0

ناول: قفسِ دل / تبصرہ نگار / سنبل شہزادی(سیالکوٹ)

مرد بھی حساس ہوتا ہے اور جذبات رکھتا ہے لیکن اگر اس کی حساسیت کو ظاہر کے دروازے مل جاتے تو پھر مرد بہادری کی علامت نہ سمجھا جاتا۔ وہ جنگوں کی شان اور راستوں کا مجاہد نہ ہوتا۔

قفسِ دل ایک ایسی کہانی ہے جو محبت کے حصول کی نہیں بلکہ حصار کی ترجمانی کرتی ہے۔قفسِ دل کا مرکزی کردار دلاور شاہ اور نور العین ہیں۔دلاور جو تعلق تو غریب گھرانے سے رکھتا تھا مگر اس کا دل ہمیشہ محبت کے طواف کا طالب ہی رہا۔نور العین جس کے پاس دنیا کی ہر دولت تھی لیکن جب مقدر میں محبت کی چابی نہ ہو تو کھلے تالے بھی جکڑی ہوئی زنجیر کی طرح محسوس ہوتے ہیں۔یہ کہانی ہمارے معاشرتی رویے، کم علمی اور ذہنی پستی کا خلاصہ بیان کرتی ہے۔جہاں والدین اپنی جھوٹی اناؤں اور عزتوں کی وجہ سے اپنے بچوں کی جائز خوشیوں کو بھی ناجائز بنا دیتے ہیں۔جہاں قیمتی وفائیں قیمت کی بدولت ہی بیچ دی جاتی ہیں۔ مجھے لگتا ہے کہ اس کہانی کا مرکزی کردار دلاور شاہ اور نور العین نہیں بلکہ اعوان صاحب جیسے لوگ ہیں۔یہ لوگ اپنی زبان سے کئی زندگیوں پر حاکم تو بن جاتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ ہم نے بہت جینا ہے۔ مگر افسوس اس بات کا ہے کہ انہیں اس بات کا اندازہ ہی نہیں ہوتا کہ یہ جتنی زندگیوں میں جیتے ہیں،انہیں مرنا بھی اتنی دفعہ ہی پڑتا ہے۔جب کہ کچھ لوگ چاچا سلطان اور ہانیہ جیسے ہوتے ہیں جن کی زندگی میں امید کی کرن روشن کرنے کے لیے قدرت کچھ لوگوں کو دلاور شاہ بناتی ہے۔اس کہانی کا خوبصورت کردار وہ بابا جی ہیں۔جنہوں نے دلاور کو مجاز سے حقیقت کے سفر کی راہ دکھائی۔
ہماری زندگیوں میں چاہے کتنے ہی رشتے ایسے کیوں نہ ہوں جو ہمیں بہت چاہتے ہوں یا سمجھنے کا دعوی کرتے ہوں۔لیکن حقیقت یہ ہے کہ وہ ہمیں سمجھ نہیں پاتے یا پھر ہم انھیں سمجھانا نہیں چاہتے۔بالکل اسی طرح دلاور شاہ کے والدین بھی نفیس طبیعت کے مالک تھے اور اپنے بچے کی خوشی میں خوش ہونے والے تھے۔لیکن اس کے باوجود بھی کچھ جنگیں ایسی ہوتی ہیں جنھیں انسان کو خود لڑنا پڑتا ہے۔کیوں کہ ہم اپنی وجہ سے اپنے پیاروں کو جلتا نہیں دیکھ سکتے۔
اس کتاب کی ایک خوبصورتی یہ بھی ہے کہ مصنف نے اس میں صرف خود قلم آزمائی نہیں کی،بلکہ اس میں مختلف مصنفین کی آراء کا بھی تذکرہ کیا ہے کہ وہ کس طرح محبت کے جذبہ کو بیان کرتے ہیں۔جس میں بانو آپا،ہاشم ندیم،واصف علی واصف،فیض احمد،اشفاق احمد،عمیرہ احمد،غالب اور اقبال شامل ہیں۔
