0

عرب دنیا کی بے بسی اور پاکستان کا وقار / تحریر /حسنین احمد شیخ

*عرب دنیا کی بے بسی اور پاکستان کا وقار*
حسنین احمد شیخ
گزشتہ دنوں میں خطے میں امن و امان کی فضا ایک بار پھر مجروح ہوئی۔ اسرائیل نے لبنان، شام، تیونس اور خطے کے ایک اہم اورمحفوظ ترین سمجھے جانے والے ملک قطر کی فضائی حدود کی حرمت کو پامال کرتے ہوئے حملے کیے۔ قطر، جو اپنی اقتصادی استحکام، بین الاقوامی کھیلوں کے انعقاد اور امریکہ جیسے سپر پاور کے ساتھ دفاعی معاہدوں کی بدولت محفوظ سمجھا جاتا تھا، اس کی بے حرمتی عالمِ اسلام کے لیے ایک المناک صورت حال ہے۔ قطری وزارت خارجہ کے مطابق اسرائیل کا مجرمانہ حملہ بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ اسرائیل کے شرانگیز حملے نےعوام اور قطر میں مقیم غیر ملکیوں کی سلامتی کو خطرے میں ڈالا ہے۔ ان حملوں کے جواب میں بیشتر اسلامی ممالک کی طرف سے محض زبانی مذمت اور تحریری بیانات تک محدود ردعمل دیکھنے میں آیا، جو المیے کی گہرائی کو واضح کرتا ہے۔ جب آزاد خارجہ پالیسی اپنائی جاتی ہے، تبھی فیصلے قومی وقار کے مطابق ہوتے ہیں۔ قومیں اپنی خودمختاری سے ہی طاقتور بنتی ہیں، دوسروں کے سہارے پر کبھی نہیں۔ اب کاہے کا احتجاج؟ کیا تمہیں یاد نہیں کہ فلسطینیوں کا لہو برسوں سے بہایا جا رہا ہے اور کیسے عرب ریاست کے ایوانوں میں اس پر سناٹا چھایا رہا؟ اسرائیل اور امریکہ کے مظالم پر کوئی عملی احتجاج نہ ہوا، نہ کوئی قدم اٹھایا گیا۔ فلسطین کے معصوم بچوں، عورتوں اور جوانوں پر ظلم و بربریت کے پہاڑ توڑے جا رہے تھے لیکن عالمی ضمیر نہ جاگا۔ مگر آج جب طاقت کے ایوانوں پر خراش آئی ہے تو شور مچایا جا رہا ہے کہ سب مل کر کچھ کریں۔ ظلم جب دوسروں پر ٹوٹ رہا تھا اس وقت کہاں تھی یہ آوازیں؟ کب خاموشی جرم نہ رہی تھی؟ الٹا ان کے مجرم ہاتھوں پر سرخ قالین بچھا دیے گئے، اور مال و دولت کے انبار نچھاور کر دیے گئے۔ کیا یہ بد ترین حقیقت نہیں کہ چار ملین ڈالرز کا ایک قیمتی جہاز تم نے خود امریکی صدر ٹرمپ کو تحفے میں دیا؟ کاش کہ یہ انعامات معصوم غزہ کے عوام کے زخموں پر مرہم رکھنے کے لیے استعمال ہوتے تو آج تاریخ تمہیں عزت سے یاد کرتی۔ مگر ہم نے اپنے مفاد کو انسانیت پر ترجیح دی، اور یہی ہماری سب سے بڑی ہزیمت ہے۔ جب اپنے ہی ہاتھوں ظالم کو طاقت ملے تو پھر مظلوم کی چیخیں آسمان سے ٹکرا کر بھی زمین پر گونجتی نہیں۔ یہ کہنا محض فریب ہے کہ امریکہ لاعلم ہے، حقیقت تو یہ ہے کہ اسرائیل کے ہر ظلم کے پیچھے امریکی رضامندی اور مشاورت کارفرما ہے۔ اسرائیل کے پاس موجود اسلحہ، جدید ٹیکنالوجی اور سفارتی پشت پناہی سب کچھ امریکہ کی عنایت و عطا ہے۔ یہ وہ سچ ہے جسے چھپایا نہیں جا سکتا کہ اسرائیل امریکہ کے اشاروں کے بغیر ایک قدم بھی نہیں بڑھا سکتا۔ یہ سب مکاری ہے، ایک طے شدہ کھیل، جسے دنیا کے سامنے سادہ اتفاق کے پردے میں پیش کیا جا رہا ہے۔ یہ وہ لمحہ ہے جب قرآن پاک کے اس حکم پر غور کرنا ازحد ضروری ہو جاتا ہے: “اے ایمان والو! یہود و نصاریٰ کو دوست نہ بناؤ، وہ آپس میں ایک دوسرے کے دوست ہیں، اور جو شخص ان میں سے کسی کو دوست بنائے گا، وہ انہی میں سے ہے۔ بیشک اللہ ظالموں کو ہدایت نہیں دیتا” (سورہ المائدہ:51)
قرآن کے خبردار کرنے کے باوجود دولت اور غرور نے تمہیں اندھا کر دیا۔ تم نے کتابِ خدا کی تنبیہ کو پسِ پشت ڈال کر انہی کو اپنا سہارا بنا لیا جو تمہارے ایمان اور عزت کے دشمن ہیں۔ یہ حقیقت ہم صدیوں سے دیکھتے آئے ہیں کہ مغرب کی سازشوں نے امت کو کمزور کیا ہے۔ شاعر مشرق ڈاکٹر علامہ محمد اقبال نے کیا خوب کہا تھا:
فریاد ز افرنگ و دل آویزی افرنگ
فریاد ز شیرینی و پرویزی افرنگ
عالم ہمہ ویرانہ ز چنگیزی افرنگ
معمارِ حرم! باز بہ تعمیرِ جہاں خیز
از خواب گراں، خواب گراں، از خواب گراں خیز
یہ محض ایک تحریر نہیں بلکہ ایک فریادِ ضمیر ہے: یاد رکھو! اللہ بہت سمیع و بصیر ہے، وہ سب سنتا اور دیکھتا ہے۔ وہ جبار ہے، قہار ہے۔ اس کے انصاف کی پکڑ سخت ہے اور اس کے غضب سے کوئی بچ نہیں سکتا۔ اگر آج تم نے اپنے رویے نہ بدلے تو کل تاریخ تمہیں منافقت اور بے وفائی کی علامت بنا کر لکھے گی۔ قطر میں امریکی فوجی اڈے کی موجودگی ایک سوالیہ نشان ہے۔ جب تک غیر ملکی افواج آپ کے گھر کے صحن میں ڈیرے ڈالے بیٹھی ہوں، آزادی کا دعویٰ ادھورا ہی رہے گا۔ سب سے پہلا قدم یہی ہونا چاہیے کہ قطری حکومت امریکی افواج کو رخصت کرے اور غلامی کی زنجیروں کو توڑ کر حقیقی خود مختاری اختیار کرے۔ اگر قطر اور دیگر مسلم ممالک اس جرات مندانہ فیصلے کی طرف بڑھیں تو پھر اسرائیل جیسے غاصب کے علاج اور امت کے اجتماعی دفاع کی راہیں بھی کھل سکتی ہیں۔ اگر عرب ممالک امریکی و یورپی دباؤ کا مقابلہ کرنا چاہیں تو فوراً پالیسی بدلیے: تیل کی فروخت ڈالر کے بجائے متبادل کرنسیوں میں کیجیے یا وقتی طور پر سپلائی محدود کریں، دنیا کا توازن بدل جائے گا۔ مگر اس کے لیے پہلی شرط قیادت میں غیرت، دانش اور عوامی مفاد کو فوقیت دینا ہے؛ جب تک دولت عیش و عشرت میں گم رہے گی، حقیقی خود مختاری خواب ہی رہے گی۔ آج جب عرب ممالک اپنی بے حرمتی کا شکار ہیں تو ان کی بے بسی انتہائی درد ناک ہے۔ کسی زمانے میں جن کی تلواریں دشمن کے لیے خوف کا سبب تھیں، آج وہی تلواریں مادی عیش و عشرت اور داخلی مفادات کے زنگ سے کند ہو چکی ہیں۔ اتحاد کی کمی، آپسی اختلافات اور وقتی مفادات نے ہمیں کمزور کر دیا ہے۔ قطر پر حملہ ثابت کرتا ہے کہ ریال ، دینار ، پیٹرول گیس بلند و بالا عمارتوں کی کوئی وقعت نہیں اصل چیز جدید اسلحہ اور تگڑا جہاد ہے۔ وقتِ تحرّک ہے، قطر اور تمام مسلم اقوام کو چاہیے کہ اپنے سرکاری پلیٹ فارمز پر ایک نیا اعتماد پروان چڑھائیں۔ یہ وہ منظر نامہ ہے جہاں ایک اسلامی ملک پاکستان اپنی منفرد اور بے باک خارجہ پالیسی کے باعث امتِ مسلمہ میں نمایاں نظر آتا ہے جو مرمت پہلے اور مذمت بعد میں کرتا ہے۔
یاد رہے کہ مئی کے مہینے میں ہی ایک اور متشدد جارحیت کا مظاہرہ دیکھنے میں آیا تھا، جب ہندوستان نے پاکستان پر فضائی حملہ کیا۔ اس وقت پاکستان کی مسلح افواج کا واضح اور دو ٹوک بیان آیا: “Just wait for our response” اور پھر دنیا نے دیکھا کہ کس طرح معاشی تنگدست مگر ایمانی طاقت سے بھرپور ایک ریاست نے اپنے سے چھ گنا بڑے ایٹمی ملک کو محض چار گھنٹوں کے اندر جنگ میں جوابی کاروائی کر کے نہ صرف گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کیا بلکہ اپنی فضائی برتری اور دفاعی استحکام کا لوہا بھی منوایا۔ یہ وہ لمحہ تھا جب پاکستان نے ثابت کیا کہ حقیقی طاقت معیشت کے عددی حجم میں نہیں، بلکہ عزم، جانثاری اور منظم قوت میں ہے۔ مسلم قوتوں کو سمجھنا چاہیے کہ موجودہ دور میں اگر کوئی ملک ان کا محافظ بن سکتا ہے تو وہ پاکستان ہے، جس کی فوج نے اپنی صلاحیتوں کا بارہا ثبوت دیا ہے۔ لہٰذا وقت کا تقاضا ہے کہ تمام اسلامی ممالک، خاص طور پر عرب ریاستیں، پاکستان کے ساتھ مضبوط دفاعی معاہدے کریں تاکہ کوئی بھی متشدد قوت ان کی طرف میلی آنکھ سے دیکھنے کی جرات نہ کر سکے۔ پاکستان نہ صرف اپنی جغرافیائی سرحدوں کی حفاظت کر رہا ہے بلکہ یہ اسلام اور کفر کے درمیان ایک مضبوط فصیل کی حیثیت بھی رکھتا ہے۔ پاک فوج کے تجربہ کار، ریٹائرڈ افسران کو عبوری شہریت یا خصوصی اعزاز دے کر سکیورٹی امور کی ذمہ داری سونپی جائے۔ یہ محض ایک عملی پیشکش نہیں، بلکہ ایک سٹریٹجک اعادۂ عزت ہے۔ ایسے اہلِ فن جن کے تجربے، ٹریننگ اور نظم و ضبط نے امن و استحکام کے لیے سالہا سال خدمات انجام دیں، انہیں موقع دیا جائے کہ وہ اپنے تجربے سے دیگر مسلم ریاستوں کی حفاظت کو باوقار انداز میں تقویت بخشیں۔ الحمدللہ، ہمیں اپنی افواج پر ناز ہے، دفاعی معالجہ، سیکیورٹی پلاننگ اور جدید تربیتی نظام وہ ہنر ہے جو ہماری افواج کے پاس دستیاب ہے۔ نہ کوئی بڑائی دکھانے کا کھیل، نہ کوئی عرب ساحلوں پر عطر لگانے کی شوخیاں، بلکہ عملی، منظم اور مؤثر خدمات کا پیشِ نظر حل۔ جب بھی کوئی دفاعی یا سکیورٹی معاہدہ طے پانے والا ہو تو پہلے ہمارے تجربہ کار عسکری مشیروں کی رائے لی جائے۔ کیونکہ تجربہ محض الفاظ کا مجموعہ نہیں، بلکہ قوموں کی حفاظت کا ٹھوس ضابطہ ہوتا ہے۔ پاکستان واحد اسلامی ریاست ہے جس نے اپنی عسکری طاقت اور ایمانی قوت سے دنیا کو یہ پیغام دیا ہے کہ وہ کسی بھی جارحیت کا دندان شکن جواب دینے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ آخر میں، یہ وقت ہے کہ مسلمان فیصلہ کریں: کیا ہم غلامی کی زنجیروں میں جکڑے رہیں گے یا اپنے ضمیر کو بیدار کر کے انسانیت، انصاف اور عزت کا پرچم بلند کریں گے؟

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں