پاکستان ایک اسلامی ملک ہے۔ دنیا بھر کے مذاہب میں اسلام وہ واحد مذہب ہے جس عورت کو سب سے زیادہ حقوق دیئے ہیں۔ اس کے باوجود وطن عزیز کی کلچرل ہسٹری کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ پاکستان میں خواتین سے یہ امید کی جاتی ہے کہ وہ خاندان میں شائستگی کو برقرار رکھیں گی جبکہ مردوں سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ اپنے گھر والوں میں عزت برقرار رکھنے کے لیے مردانگی کا مظاہرہ کریں۔ جرنل آف پولیٹیکل اسٹڈیز میں ڈاکٹر رخسانہ افتخار اور ڈاکٹر مقبول احمد اعوان کے مطابق، “پاکستان ایک زرعی ریاست ہے جہاں ذاتی ملکیت کا تصور بہت عام ہے”، دونوں مصنفین اس بات پر متفق ہیں کہ”پاکستان میں خواتین کو بھی ذاتی ملکیت سمجھا جاتا ہے”۔ 2008ء اور 2009ء کی ہیومن رائٹس واچ کی رپورٹ کے مطابق، 70 سے 90 فیصد پاکستانی خواتین کسی نہ کسی طرح کے گھریلو تشدد کا شکار ہیں۔
خواتین اور لڑکیوں پر تشدد، جنسی زیادتی، قتل، تیزاب کے حملے، گھریلو تشدد، تعلیم سے محرومی، جائے روزگار پر ہراسانی، اور کم عمری کی شادی اور جبری شادی پورے پاکستان میں ایک سنگین مسئلہ ہے۔ انسانی حقوق کے دفاع کاروں کا اندازہ ہے کہ ہر سال تقریباً 1,000 خواتین کو نام نہاد "غیرت کے نام پر قتل" کیا جاتا ہے اور تقریباً 5000 خواتین گھر یلو تشدد سے ماری جاتی ہیں۔
سال 2024ء بھی اس لحاظ سے کچھ مختلف نہیں رہا۔ ملک بھر میں خواتین کے ساتھ امتیازی سلوک، جنسی و جسمانی تشدد کا نشانہ بنائے جانے سمیت خواتین کے قتل، اغوا کے معاملات اس برس بھی عروج پر رہے۔ سسٹین ایبل سوشل ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن کی رپورٹ کے مطابق آبرو ریزی کے کیسز میں پنجاب سر فہرست رہا۔ ملک بھر میں 7,010 کیسز میں سے 6,624 کیسز پنجاب میں رونما ہوئے؛ جبکہ سندھ میں خواتین کے اغوا کے سب سے زیادہ کیسز ریکارڈ ہوئے، جن کی تعداد 1,666 رہی۔ غیرت کے نام پر قتل کی جانے والی خواتین کےرپورٹ کیے گئے کیسز میں سندھ پہلے نمبر پر رہا، جس کے 258 واقعات رپورٹ ہوئے جو کہ پاکستان میں غیرت کے نام پر درج ہونے ہونے والے قتل کے کیسوں کا تقریباً 50 فیصد ہیں۔
ایگزیکٹو ڈائریکٹر سید کوثر عباس کے مطابق عصمت دری، اغوا اور غیرت کے نام پر قتل ہونے والی خواتین کے اعداد و شمار پریشان کن ہیں۔ آبرو ریزی کے کیسز میں پنجاب سر فہرست رہا، ملک بھر میں 7,010 کیسز میں سے 6,624 کیسز پنجاب میں رونما ہوئے،جس کا شرح تناسب 94.5 فیصد رہا۔ دوسری جانب سندھ میں 188، خیبر پختونخوا میں 187، اور بلوچستان میں عصمت دری کے11 واقعات رپورٹ ہوئے۔
ایک رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ہر روز 140 خواتین اور لڑکیاں اپنے ساتھی یا قریبی رشتہ دار کے ہاتھوں قتل ہو جاتی ہیں، جس کا مطلب ہے کہ ہر 10 منٹ میں ایک عورت یا لڑکی کو قتل کیا جارہا ہے۔ ڈان اخبار نے رپورٹ کیا کہ دنیا بھر میں ایک سال کے دوران تقریباً 85 ہزار خواتین اور لڑکیوں کو جان بوجھ کر قتل کیا گیا، ان میں سے 60 فیصد قتل یعنی 51 ہزار قتل کسی قریبی ساتھی یا خاندان کے کسی فرد کی جانب سے کیے گئے۔ 2024ء بھی اس حوالے سے کافی ہولناک رہا۔
مغل پورہ لاہور میں قتل ہونے والی انیقہ کی پوسٹ مارٹم رپورٹ ہو یا چکوال میں مرنے والی پروین دونوں کا جسم تشدد سے بری طرح ٹوٹ پھوٹ چکا تھا۔ بھائی کے ہاتھوں تکیہ منہ پہ رکھ کر مرنے والی ارم کی زبان پھول کر منہ سے باہر نکل آئی تھی ۔
ڈاکٹر سدرہ کا بھیجا کھوپڑی میں گولی لگنے کی وجہ سےسوراخ سےباہر بہہ نکلا تھا۔ ڈسکہ میں سسرال کے ہاتھوں مرنے والی زارا کا سر کہیں تھا ، ہاتھ اور پاؤں کہیں ۔ ہر ٹکڑا چھرے سے کاٹ کر علیحدہ کیا گیا تھا جب اس سے بھی دل نہ بھرا تو گجرات میں
ڈنڈے کی شدید ضربات سے حاملہ بیوی کی
سب ہڈیاں چکنا چور تھیں ۔ وجہ بیوی کے پیٹ میں موجود بچی تھی۔ یہ کچھ عورتیں ہیں جن کا قتل منظر عام پہ آیا ۔ نہ جانے ان جیسی کتنی گمنام رہتے ہوئے لحد میں اتر گئیں اور کوئی جان ہی نہ سکا کہ ان کے جسم کہاں کہاں سے لہولہان ہوئے۔
اس سب کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ پاکستان کے قانون نے خواتین کو بالکل ہی بے یار و مددگار چھوڑ دیا ہے۔پاکستانی آئین کے 1973ء کے آرٹیکل 25 میں کہا گیا ہے: “قانون کے سامنے تمام شہری برابر ہیں اور وہ قانون کے مساوی تحفظ کے حقدار ہیں۔ جنسی فرق کی بنیاد پر کوئی امتیازی سلوک نہیں ہوگا۔ 1973ء کے آئین کے آرٹیکل 23 میں کہا گیا ہے: “جائداد کی فراہمی۔ ہر شہری کو یہ حق حاصل ہوگا کہ وہ پاکستان کے کسی بھی حصے میں جائداد کے حصول، ان کے قبضہ اور تصرف کرنے کا حق ہے، جو آئین کے تحت اور عوامی مفاد میں قانون کے ذریعہ عائد کردہ کسی بھی معقول پابندی کے تحت ہے۔ آرٹیکل 310 اے میں کہا گیا ہے کہ: “شادی میں یا دوسری صورت میں بدلۂ صلح، ونی یا سوارا میں عورت کو دینے کی سزا۔ – جو شخص کسی بھی عورت کو شادی کے لیے فراہم کرتا ہے یا کسی اور طرح سے اسے شادی پر مجبور کرتا ہے، جیسا کہ کسی بھی نام کے تحت بدلۂ صلع، وانی یا سوارا یا کسی اور رسم یا رواج کے تحت، کسی تنازع یا مجرمانہ ذمہ داری کو حل کرنے کے معاملے میں، کسی بھی وضاحت کی قید کے ساتھ ایک مدت کے لیے سزا ہو سکتی ہے جس کی مدت سات سال تک ہو سکتی ہے لیکن وہ تین سال سے کم نہیں ہو سکتی ہے اور اس کے علاوہ پانچ لاکھ روپے جرمانہ بھی ہوگا۔
اپنی تمام تر ہولناکیوں کے باوجود 2024ء کی جھولی میں خواتین کے لئے کچھ اچھا بھی تھا۔ جہاں ہمیں سماجی رکاوٹوں کے خلاف گول کرتی پاکستانی وویمن ہاکی ٹیم کی کھلاڑی ارم بلوچ نظر آتی ہے وہیں دوسری طرف بی بی سی کی ’انسپائرنگ خواتین‘ کی فہرست میں پاکستان سے ’ گلوکارہ اور ایکٹیوسٹ حدیقہ کیانی کا نام شامل ہونا ایک مثبت زاویہ ہے۔
پولیٹلکل ایکٹیوازم کے حوالے سے 2024ء پر نظر ڈالیں تو یہ سال پاکستان کی خواتین کے لیے دبنگ سال رہا، محترمہ مریم نواز کا پنجاب کا وزیر اعلی منتخب ہونا اس کی ایک واضح دلیل ہے۔ یہ سب مثبت اور روشن مستقبل کی طرف ایک ٹھوس قدم کی حیثیت رکھتا ہے۔
عورت کی شعوری اور معاشی ترقی صحت مند معاشرے کی علامت ہوتی ہے اور یہ علامت ابھی کچھ گوشوں میں ہمارے ملک میں جنم لیتی، سانس لیتی نپے تلے قدموں سے پنپتی ملتی بھی ہے اور کچلی بھی جاتی ہے۔ اس کے باوجود 2024ء کچھ میٹھی کچھ کڑوی یادیں چھوڑ کر الوداعی دہلیز پر کھڑا ہے۔ ہمیں امید ہے 2025ء نئی امنگوں سے بھرپور ہو گا؛ اور 2025ء کے اختتام پر ہم ایک مثبت نقطہء نظر کے حامل ہوں گے۔ ان شاءاللہ!!!