازا تھا جس کی وجہ سے علما ئے کرام کی ایک بڑی جماعت نے آپ کو متفقہ طور ”مفتی اعظم پاکستان”کا خطاب دیا ،یہ خطاب اور لقب حکومت کی جانب سے نہیں تھا کیونکہ آپ سب جانتے ہیں کہ سرکاری سطح پر ایسے خطاب اور لقب کے حامل کو کن سیاسی عوامل کا سامنا کرنا پڑتا ہے جبکہ علما کرام کی طرف سے ملنے والا خطاب علمی وتحقیقی میدان میں نمایاں خدمات کے تناظر کی وجہ سے اعزاز دیا جاتا ہے۔
مفتی محمد زبیراشرف عثمانی کابیان:
مفتی صاحب رحمہ اللہ کے فرزند ارجمندمفتی محمد زبیراشرف عثمانی نے اپنے بیان میںکہا کہ مفتی صاحب کے چہرے پر اتنی نورانیت اس لیے ہے کہ انہوں نے اپنا ماضی اتنا صاف ستھرا اور باکردار گزارا،ہم تمام تلامذہ اور ان کی اولادوں کے لیے ایک سبق ہے،اتنا سکون ایسے ہی پیدا نہیں ہوتا جب تک اس کے پیچھے ماضی کی محنتیں نہ ہوں۔ جامعہ دارالعلوم بڑی محنت سے مفتی صاحب نے ایک ایک اینٹ اور ایک ایک انچ پر کھڑے ہوکر خود اس کی نگرانی کی ہے۔تمام رفقائے کرام جانتے ہیں کہ مفتی صاحب اتنے منتظم تھے کہ وہ بے تحاشہ انتظامی صلاحیتوں میں ماہر تھے۔قاری رشید صاحب مدینہ طیبہ کے مشہور قاری ہیں، وہ مفتی صاحب کے بہت پرانے دوست تھے فرمایا کہ مجھ کو مولاناعاشق الٰہی بلند شہری نے یوں کہا کہ مولوی رفیع کے لیے دارالعلوم انتظامی صلاحیت کے لحاظ سے بہت چھوٹی جگہ ہے ان کو تو کسی ملک کا سربراہ ہونا چاہیے تھا۔ انتظامی صلاحیتوں کے ساتھ ساتھ جو بنیادی چیز ہے وہ روپے پیسے کے اندر احتیاط. تمام دارالعلوم کے رفقا جو مفتی صاحب کے ساتھ کام کرتے تھے وہ کہتے تھے کہ مفتی صاحب روپیہ اور پیسے کے اندر اس قدر احتیاط سے کام لیتے تھے کہ عام آدمی کو اس کا اندازہ نہیں ہوتا تھا. اگر ان کو یہ محسوس ہوتا کہ پیسوں کے اندر ذرا سی بھی بے احتیاطی سے کام لیا گیا ہے تو وہ اپنے ساتھیوں کو ڈانٹ پلاتے تھے۔مفتی صاحب اپنے طالبعلموں کے معاملے میں بڑے حساس تھے اگر طلبا کے معاملے میں مفتی صاحب کو پتا چل جاتا کہ ان کے ساتھ کچھ اچھا نہیں ہوا زیادتی یا نا انصافی ہوئی ہے تو وہ بہت بے چین ہوتے تھے۔ ان کے اندر ایک اور بڑی خوبی یہ تھی کہ وہ رشتے داروں کے ساتھ اچھا برتا کرتے تھے اگر ان میں سے کوئی مالی حالت کے اعتبار سے تنگ دست ہوتا یا بیماری کے ساتھ ساتھ مالی حالت درست نہیں ہوتے تو مفتی صاحب خود چل کر ان کا جو بھی معاملہ ہوتا تو فورا ًحل کر دیتے تھے اور مالی تعاون بھی کر دیتے تھے۔
نماز جنازہ کااحوال:
مفتی اعظم پاکستان اور معروف عالم دین رفیع عثمانی کی دارالعلوم کراچی میں تدفین کردی گئی،جنازے میں عوام کاسمندر امڈ آیا،آہوں سسکیوں کے ساتھ مفتی رفیع عثمانی کو والد کے پہلو میں سپردخاک کیا گیا،طویل علالت کے بعد مفتی محمدرفیع عثمانی اٹھاسی برس کی عمر میں داعی اجل ہوگئے۔ ان کی نماز جنازہ میں ملک اور بیرون ممالک سے مفتیان کرام، علمائے کرام اور عقیدت مندوں نے لاکھوں کی تعداد میں شرکت کی۔
راقم الحروف کوبھی مفتی اعظم پاکستان محمد رفیع عثمانی رحمہ اللہ کے جنازے میں شرکت کی مبارک سعادت نصیب ہوئی کہ شاید شرکت سے گناہوں کی بخشش ہو جائے۔8بجے جامعہ کے باہر پہنچ گئے اور نظر دوڑائی تو چاروں اطراف جیسے انسانوں کا سمندر دھیمی رفتار سے پراسراریت لیے چل رہا ہو ہر طرف سفید لباس میں ملبوس، سفید عمامے سروں پے سجائے،ٹوپیاں پہنے اور عام المسلمین نورانی چہرے لیے کہ گویا جیسے سماوی نوریوں نے شاہراہِ دار العلوم کو اپنے حصار میں لے رکھا ہو۔ اہلِ مجمع چہروں پے افسردگی لیے آنکھوں میں اشک لیے دل و زبان سے کسی عظیم سانحے پر حزن و ملال کے گہرے سمندر میں ڈوبے ہوئے سکوتِ غیرمحدود کی چادر اوڑھے بنا کسی دھکم پیل کے نہایت شائستگی و سلیقے سے احاطہِ دار العلوم میں پہنچنے کے لیے رواں دواں تھے۔اور اپنی کثرت سے یہ پیغام دے رہے تھے کہ دنیا میں اہلِ عزت وہی لوگ ہیں جو دین پر چل کر زندگی گزاریں اور ہم ان کی نیک سیرت کی وجہ سے جنازے میں شمولیت کو اپنے لیے باعثِ سعادت و افتخار سمجھیں۔