محبت کے حوالے سے اشفاق احمد کہتے ہیں کہ ”جو جس کی محبت میں پڑا اس نے وہی حاصل کیا لیکن یاد رکھو سب سے بہترین محبت تو خدا کی ہے۔“
پھر واصف علی واصف کہتے ہیں کہ ”محبت تصوف کی پہلی منزل ہے،تصوف کا پہلا مقام یہ ہے کہ تمہارا اخلاق سب سے یکسر اور بہترین ہو۔“
پھر فیض اور غالب نے محبت پہ ابھی رنگ بکھیرا ہی تھا کہ اقبال نے یہ کہہ کر محبت کو صبغۃ اللہ کے کوزے میں بند کر دیا کہ:
خرد مندوں سے کیا پوچھوں کہ میری ابتدا کیا ہے
کہ میں اس فکر میں رہتا ہوں میری انتہا کیا ہے۔
اس کہانی کی سب سے اہم سطر جس نے مجھے یہ پڑھنے پر مجبور کیا کہ ”محبت کی سب سے بڑی سزا یہ نہیں کہ وہ ناکام ہو جائے،بلکہ یہ کہ وہ اپنے ہی قفس میں قید ہو کر رہ جائے“۔۔۔۔
یہ کہانی ایک عورت کی محبت کو بیان کرتی ہے جو باپ کی پگڑی کا بوجھ اٹھا کر خود ایسی دلدل میں پھنس جاتی ہے جہاں سے واپسی ممکن نہیں۔مگر پھر بھی قدرت اسے یہ موقع ضرور دیتی ہے کہ وہ اپنا درد ظاہر کر جاتی ہے۔
یہ کہانی ایک مرد کی بے حسی کو بیان کرتی ہے جو سب کے خوابوں کا بوجھ اٹھاتا ہے لیکن اپنے خواب اسے دفنانا پڑتے ہیں۔اس کہانی میں ایک مرد کو دکھایا گیا ہے جو محبت میں ناکامی کو تو برداشت کر سکتا ہے لیکن کسی بنت حوا کی عزت اور پاکیزگی پر داغ نہیں لگنے دے سکتا۔چاہے اس کے لیے لوگ اس کا مذاق اڑائیں کہ دنیا کو کیا بتاؤ گے کہ “میں نے محبت میں عقل سے کام لیا تھا اور میری درویشی تمہیں بھگانے کی اجازت نہیں دیتی۔”
اس کہانی میں دلچسپ سفر وہ حقیقت ہے جس تک پہنچنے کے لیے انسان کو اس آگ میں جلنا پڑتا ہے۔بے شک دنیا یہی کہتی ہے کہ محبت میں عقل کو خاطر میں نہیں لانا چاہیے،لیکن یہ کہانی بتاتی ہے کہ جس محبت میں عقل کو استعمال نہ کیا جائے وہ محبت آخر میں سوائے رسوائی اور بدنامی کے کچھ نہیں رہتی۔یہ بات درست ہے کہ محبت کسی سے بھی ہو سکتی ہے اس میں رنگ،ذات یا عہدہ نہیں دیکھا جاتا مگر محبت اتنا بھی سستا جذبہ نہیں کہ اس میں انسان پاگل پن کو محبت کی انتہا سمجھ بیٹھے۔کیوں کہ محبت ایسا جذبہ ہے جو آپ کو ”یقین کے اس درجہ پہ لے جاتی ہے جہاں سے پھر توکل کے دروازے کھلنے لگتے ہیں۔“
اس کہانی میں مصنف نے ایک سوال اٹھایا کہ مرد معاشرے کا ایسا کردار کیوں ہے جس سے بے شمار توقعات وابستہ ہوتی ہیں یا پھر اسے کھل کر ہنسنے اور رونے کی اجازت کیوں نہیں؟کیوں ایک مرد کو ہمدردی کے رویے میسر نہیں ہوتے؟
تو مجھے ایسا لگتا ہے کہ مرد وہ ذات ہے جس کو سب سے پہلے اس دنیا میں اتارا گیا اور اس کے کندھوں پہ دنیا رکھی گئی اور جن کے کندھوں کا بوجھ زیادہ ہو، وہ دل کی بیماری کا بوجھ اٹھا تو سکتے مگر بیان نہیں کر سکتے۔یہی وجہ ہے کہ مرد کے دل کا درد سمیٹنے کے لیے اللہ نے عورت کو تخلیق کیا۔کیوں کہ اگر مرد اپنے دل کے درد کو برداشت کرنے کی صلاحیت نہ رکھتا تو دنیا اپنے مرکز سے ہٹ جاتی۔مرد کے مضبوط ہونے سے عورت کی حساسیت اور تحفظ قائم ہے۔مرد اس کشتی کی مانند ہے جو خود ساحل کی بے رحم موجوں کا سامنا کرتی ہے اور اپنے اندر سوار لوگوں کو محفوظ رکھتی ہے۔اس لیے مرد کو شاید سخت جان بنایا جاتا ہے کیوں کہ اگر کشتی میں تھوڑا سا بھی سوراخ ہو گیا تو لوگ ڈوب جائیں گے۔اگر مرد ذرا سا بھی کمزور پڑ گیا تو اندر کی دنیا بکھر جائے گی۔
اسی حوالے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی فرمایا تھا کہ ”آنکھ سے آنسو جاری ہیں اور دل غم سے نڈھال ہے مگر ہم زبان سے وہی کہیں گے جو ہمارا رب پسند کرتا ہے(الجامع الصحیح:1303)۔
مرد بھی حساس ہوتا ہے اور جذبات رکھتا ہے لیکن اگر اس کی حساسیت کو ظاہر کے دروازے مل جاتے تو پھر مرد بہادری کی علامت نہ سمجھا جاتا۔ وہ جنگوں کی شان اور راستوں کا مجاہد نہ ہوتا۔پھر وہ غار حرا میں “صدیق” نہ بنتا،پھر وہ مصر کے محلات میں “یوسف” نہ بنتا۔اگر مرد اپنی تکلیف کو ضبط کا درجہ نہ دیتا تو پھر لوگ مچھلی کے پیٹ میں موجود یونس علیہ السلام کی دعا کو یاد نہ رکھتے بلکہ ان کی غلطی کو یاد رکھتے۔پھر لوگ آدم علیہ السلام کی توبہ نہیں، بلکہ آدم کی غلطی یار رکھتے۔اگر عورت کو بولنے کا حق ملا ہے تو ہر گناہ کا الزام بھی اسی پہ ہی ڈالا جاتا ہے۔
میرے نزدیک اس کہانی کے بہترین ہونے کے پیچھے وہ محبت ہے جسے ”لا حاصل“ رکھا گیا۔کیوں کہ ہمارا معاشرہ ”لا حاصل“ کے لفظ کو قبول نہیں کرنا چاہتا ہے۔آج حاصل کی چاہ نے ہمیں سوچنے کی صلاحیت سے محروم کر دیا ہے۔
لیکن جن پر ”لا حاصل“ کی حقیقت ظاہر ہو جائے وہ یہ راز سمجھ جاتے ہیں کہ ”اس کے بعد ہی اصل محبت کے حقائق کھلتے ہیں۔اس کے بعد ہی تخلیق کی ایسی شمع جلتی ہے کہ پھر انسان جلنے کا مزہ جانتا ہے۔اس کے بعد ہی عکس سے نکل کر شخص کے ایسے جزیرے دریافت ہوتے ہیں“۔
جن کے بارے میں اقبال نے کہا تھا کہ:
اپنے من میں ڈوب کر پا جا سراغِ زندگی
تو اگر میرا نہیں بنتا نہ بن اپنا تو بن

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں