جمع تقسیم/ڈرامہ/تبصرہ نگار/جویریہ ساجدتقریباً منت مراد کی طرز کا ڈرامہ ہے جس کا ہیرو بھی سیم ہے کم از کم ایک جیسی سٹوری میں کاسٹ اور خصوصاً ہیرو کو تو ضرور ہی بدلنا چاہیے تھا ویسے بھی ایکٹنگ کے لحاظ سے ایوریج لڑکا ہے
کہانی وہی اکلوتی امیر لڑکی اور لمبے چوڑے جوائنٹ فیملی سسٹم والا لڑکا۔
کلچرل ڈفرینس بہت بڑا ڈفرینس ہے محبت وغیرہ کچھ نہیں ہوتی انسان کو شادی سے پہلے حقیقت پسندی سے سسرال کے حالات کا جائزہ لے لینا چاہیے
لڑکیاں سمجھتی ہیں محبت کے سہارے زندگی گزار لیں گی سب پہاڑ سر کر لیں گی شادی کے بعد سب سے گمشدہ چیز ‘ محبت’ ہوتی ہے کون سے محبت کیسی محبت۔
اور جب محبت نکل گئی تو رہ کیا گیا اس رشتے میں۔ لمبے چوڑے سسرال کی خدمت، کام کام کام اور تسلیاں۔
ایک ٹیپیکل ذہنیت کا لڑکا جو اسے ہر دن صرف ایک تسلی دیتا ہے تم آہستہ آہستہ عادی ہو جاؤ گی۔
کام کرنا معیوب بات نہیں مگر آپ عادی ہوں اسی طرح کے بیک گراؤنڈ سے آئی ہوں فیملی سسٹم کو سمجھتی ہوں اکلوتا ہونے کی وجہ سے خاندان والے ایلین نا لگتے ہوں
اور میاں اتنا ساتھ دینے والا ہو کہ آپ کے لیے غلط باتوں پر سٹینڈ لے سکے کم از کم کمرے کا دروازا لاک کر سکے۔
سارا دن بیوی کو نا بتائے میرے گھر والے میری جان ہیں ان کے دل جیتو انکا خیال رکھو۔ مطلب دیکھا کیا آپ نے اس مخنچو میں جو سو کالڈ محبت میں بھاگی بھاگی چلی آئیں۔
ڈرامہ ٹیپیکل ہے کہانی پرانی ہے مگر ریلیٹ ایبل ہے۔ ایویں ہی دیکھانا چاہیں تو دیکھ لیں۔
میرا خیال ہے اب ان ٹیپیکل کہانیوں کے بجائے دیکھانا یہ چاہیے کہ سمجھدار لڑکی جوائنٹ فیملی کو کیسے ڈیل کرتی ہے
رشتوں کو کیسے برتتی ہے کہاں کمپرومائز کرتی ہے کہاں ڈٹ کے کھڑی ہوتی ہے
اور یہ بھی کہ ایسے میں لڑکوں کا رول کیا ہونا چاہیے اب دو ایکسٹریم دیکھانا بند کریں یا لڑکیاں چالاک یا بدھو اس کے درمیان میں رہنا سیکھائیں سمجھداری سیکھائیں۔