عوامی گزرگاہ آنکھوں کے سامنے صرف ایک منٹ کی دوری پر تھی لیکن پھر بھی ازدحامِ عوام کی وجہ سے ایک گھنٹہ اندر پہنچنے میں لگ گیا۔سیکورٹی کا نظم و ضبط اس قدر منظم و مضبوط تھا کہ لاکھوں کا مجمع بغیر چیکنگ کے دار العلوم کے اندر داخل نہ ہو سکا۔اس حسنِ انتظام نے ثابت کر دیا کہ مدارس و مساجد کے علما طلبا سے زیادہ باوقار ،باسلیقہ، منظم کوء اور نہیں ہو سکتا۔ابھی باہر ہی کھڑے تھے کہ مسجد کے بلند و بالا مینار پر لگے لاؤڈ سپیکر سے شیخ الاسلام صاحب کی پرسوز اور درد بھری آواز سنائی دینے لگی۔اللہ اللہ کر کے اندر داخل ہوئے تو کوشش تھی کہ سیدھا مسجد کے اندر جایا جائے یہ کوشش بھی کامیاب ہوئی مسجد کے صحن میں پہنچے تو وقت پورا ہو چکا تھا اور صفیں سیدھی کرنے کا اعلان ہوا لوگ آگے بڑھنے کی کوشش میں دھکم پیل کرنے لگے۔ یوں تو ہمیشہ شیخ الاسلام صاحب کا نرم لہجہ ہی سننے کو ملا لیکن آخری وقت میں دھکم پیل کی وجہ سے پہلی بار شیخ الاسلام صاحب کی رعب دار گرجدار آواز سنی:”نظم خراب مت کرو، آگے بڑھنے کی کوشش مت کرو۔”یقین کریں یہ آواز اتنی بارعب تھی کہ جیسے پورے مجمع کو سانپ سونگھ گیا ہو ہر طرف سناٹا چھا گیا اور بچہ بوڑھا جوان سب ہی تیر کی طرح سیدھے کھڑے ہو گئے نیت باندھنے کا کہا گیا پھر چند لمحوں بعد مفتی محمد تقی عثمانی صاحب کی ”اللہ اکبر”کی صدانے چاروں طرف سکتہ طاری کر دیا اور حاضرینِ جنازہ دست بستہ کھڑے ہو گئے۔
پہلی تکبیر پڑھی تو دوسری تکبیر ہچکیوں،آہوں،اور لرزہ خیز سسکیوں سے مکمل ہوء اور سلام پھیرنے تک بردارِ صغیر اپنے بڑے بھائی کے غم میں آہیں بھرتے رہے اور ہم سب پر دل چیر دینے والے سانحے کا اثر اپنی آہوں سے ڈالتے رہے۔حضرت شیخ الاسلام کی سسکیوں نے حاضرین کو رولائے بغیر نہ چھوڑا۔اور یوں ہزاروں لاکھوں علما، طلبا،صلحا،خدما، اور محبانِ علما و دین ،عقیدت مندوں کے الوداعی اشکوں، نمناکیوں کے ساتھ مفتی اعظم پاکستان مولانا مفتی محمد رفیع عثمانی رحمہ اللہ کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے سپردِ خاک کر دیا گیا اور علمی نجوم کے جھرمٹ سے اک ستارہ ہمیشہ کے لیے غروب ہو گیا۔
حضرت مفتی صاحب ہم سے رخصت ہو گئے ہیں لیکن ان کی یادیں ان کی کمی کا احساس دلاتی رہیں گی۔ البتہ دل کو یہ تسلی ہے کہ ان کے بھائی اور ہم سب کے مخدوم حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی دامت برکاتہم ہمارے درمیان موجود ہیں جو نہ صرف اپنے ملک کے علما ئے کرام اور دینی کارکنوں کے لیے رہبر و راہنما ہیں، بلکہ دنیائے اسلام میں پاکستان کی علمی پہچان اور اہلِ حق کی آبرو کی حیثیت رکھتے ہیں اور حضرت مفتی محمد رفیع صاحب کے فرزند مولانا محمد زبیر اشرف عثمانی اپنے والد گرامی کی تعلیمی اور اصلاحی جدوجہد کا تسلسل قائم رکھے ہوئے ہیں۔
یتیم تو ان کی رحلت سے تمام امتِ مسلمہ بالخصوص اہالیانِ وطن ہوئے ہی ہیں، مگر اہلِ سنت مکتبِ فکر کے لیے یہ بہت بڑا دھچکا ہے،ان کے لیے بھی جومفتی اعظم پاکستان مفتی محمد رفیع عثمانی کی آرا ٔسے بعض اوقات مؤدبانہ، فرزندانہ اختلاف بھی کیا کرتے تھے کہ علمی اختلاف کی طرح بھی انہی اکابر نے ڈالی ہے اوران کے لیے بھی جن کو اختلاف شجرِ ممنوعہ اور عقیدت کے خلاف لگتا تھا۔
اللہ تعالی حضرت مفتی صاحب کے درجات بلند سے بلند تر فرمائیں اور حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی کی قیادت میں جامعہ دارالعلوم کراچی کو اپنے علمی، فکری اور دینی سفر میں مسلسل پیش رفت سے نوازیں، آمین یا رب العالمین!

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں