روحانی باپ، ہماری بے قدری/تحریر/محمد اعظم خان“چاہے تدریس آپ کا پہلا انتخاب نہ ہو، مگر اسے اخلاص سے نبھائیں، کیونکہ یہ پیشہ رزق کے لیے نہیں بلکہ رضائے الٰہی کے لیے ہے، اور روزی کا وعدہ تو اللہ نے خود کیا ہے۔”
اسلام میں معلم کا مقام بے حد عظیم ہے۔ رسول اکرم ﷺ نے معلم کو وہ درجہ عطا کیا کہ انہیں روحانی باپ قرار دیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ میں تمہارے لیے معلم بنا کر بھیجا گیا ہوں۔ اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ تعلیم دینا محض ایک پیشہ نہیں بلکہ عبادت اور صدقۂ جاریہ ہے۔ استاد ہی وہ ہستی ہے جو نسلوں کی فکری، اخلاقی اور روحانی بنیادیں استوار کرتا ہے۔ لیکن افسوس کہ جس قوم کو اپنے معلم کو سب سے زیادہ عزت دینی چاہیے تھی، آج وہی قوم اپنے اس روحانی باپ کی بے قدری میں سب سے آگے دکھائی دیتی ہے۔
پاکستان جیسے ملک میں تدریس کو اکثر وہ لوگ اپناتے ہیں جو دیگر پیشہ ورانہ میدانوں میں آگے نہ بڑھ سکے۔ یہ حقیقت اپنی جگہ تلخ ہے کہ ہمارے معاشرے میں تدریس کو آخری آپشن سمجھا جاتا ہے۔ بیشتر افراد محض مجبوری یا محدود مواقع کی بنا پر اس شعبے میں آ جاتے ہیں۔ وہ ابتدا میں دوسرے شعبوں کی طرف دیکھتے ہیں، لیکن جب کامیابی نہ ملے تو تدریس کو اختیار کر لیتے ہیں۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ اکثر اساتذہ اپنے پیشے کو دل سے اپنانے کے بجائے اسے روزگار کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔
اسلامی تعلیمات اس تصور کی نفی کرتی ہیں۔ اسلام میں استاد کا مقام والدین کے بعد سب سے اہم ہے۔ استاد کو روحانی والد کہا گیا ہے کیونکہ وہ نہ صرف علم دیتا ہے بلکہ شاگرد کی شخصیت، کردار اور سوچ کو بھی تشکیل دیتا ہے۔ امام غزالیؒ نے اپنی کتاب ’’احیاء العلوم‘‘ میں استاد کو چراغ سے تشبیہ دی ہے جو دوسروں کے لیے روشنی دیتا ہے خواہ خود جل کر ختم ہو جائے۔ اس اعتبار سے تدریس محض ایک پیشہ نہیں بلکہ ایک مقدس مشن ہے۔
اگر ہم پاکستان میں تدریس کی معاشی حالت کا جائزہ لیں تو صورتحال نہایت افسوسناک نظر آتی ہے۔ دیہی اور پسماندہ علاقوں میں ماسٹر ڈگری یافتہ اساتذہ کو اوسطاً پندرہ سے پچیس ہزار روپے ماہانہ تنخواہ دی جاتی ہے۔ یہ اعداد و شمار حیران کن ہیں کیونکہ پاکستان میں کم از کم یومیہ اجرت اس سے کہیں زیادہ ہے۔ دوسرے لفظوں میں ایک ہنر مند مزدور کی روزانہ آمدنی بعض اوقات ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ استاد کی ماہانہ تنخواہ کے برابر ہو جاتی ہے۔ یہی وہ تضاد ہے جس نے تدریس کے وقار کو مجروح کیا ہے۔
تنخواہوں کی اس ناانصافی کی وجہ سے بہت سے اساتذہ شام کو ٹیوشن پڑھانے یا پرائیویٹ کوچنگ سینٹرز سے وابستہ ہو جاتے ہیں تاکہ اپنے خاندان کی ضروریات پوری کر سکیں۔ یوں تدریس کا اصل مقصد پس منظر میں چلا جاتا ہے اور معاشی دباؤ اساتذہ کو تھکا دیتا ہے۔ نتیجتاً وہ اپنی اصل ذمہ داری یعنی معیاری تعلیم اور شاگردوں کی شخصیت سازی پر بھرپور توجہ نہیں دے پاتے۔
یہ مسئلہ صرف ایک صوبے یا علاقے تک محدود نہیں۔ پنجاب، سندھ، خیبر پختونخوا اور بلوچستان، سبھی جگہوں پر دیہی اور دور دراز علاقوں کے اساتذہ اسی کسمپرسی کا شکار ہیں۔ ان کے پاس وسائل کی کمی ہے، سہولیات نہ ہونے کے برابر ہیں، اور اکثر اوقات اسکولوں کی عمارتیں بھی خستہ حال ہیں۔ اس کے باوجود وہ تعلیم کے چراغ کو جلائے رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔
تعلیمی ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ اگر کسی بچے کی ابتدائی تعلیم مضبوط نہ ہو تو وہ آگے چل کر اعلیٰ تعلیم میں نمایاں کارکردگی نہیں دکھا سکتا، الا یہ کہ اس کے پاس غیر معمولی ذہانت ہو۔ لیکن عام طلبہ کے لیے بنیادی تعلیم ہی کامیابی کی کنجی ہے۔ اگر دیہی علاقوں میں نچلی سطح پر تعلیم دینے والے اساتذہ کمزور یا غیر سنجیدہ ہوں تو طلبہ کی بنیاد ہی کمزور رہ جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ شہروں کے چند پرائیویٹ ادارے تو بہترین نتائج دیتے ہیں لیکن ملک کی اکثریت تعلیم کے میدان میں پیچھے رہ جاتی ہے۔
یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر تدریس اتنی مشکل اور غیر منافع بخش ہے تو پھر اساتذہ کیا کریں؟ جواب اسلامی نقطۂ نظر سے بالکل واضح ہے۔ چاہے تدریس ان کا پہلا انتخاب نہ بھی ہو، مگر جب وہ اس شعبے میں قدم رکھیں تو اخلاص کے ساتھ رکھیں۔ انہیں چاہیے کہ وہ اپنے پیشے کو محض روزگار کا ذریعہ نہ سمجھیں بلکہ اسے عبادت اور خدمتِ خلق کا ذریعہ بنائیں۔ رزق کی کمی بیشی کا ذمہ اللہ تعالیٰ نے لیا ہے، اور وہی سب سے بہتر روزی دینے والا ہے۔
اگر اساتذہ اخلاص کے ساتھ پڑھائیں تو وہ معاشرے میں ایک عظیم انقلاب لا سکتے ہیں۔ ایک مخلص استاد ایک پورے معاشرے کو بدل سکتا ہے۔ آج پاکستان کو سب سے زیادہ ضرورت ایسے ہی اساتذہ کی ہے جو حالات کی تلخیوں کے باوجود اپنی ذمہ داری پوری کریں اور نئی نسل کے دلوں میں علم، کردار اور ایمان کی روشنی پیدا کریں۔