0

طنزو مزاح/تحریر/حمیرا حیدر بحرین

طنزو مزاح

ہر گزرتا دن ہمیں پاں پاں کے قریب کر رہا ہے !
حمیرا حیدر بحرین

ماہ اگست یا ماہ آزادی کی آمد کے ساتھ ہی ہر فرد اپنے آپ کو “آزاد” محسوس کر رہا ہے۔ اگرچہ “حقیقی آزادی” بار بار کنٹینروں کی دیوار سے ٹکرا ٹکرا کر پاش پاش ہوتی جا رہی ہے۔ یہ اور بات کہ ایک آزاد شہری کو جس طرح کی آزادی حاصل ہوتی ہے اس کا تو دور دور تک نام و نشان نہیں مگر ایک آزادی اس وقت وطن عزیز کے ہر بچے اور نوجوان کو حاصل ہے وہ ہے باجا بجانے کی آزادی !اگست پہلے صرف برسات کا مہینہ ہوا کرتا تھا اب تو یہ باجے کا بھی مہینہ ہو چکا ہے۔ باجے کے نام کا جہاں تک تعلق ہے تو وہ ہر صوبے کے ساتھ مختلف ہے کہیں باجا تو کہیں واجا ہے مگر ایک چیز یکساں ہے وہ ہے اس کی پاں پاں ! مگر اس کے باوجود بازار میں ہر رنگ ، نسل ، جسامت اور قد کاٹھ کے باجے آ چکے ہیں ۔جہاں تک باجے کی قیمت کا تعلق ہے تو آج کل اس کے ریٹ کافی زیادہ ہیں۔ ایک باجا کی قیمت ڈھائی سو سے شروع ہو کر وہاں تک پہنچ جاتی ہے جہاں تک اس کی آواز پہنچتی ہے۔
باجے کی پاں پاں کو آپ ہرگز ہلکا نہ سمجھیں۔ جو جس قدر حب الوطنی کے جذبے سے سر شار ہے وہ اتنی ہی شدت سے باجا بجا رہا ہے۔
چاہے لوگوں کے آرام و سکون میں خلل ہی کیوں نہ پڑے باجے تو بجیں گے ! ویسے بھی ہمارے سابق وزیراعظم صاحب نے کہا تھا کہ سکون تو قبر میں ہی ہے۔ قبر سے یاد آیا کہ حب الوطنی کی پاں پاں سے سرشار محبان باجا مزار قائد بھی جا پہنچے تھے تاکہ ان کو بھرپور انداز میں خراج عقیدت پیش کیا جائے۔ اس عوام نے انہیں آخری آرام گاہ میں بھی آرام سے سونے نہ دیا۔ وائے تقدیر! بابائے قوم کے مزار کو پہلے ہی سے کافی مذموم مقاصد کے لیے استعمال کیا جاتا رہا ہے اب باجے والے بھی کسی سے پیچھے نہیں رہے۔

اگست آتے ہی بچوں نے باجے خریدے کر انسانوں کے آرام سکون کا باجا تو بجا دیا ہے۔ سارا دن گلی کے کسی نہ کسی کونے سے پاں ں ں ں کی آواز گونجتی ہیں رہتی ہے۔ ظاہر ہے ڈیڑھ دو سو کا باجا جب کوئی خریدے گا تو بجانے کے لئے ہی تو خریدے گا ۔ انسان تو انسان گلی محلے کے کتے بلیوں بھی اس پاں سے محفوظ نہیں ۔ کہیں کوئی آرام کرتا کتا، بلی یا کوئی گدھا( اگر وہ لاہور یا اسلام آباد یاترا سے بچ گیا ہو) باجے والے بچوں نے دیکھا وہ باجماعت اس کے سر پر جا پہنچے اور باجے بجا بجا کر بے زبان جانور کو تنگ کر دیتے ہیں۔
ایسی ہی کئی پارٹیاں جب باجے بجاتی کہیں سے گزرتی ہیں تو بیوی یا دنیا کے ستائے کچھ حضرات ڈنڈا اور پتھر لیے ان کا سواگت کرتے نظر آتے ہیں۔ یہی باجا پارٹی جب سارا دن انسانوں اور جانوروں کو باجے سنا سنا کر چلنے پھرنے سے معذور ہو جاتی ہے تو شاعر کی منظر کشی
ع بہت تھک ہار کر فٹ پاتھ پر مزدور سوئے ہیں
کی مصداق یہ گھروں و دکانوں کے تھروں پر لیٹے ہوئے بھی باجے بجاتے نظر آتے ہیں گویا کہ جذبہ حب الوطنی پر جو کمپرومائز !
گزشتہ کچھ سالوں سے باجے ترقی کی منازل طے کرتے جارہے ہیں۔ صرف آزادی کے باجے ہی نہیں اب تو دوسری اقسام کے باجے بھی مارکیٹ میں رائج ہو چکے ہیں۔ خبر ہے کہ نارووال میں اساتذہ اپنے مطالبات کے لئے کافی دن سے بازوں پر پٹی باندھے احتجاج کر رہے تھے کسی کے کان پر جوں بھی نہیں رینگی۔ پھر کسی سیانے کے کہنے پر وہ باجے لے کر نکلے ۔ اب ان کی شنوائی کی کوشش تیز کر دی گئی۔ یہی باجے کوٹلی میں لوگوں نے بجلی کے بلوں کے خلاف احتجاج میں بجائے۔ یہی نہیں ربیع الاول پر بھی مقدس باجے رواج پکڑ رہے۔ پھر یہ باجے مزید منازل طے کرتے پارلمنٹ کے اجلاس میں بھی پہنچ چکے۔ یہیں پر بس نہیں یہی باجے برطانیہ بھی پہنچے ہیں ۔ جہاں یوم آزادی کے موقعے پر پولیس کے پیچھے پیچھے باجے بجاتے بچے دیکھے گئے۔
مختلف صوبوں اور شہروں میں باجے کی پاں پر پابندی لگانے کی کوشش بھی کی گئی ۔ باجے کی فیکٹریوں پر بھی پابندی لگانے کا حکم نامہ بھی سامنے آیا مگر آزادی کے جذبے کو دبانا مشکل ہوتا جا رہا وہ بھی اس صورت میں جب کہ انٹرنیٹ چلانے کے لئے VPN ، گیس کے لئے سیلنڈر اور بجلی کے حصول کے لئے سولر لگانے پڑیں تو پھر حکومت باجے کی پاں کو روکنے کا حق نہیں رکھتی۔
باجے کی پاں صرف بچوں تک محدود نہیں نوجوان بھی پاں پاں کرتے نظر آتے ہیں ۔ کچھ تو اضافی طور پر بائیک کے سائلنسر اتار کر آزادی کا مزہ لیتے نظر آتے ہیں۔

پاکستان کے علاؤہ کئی دوسرے ممالک کے یوم آزادی دیکھنے کا اتفاق ہوا۔ امریکہ جیسے ترقی یافتہ ملک میں بھی آزادی صرف آتش بازی اور کچھ جگہوں پر پروگرام تک ہی محدود دیکھی۔ سب لوگ آتش بازی والے مقام پر آ کر اپنی گاڑی پارک کی اور گاڑی سے کرسیاں نکالیں اور انتظار کرنے لگے۔ مقررہ وقت پر آتش بازی شروع ہوئی۔ آس پاس بچوں کو فری پاپ کورن ، فرائز اور برگر دئیے اور کچھ لائٹس فری سب میں تقسیم کیں۔ آتش بازی ختم ہوئی تو لوگ ترتیب وار گاڑی نکالتے واپس گھر روانہ ۔ یہ بھلا کوئی آزادی منائی نہ باجے نہ ہارن ایسی سونی اور پھیکی سی یوم آزادی !

اس سال 14 اگست پر باجے بجانے سے گریز کریں کیونکہ پہلے ہی ہمارے ملک کے باجے بج گئے ہیں ۔ اس وقت وطن عزیز کو درختوں کی چھاؤں کی ضرورت ہے ۔ پودے باجے سے سستے بھی آتے ۔ سوچئیے گا ضرور!

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں