تبصرہ کتب/قرۃ العین حیدر کا افسانوی مجموعہ 0

تبصرہ کتب/قرۃ العین حیدر کا افسانوی مجموعہ/ستاروں سے آگے/تبصرہ نگار/اقصیٰ گیلانی

تبصرہ کتب/قرۃ العین حیدر کا افسانوی مجموعہ/ستاروں سے آگے/تبصرہ نگار/اقصیٰ گیلانی

صرف ان کی پہلی تخلیقی کاوش ہی نہیں بلکہ اردو فکشن کی ایک نئی جہت کا پیش خیمہ ہے۔
1947 میں جب برصغیر سیاسی طور پر تقسیم ہو رہا تھا قرۃ العین حیدر نے ایک ایسا مجموعہ پیش کیا جو اپنے وقت کی ترقی پسند تحریک سے بالکل ہٹ کر تھا۔
یہ کتاب ان کے عظیم ادبی سفر کا پہلا قدم ہے جس نے آگے چل کر اردو ادب کے قارئین کو ”آگ کا دریا“ اور ”آخر شب کے ہمسفر“ جیسے لازوال شاہکار دیے۔
​یہ افسانے قرۃ العین حیدر صاحبہ کی ابتدائی تخلیقات ہیں اسی لیے ان میں کہیں کہیں فنّی خامیاں بھی نظر آتی ہیں، جیسے کہانی کا کہیں کہیں ٹوٹنا اور پلاٹ کی گرفت کا ڈھیلا ہونا۔ مگر یہ خامیاں بھی ایک انفرادی اسلوب کی نشاندہی کرتی ہیں۔ قرۃ العین حیدر نے ان کہانیوں میں شعور کی رو (Stream of Consciousness) اور اندرونی کیفیات کو کمال مہارت سے بیان کیا ہے۔
بیشتر افسانوں کے کردار متوسط طبقے کے خواب دیکھنے والے وہ نوجوان مرد و زن ہیں جو رومانی دنیا میں جیتے ہیں سوشلزم اور سیاست میں دلچسپی رکھتے ہیں لیکن جب زندگی کی طوفانی لہروں سے ٹکراتے ہیں تو بکھر کر ریزہ ریزہ ہو جاتے ہیں۔ لیکن یہی رومانیت اور تحیر انگیز فضا ان افسانوں کو اس قدر منفرد بناتی ہے کہ یہ پڑھنے والے کے دل پر گہرا اثر چھوڑتے ہیں۔
​اس مجموعے میں شامل 14 افسانوں میں سے تین افسانے خاص طور پر مجھے بہت اچھے لگے ہیں:
​1-دیودار کے درخت:
یہ افسانہ فطرت کی خوبصورتی اور مردانہ بے وفائی کو سامنے لاتا ہے۔ ایک فوجی کی بے مقصد تحقیق اور اس کا لڑکیوں کے ساتھ فلرٹ، کہانی کو دل کو چھو لینے والا موڑ دیتے ہیں۔ فوج کے عظیم الشان ریسرچ سینٹر میں جہاں عام آدمی کا داخلہ ممنوع ہے مچھروں پر تحقیق کرنے والا فوجی شادی کے ڈر سے بیمار محبوبہ کو چھوڑ کر بہت بے حسی سے ٹرانسفر کروا کر بھاگ جاتا ہے۔
​2- سنا ہے عالم بالا میں کوئی کیمیا گر تھا:
ایک سخت مزاج سوشلسٹ لڑکی اور شوخ مزاج نوجوان کی کہانی، لڑکی کا دل لڑکے کے فوج بھی پائلٹ بھرتی ہو کر مرنے تک نہیں پگھلتا لیکن نوجوان کی موت کے بعد ملنے والا خط پڑھ کر قاری کا دل ضرور پگھل کر آنکھیں نم کر دیتا ہے۔ یہ افسانہ ظاہر کرتا ہے کہ قرۃ العین حیدر کس طرح رشتوں کی گہرائیوں کو بیان کرنے کی صلاحیت رکھتی تھیں۔
​3- اودھ کی شام: تقسیم کے موضوع پر لکھا گیا یہ افسانہ دوستی اور جدائی کی ایک دردناک داستان ہے۔ تقسیم کی شب ہے، جم نامی ایک انگریز نوجوان کو اپنے ہندوستانی دوستوں سے بچھڑنا ہے۔ دوستوں کے سیاسی مکالمے پڑھنے سے تعلق رکھتے ہیں۔
​کچھ افسانے جیسے ”ستاروں سے آگے“ اور ”ایں دفتر بے معنی“ میں قرۃ العین حیدر کے بعد کے فکری ارتقاء اور ان کے شاہکار ناولوں کی جھلک صاف نظر آتی ہے یہی وجہ ہے کہ یہ کتاب محض ایک مجموعہ نہیں بلکہ اردو افسانے کی تاریخ میں جدیدیت کا سنگ بنیاد ہے۔ اس میں جہاں کچھ کمزور اور بے ربط کہانیاں ہیں، وہیں ایسی کہانیاں بھی ہیں جو قارئین کو اس عظیم مصنفہ کے ذہن کی سیر کراتی ہیں جن کی تخلیقی بلندیوں کو ان سے پہلے یا بعد میں اب تک اردو کا کوئی اور لکھنے والا نہیں چھو سکا۔
”ستاروں سے آگے“ ہر اس قاری کو ضرور پڑھنی چاہیے جو قرۃ العین حیدر کے فن اور اردو ادب کے ارتقاء کو گہرائی سے سمجھنا چاہتا ہے۔
تبصرہ کتب/قرۃ العین حیدر کا افسانوی مجموعہ/ستاروں سے آگے/تبصرہ نگار/اقصیٰ گیلانی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں