0

پاکستان کی معروف شخصیت عبد الستار ایدھی/تحریر/میمونہ شفقت

سوانح حیات/پاکستان معروف شخصیت عبدالستار ایدھی
تعارف/تحریر/میمونہ شفقت

پاکستانی کی معروف شخصیت عبد الستار ایدھی
جن کو ایدھی فاؤنڈیشن کے نام سے جانا جاتا ہے جن کی پہچان کسی دولت اور شہرت کی وجہ سے نہیں بلکہ دوسروں کی مدد کرنے یتیموں کا سہارا بننے ہر غریب کا سہارا بننے سے بن گئی جنہیں دنیا میں مسلمان ملک کا سب سے بڑا فلاحی کارکن کہا جاتا ہے
پیدائش اور ابتدائی زندگی
عبد الستار ایدھی28 فروری ۔۔1928 کو بھارت کے شہر بانٹوا (ریاست گجرات) میں پیدا ہوئے
وہ متواسط طبقے کے خاندان سے تعلق رکھتے تھے
خدمت خلق کا جذبہ ان میں کوٹ کوٹ کر بھرا تھا
کہا جاتا ہے کہ ان کی والدہ ان کو روز کے دو پیسے دیتیں سکول کے لیے ایک اپنے لیے اور ایک دوسرے کی ذات کیلئے تاکہ کسی کی مدد ہو سکے اور یہیں جذبہ ان کی شخصیات بنا گیا
تعلیم
عبد الستار ایدھی نے ابتدائی تعلیم بانٹوا سے ہی حاصل کی پھر ان کی والدہ بیماری کی وجہ سے بستر پر لگ گی اور فالج جیسی بیماری کے ہونے کی وجہ سے عبد الستار ایدھی اپنی والدہ کی خدمت اور دیکھ بھال میں لگ گئے
پاکستان میں آمد
قیام پاکستان کے بعد 14 اگست 1947 میں ایدھی اپنے خاندان کے ساتھ پاکستان کراچی میں آگے یہاں آکر کام وغیرہ کیے لیکن وہ کاموں سے مطمن نہ ہوۓ
اچانک سے انہوں نے اپنی زندگی کا ایک مقصد بنالیا
محتاج انسانیت کی خدمت
اسی کے ساتھ پھر انہوں نے فلاحی کاموں میں حصہ لینا شروع کیا 1951 میں ایدھی نے ایک نارمل سا کلینک بنایا
پھر ایک پورانی وین خریدی جو ایدھی فاؤنڈیشن کے نام کی پہلی ایمبولینس بنی ۔ان کی زندگی کی دلچسب بات تو یہ ہے کہ انہوں نے اس کام کا ابتدا بھی خود کیا اور ملازم بھی خود بنے پھر اس کو خود چلاتے اور خود ہی مریضوں کو لے کر جاتے آتے مریضوں کا خیال رکھتے
عبد الستار ایدھی کے الفاظ تھے
میں نے کبھی حکومت سے مدد نہیں مانگی
عوام نے مجھے دیا اور میں نے عوام کو واپس کر دیا
ایدھی فاؤنڈیشن کی ترقی اور کامیابی
جیسے جیسے وقت گزرتا رہا ترقی ہوتی چلی گئی اور آخر یہ ادارہ ایک فلاحی ادارہ بن گیا انکی اس خدمات کو جتنا لکھا جائے کم ہے یتیم خانے لنگر خانے عورتوں کے لیے شیلڈ ہوم پھر اسپتال مردہ کیلیے کفن دفن سب تو ایسا ایک عام انسان بھی کر سکتا یہ بتایا ایدھی نے لیکن لباس اور خود کو ہمیشہ سادہ انسان بنا کر رکھا سادگی میں رہے جو انکی بہتریں مثال اور پہچان تھی
اس کے بعد عبد الستار ایدھی نے شادی کی بلقیس اور دونوں نے مل کر لاوارث ون کی یتیموں کی پرورش کی
عالمی سطح پر پہچان
انہیں پاکستان میں خوب عزت ملی
جہاں تک کے اُنہیں Mother Teresa of Pakistan بھی کہا جاتا ہے پھر کہیں ممالک سے ایوارڈ اور اعزاز حاصل ہوۓ
آخری ایام
ایدھی صاحب کو گردوں کی بیماری لگ گی جس کی وجہ سے وہ 8 جولائی 2016 میں کراچی میں وفات پاگۓ
انکی نمازے جنازہ قومی اعزاز کیساتھ ایدھی ویلج میں سپرد خاک کر دیا گیا
انکی زندگی سے حاصل کردہ سبق
ایک عام انسان ایک متوسط گھرانے سے تعلق کے باوجود دوسروں کا سوچنے والے مدد کرنے والے اپنی زندگی کا مقصد رکھا جس میں خدمت خلق کیا انکی زندگی سے پتہ چلتا کہ سادگی ہی اصل پہچان ہے اور سادگی ہی اصل دولت ہے
خدمت خلق صدقہ جاریہ ہے وہ دنیا سے رخصت ہوگئے مگر کام آج بھی جاری ہے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں